1حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .
Zaid bin Khalid Al-Juhani narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Shall l not inform you of the best of witnesses? The one who comes with his testimony before being asked for it
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“ ۱؎۔
2حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، نَحْوَهُ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ وَاخْتَلَفُوا عَلَى مَالِكٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ وَهَذَا أَصَحُّ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَيْضًا وَأَبُو عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَلَهُ حَدِيثُ الْغُلُولِ وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ .
(Another chain) from Malik in which he said:Ibn Abi 'Amrah
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ۳- اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں ۱؎۔
3حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ الشُّهَدَاءِ مَنْ أَدَّى شَهَادَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Zaid bin Khalid Al-Juhani narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The best of witnesses is the one who gives his testimony before being asked for it
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
5حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَسَدِيِّ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : (وَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ . وَلاَ نَعْرِفُ لأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Ayman bin Khuraim narrated that the Prophet (s.a.w) stood to give a Khutbah and said:"O you people False witness is tantamount to Shirk with Allah" Then the Messenger of Allah (s.a.w)recited: So shun the Rijs of the idols, and shun false speech
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» ”تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ( ان کی پرستش نہ کرو ) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو“ ( الحج: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
6حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ (وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ . وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ .
Khuraim bin Fatik Al-Asadi narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) performed the Subh (Fajr)prayer. Then when he turned he got up to stand and said:"O you people! False witness is tantamount to Shirk with Allah."Saying it three times, then he recited this Ayah And shun false speech Until the end of the Ayah
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
7حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " . قَالَ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated from his father that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Shall I not inform you of the greatest of the major sins?" They said: "Of course O Messenger of Allah(s.a.w)!" He said: "Shirk with Allah disobeying parents, and false testimony." Or: "False speech" He said: "So the Messenger of Allah(s.a.w) would not stop saying it until we said ( to ourselves): 'I wish he would be quiet
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بڑے بڑے ( کبیرہ ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا“، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے۔
8حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلاَثًا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ مِنْ بَعْدِهِمْ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ وَأَصْحَابُ الأَعْمَشِ إِنَّمَا رَوَوْا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ .
Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah(s.a.w)said:"The best of people are my generation, then those who follow them,then those who follow them, then those who follow them."(He(s.a.w)said that) three times. "Then, after them a people will come who increase in fatness, loving fatness, giving testimony before they are asked for it
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں ( یعنی صحابہ ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ( یعنی تابعین ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ( یعنی اتباع تابعین ) ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ۲- اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔
9حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ يِسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ . قَالَ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ " يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " . إِنَّمَا يَعْنِي شَهَادَةَ الزُّورِ يَقُولُ يَشْهَدُ أَحَدُهُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَشْهَدَ وَبَيَانُ هَذَا فِي [الحديث التالي]
Another chain on the authority of 'Imran bin Husain narrates a similar narration
10حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلاَ يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفُ الرَّجُلُ وَلاَ يُسْتَحْلَفُ " . وَمَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " . هُوَ عِنْدَنَا إِذَا أُشْهِدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّىْءِ أَنْ يُؤَدِّيَ شَهَادَتَهُ وَلاَ يَمْتَنِعَ مِنَ الشَّهَادَةِ هَكَذَا وَجْهُ الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ . كَمُلَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كِتَابُ الشَّهَادَاتِ وَيَلِيهِ كِتَابُ الزُّهْدِ
Clarification of this is in the Hadith of 'Umar bin Al-Khattab, from the Prophet(s.a.w) who said:"The best of people are my generation, then those who follow them,then those who follow them. Then lying will spread, until a man testifies while his testimony was not requested, and a man will take an oath while an oath was not sought
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا“۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی ( حق بات کی خاطر ) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔