101عبدہ بن سلیمان ، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔
1حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلاَ نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
Alqama reported:While I was walking with 'Abdullah at Mina, 'Uthman happened to meet him. He stopped there and began to talk with him. Uthman said to him: Abu 'Abd al-Rahman, should we not marry you to a young girl who may recall to you some of the past of your bygone days; thereupon he said: If you say so, Allah's Messenger (ﷺ) said: 0 young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes from casting (evil glances). and preserves one from immorality; but those who cannot should devote themselves to fasting for it is a means of controlling sexual desire
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ س ے ان کی ملاقات ہوئی ، وہ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اِن سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید وہ آپ کو آپ کا وہی زمانہ یاد کرا دے جو گزر چکا ہے؟ کہا : تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو ( اس سے پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا : " اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والی اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے خواہش کو قابو میں کرنے کا ذریعہ ہے
2حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ إِنِّي لأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَاسْتَخْلاَهُ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ - قَالَ - قَالَ لِي تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ - قَالَ - فَجِئْتُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلاَ نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
Alqama reported:While I was going along with 'Abdullah b. Ma'sud (Allah he pleased with him) in Mina, 'Uthman b. 'Affan (Allah be pleased with him) happened to meet him and said: Come here, Abu 'Abd al-Rahman (kunya of Abdullah b. Mas'ud), and he isolated him (from me), and when 'Abdullah (b. Mas'ud) saw that there was no need (for this privacy), he said to me: 'Alqama, come on, and so I went there. (Then) 'Uthman said to him: Abu Abd al-Rahman, should we not marry you to a virgin girl that your past may be recalled to your mind? 'Abdullah said: If you say so, the rest of the hadith is the same as narrated above
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا : میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن! ( میرے ساتھ ) آئیں ۔ کہا : وہ انہیں تنہائی میں لے گئے ۔ جب عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس ( تنہائی ) کی ضرورت نہیں ، تو انہوں نے مجھے بلا لیا ۔ ( کہا : ) علقمہ آ جاؤ! میں آ گیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید یہ آپ کے دل کی اسی کیفیت کو لوٹا دے جو آپ ( عہد جوانی ) میں محسوس کرتے تھے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے ۔ ۔ ۔ پھر ابومعاویہ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
3حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
Abdullah (b. Mas'ud) (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to us:0 young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes (from casting evil glances) and preserves one from immorality; but he who cannot afford It should observe fast for it is a means of controlling the sexual desire
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمنگاہ کی حفاظت کرنے میں ( دوسری چیزوں کی نسبت ) بڑھ کر ہے ، اور جو استطاعت نہ پائے ، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے
4حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي، عَلْقَمَةُ وَالأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ وَأَنَا شَابٌّ، يَوْمَئِذٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ، مِنْ أَجْلِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَزَادَ قَالَ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ .
Abu al-Rahman b. Yazid said:I and my uncle 'Alqama and al-Aswad went to 'Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him). He (the narrator further) said: I was at that time young, and he narrated a hadith which it seemed he narrated for me that Allah's Messenger (ﷺ) said like one transmitted by Mu'awiya, and further added: I lost no time in marrying
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید ( بن قیس ) سے روایت کی ، کہا : میں ، میرے چچا علقمہ ( بن قیس ) اور ( میرے بھائی ) اسود ( بن یزید بن قیس ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ کہا : میں ان دنوں جوان تھا ۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی ، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ انہوں نے میری وجہ سے بیان کی ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابومعاویہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ اور ( یہ ) اضافہ کیا ، کہا : اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی
5حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ .
Abd al-Rahman b. Yazid reported on the authority of Abdullah:We went to him, and I was the youngest of all (of us), but he did not mention:" I lost no time in marrying
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( عبدالرحمان بن یزید نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں سب سے کم عمر تھا ، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے ، ( مگر ) انہوں نے یہ نہیں کہا : " اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی
6وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ آكُلُ اللَّحْمَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ . فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ . فَقَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that some of the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) asked his (the Prophet's) wives about the acts that he performed in private. Someone among them (among his Companions) said:I will not marry women; someone among them said: I will not eat meat; and someone among them said: I will not lie down in bed. He (the Holy Prophet) praised Allah and glorified Him, and said: What has happened to these people that they say so and so, whereas I observe prayer and sleep too; I observe fast and suspend observing them; I marry women also? And he who turns away from my Sunnah, he has no relation with Me
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا ، پھر ان میں سے کسی نے کہا : میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا ، کسی نے کہا : میں گوشت نہیں کھاؤں گا ، اور کسی نے کہا : میں بستر پر نہیں سوؤں گا ۔ ( آپ کو پتہ چلا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی ، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا : " لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے ۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں ، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جس نے میری سنت سے رغبت ہٹا لی وہ مجھ سے نہیں
7وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) reported:The Messengger of Allah (ﷺ) rejected (the idea) of Uthman b. Muz'unliving in celibacy (saying): And if he (the Holy Prophet) had given me permission We would have got ourselves castrated
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کی ( طرف سے ) نکاح کو ترک کر کے عبادت میں مشغولیت ( کے ارادے ) کو مسترد فرما دیا ۔ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خود کو خصی کر لیتے
8وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ رُدَّ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلُ وَلَوْ أُذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'id b. al-Musayyib reported:I heard Sa'd (b. Abi Waqqas) saying that the idea of 'Uthman b. Maz'un for living in celibacy was rejected (by the Holy Prophet), and if he had been given permission they would have got themselves castrated
ابراھیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث بیان کی انہو ں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے سعد سے سنا وہ کہہ رہے تھے ’’عثمان بن معون رضی اللہ عنہ کے ترک نکاح کو ( ارادے کو ) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رد کر دیا گیا ‘ اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم سب خصی ہو جاتے
9حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'id b. al Musayyib heard Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) saying that Uthman b. Maz'un decided to live in celibacy, but Allah's Messenger (ﷺ) forbade him to do so, and if he had permitted him, we would have got ourselves castrated
عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : عثمان بن معثون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ ( عبادے کے لئے نکاح اور گھرداری سے ) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا ، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے
10حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهْىَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ " .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw a woman, and so he came to his wife, Zainab, as she was tanning a leather and had sexual intercourse with her. He then went to his Companions and told them:The woman advances and retires in the shape of a devil, so when one of you sees a woman, he should come to his wife, for that will repel what he feels in his heart
ہشام بن ابی عبداللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ وہ اپنے لیے ایک چمڑے کو رنگ رہی تھیں ، آپ نے ( گھر میں ) اپنی ضرورت پوری فرمائی ، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے ، اور فرمایا : " بلاشبہ ( فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے ) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے ۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہتا دے گی جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے ،
11حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي، الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهْىَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً . وَلَمْ يَذْكُرْ تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw a woman; and the rest of the hadith was narrated but (with this exception) that he said he came to his wife Zainab, who was tanning a (piece of) leather, and he made no mention of:" She retires in the shape of satan
حرب بن ابوعالیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ، البتہ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کو رنگ رہی تھیں ۔ اور یہ نہیں کہا : " وہ شیطان کی صورت میں واپس آ جاتی ہے
12وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ " .
Jabir heard Allah's Apostle (ﷺ) say:When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels
معقل نے ابوزبیر سے روایت کی ، کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی کو ، کوئی عورت اچھی لگے ، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے ، بلاشبہ یہ ( عمل ) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے
13حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، وَابْنُ، بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:We were on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and 'Abdullah then recited this verse: 'Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Qur'an, v)
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا : میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قیس سے روایت کی ، کہا : میں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، تو ہم نے ( آپ سے ) دریافت کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے ( یا ضرورت کی کسی اور چیز ) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ آیت ) تلاوت کی : " اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
14وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الآيَةَ . وَلَمْ يَقُلْ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that 'Abdullah recited it
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا : " پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی ۔ " انہوں نے ( نام لے کر " عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھی " نہیں کہا)
15وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْتَخْصِي وَلَمْ يَقُلْ نَغْزُو .
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters (and the words are):" We were young, so we said: Allah's Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور کہا : ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو ( ہم جہاد کرتے تھے ) کے الفاظ نہیں کہے
16وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا . يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ .
Jabir b. 'Abdullah and Salama b. al-Akwa' said:There came to us the proclaimer of Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger (ﷺ) has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women
شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے
17وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ .
Salama b. al. Akwa' and Jabir b. Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to us and permitted us to contract temporary marriage
روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حسن بن محمد سے ، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ( اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا ) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی
18وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قَالَ عَطَاءٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمِ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
Ibn Uraij reported:'Ati' reported that jibir b. Abdullah came to perform 'Umra, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Prophet (ﷺ) and during the time of Abu Bakr and 'Umar
عطاء نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا
19حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported:We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dower during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and durnig the time of Abu Bakr until 'Umar forbade it in the case of 'Amr b. Huraith
مجھے ابوزبیر نے خبر دی ، کہا : میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض چند دنوں کے لئے متعہ کرتے تھے ، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حُریث کے واقعے ( کے دوران ) میں اس سے منع کر دیا
20حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا .
Abu Nadra reported:While I was in the company of Jabir b. Abdullah, a person came to him and said that Ibn 'Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mut'as (Tamattu' of Hajj 1846 and Tamattu' with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them
ابونضرہ سے روایت ہے ، کہا : میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا ( ملاقاتی ) آیا اور کہنے لگا : حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے دونوں متعتوں ( حج تمتع اور نکاح متعہ ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے ۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا ، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا
21حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلاَثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا .
Iyas b. Salama reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it
ایاس بن سلمہ نے اپنے والد ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے سال تین دن متعے کی اجازت دی ، پھر اس سے منع فرما دیا
22وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَبْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِي فَقُلْتُ رِدَائِي . وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي . وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَ كُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَىَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي . فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا " .
Sabra Juhanni reported:Allah's Messenger (ﷺ) permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana 'Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off
لیث نے ہمیں ربیع بن سبرہ جہنی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سبرہ ( بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نکاح ) متعہ کی اجازت دی ۔ میں اور ایک آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے ، وہ جوان اور لمبی گردن والی خوبصورت اونٹنی جیسی تھی ، ہم نے خود کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا : کیا دو گے؟ میں نے کہا : اپنی چادر ۔ اور میرے ساتھی نے بھی کہا : اپنی چادر ۔ میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے بہتر تھی ، اور میں اس سے زیادہ جوان تھا ۔ جب وہ میرے ساتھی کی چادر کی طرف دیکھتی تو وہ اسے اچھی لگتی اور جب وہ میری طرف دیکھتی تو میں اس کے دل کو بھاتا ، پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا : تم اور تمہاری چادر ہی میرے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعد میں تین دن اس کے ساتھ رہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے ، جن سے وہ متعہ کرتا ہے ، کوئی ( عورت ) ہو ، تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے
23حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ - ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ - فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلاَهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلاَنِ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ . فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ . ثَلاَثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Rabi' b. Sabra reported that his father went on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) during the Victory of Mecca, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allah's Messenger (ﷺ) permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloaks, My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Mecca, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said:Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allah's Messenger (ﷺ) declared it forbidden
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کیا : ہمیں عمارہ بن غزیہ نے ربیع بن سبرہ سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی ، کہا : ہم نے وہاں پندرہ روز ۔ ۔ ۔ ( الگ الگ دن اور راتیں گنیں تو ) تیس شب و روز ۔ ۔ قیام کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی ، چنانچہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نکلے ۔ مجھے حسن میں اس پر ترجیح حاصل تھی اور وہ تقریبا بدصورت تھا ۔ ہم دونوں میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی ، میری چادر پرانی تھی اور میرے چچا زاد کی چادر نئی ( اور ) ملائم تھی ، حتی کہ جب ہم مکہ کے نشیبی علاقے میں یا اس کے بالائی علاقے میں پہنچے تو ہماری ملاقات لمبی گردن والی جوان اور خوبصورت اونٹنی جیسی عورت سے ہوئی ، ہم نے کہا : کیا تم چاہتی ہو کہ ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کرے؟ اس نے کہا : تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ اس پر ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی چادر ( اس کے سامنے ) پھیلا دی ، اس پر اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اس کو دیکھنے لگا اور اس کے پہلو پر نظریں گاڑ دیں اور کہنے لگا : اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور ملائم ہے ۔ اس پر وہ کہنے لگی : اس کی چادر میں بھی کوئی خرابی نہیں ۔ تین بار یا دو بار یہ بات ہوئی ۔ پھر میں نے اس سے متعہ کر لیا اور پھر میں اس کے ہاں سے ( اس وقت تک ) نہ نکلا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( متعے کو ) حرام قرار دے دیا
24وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ . وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاكَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ .
Rabi' b. S'abra al-jahanni reported on the authority of his father. We went with Allah's Messenger (ﷺ) to Mecca during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition:" She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it:" He said: The cloak of this (man) is old and worn out
ہمیں وُہَیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عُمارہ بن غزیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : فتح مکہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ، آگے بشر کی حدیث کے مانند بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : اس عورت نے کہا : کیا یہ ( متعہ ) جائز ہے؟ اور اسی ( روایت ) میں ہے : ( میرے ساتھی نے ) کہا : اس کی چادر پرانی بوسیدہ ہے
25حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاِسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَىْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلاَ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" .
Sabra al-Juhani reported on the authority of his father that while he was with Allah's Messenger (ﷺ) he said:O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن عمر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگو! بےشک میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی ، اور بلاشبہ اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے ، اس لیے جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ( عورت موجود ) ہو تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے ، اور جو کچھ تم لوگوں نے انہیں دیا ہے اس میں سے کوئی چیز ( واپس ) مت لو
26وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-'Aziz b 'Umar with the same chain of transmitters, and he said:I saw Allah's Messenger (ﷺ) standing between the pillar and the gate (of the Ka'ba) and he was relating a hadith as narrated by Ibn Numair
عبدہ بن سلیمان نے عبدالعزیز بن عمر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود اور ( بیت اللہ کے ) دروازے کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا ، اور آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن نمیر کی حدیث کی طرح ہے
27حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَا.
Abd al-Malik b. Rabi' b. Sabraal-Juhanni reported on the authority of his father who narrated it on the authority of his father (i e. 'Abd al-Malik's grandfather, Sabura al-Juhanniy Allah's Messenger (ﷺ) permitted us to contract temporary marriage in the Year of Victory, as we entered Mecca, and we did come out of it but he forbade us to do it
عبدالملک بن ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نکاح ) متعہ ( کے جواز ) کا حکم دیا ، پھر ابھی ہم وہاں سے نکلے نہ تھے کہ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا
28وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ - قَالَ - فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي فَكُنَّ مَعَنَا ثَلاَثًا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهِنَّ .
Sabra b. Ma'bad reported that Allah's Apostle (ﷺ) permitted his Companions to contract temporary marriage with women in the Year of Victory. So I and a friend of mine from Banu Sulaim went out, until we found a young woman of Banu Amir who was like a young she-camel having a long neck. We proposed to her for contracting temporary marriage with us, and presented to her our cloaks (as dower). She began to look and found me more handsome than my friend, but found the cloak of my friend more beautiful than my cloak. She thought in her mind for a while, but then preferred me to my friend. So I remained with her for three (nights), and then Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to part with them (such women)
عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ بن معبد نے کہا : میں نے اپنے والد ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ اپنے والد سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو عورتوں کے ساتھ متعہ کر لینے کا حکم دیا ۔ میں اور بنو سُلیم میں سے میرا ایک ساتھی نکلے ، حتیٰ کہ ہم نے بنو عامر کی ایک جوان لڑکی کو پایا ، وہ ایک جوان اور خوبصورت لمبی گردن والی اونٹنی کی طرح تھی ۔ ہم نے اسے نکاح ( متعہ ) کا پیغام دیا ، اور اس کے سامنے اپنی چادریں پیش کیں ، وہ غور سے دیکھنے لگی ، مجھے میرے ساتھی سے زیادہ خوبصورت پاتی اور میرے ساتھی کی چادر کو میری چادر سے بہتر دیکھتی ، اس کے بعد اس نے گھڑی بھر اپنے دل سے مشورہ کیا ، پھر اس نے مجھے میرے ساتھی پر فوقیت دی ، پھر یہ عورتیں تین دن تک ہمارے ساتھ رہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کو علیحدہ کرنے کا حکم دیا
29حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرما دیا
30وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ، بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ.
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women
معمر نے زہری سے ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے ( دنوں میں سے ایک ) دن عورتوں کے ساتھ ( نکاح ) متعہ کرنے سے منع فرما دیا
31وَحَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَأَنَّ أَبَاهُ كَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
This hadith has been narrated on the authority of Rabi' b. Sabra that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks
صالح سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ابن شہاب نے ربیع بن سبرہ جہنی سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( سبرہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے اِن کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا ، اور یہ کہ ان کے والد ( سبرہ ) نے ( اپنے ساتھی کے ہمراہ ) دو سرخ چادریں پیش کرتے ہوئے نکاح متعہ کیا تھا
32وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا - أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ - يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ - يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ - فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ مَهْلاً . قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ . قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُتْعَةِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ .
Urwa b. Zabair reported that 'Abdullah b. Zubair (Allah be pleased with him) stood up (and delivered an address) in Mecca saying:Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn 'Abbas). Ibn Abbas called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Mut'a was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allah's Messenger, may peace be upon him), and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said. Khalid b. Muhajir b. Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Mut'a and he permitted him to do it. Ibn Abu 'Amrah al-Ansari (Allah be pleased with him) said to him: Be gentle. It was permitted in- the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi' b. Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu 'Amir for two cloaks during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) ; then he forbade us to do Mut'a. Ibn Shihab said: I heard Rabi' b. Sabra narrating it to Umar b. 'Abd al-'Aziz and I was sitting there
مجھے یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں کھڑے ہوئے ، اور کہا : بلاشبہ کچھ لوگ ہیں ، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے ۔ وہ لوگوں کو متعہ ( کے جواز ) کا فتویٰ دیتے ہیں ، وہ ایک آدمی ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) پر تعریض کر رہے تھے ، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا : تم بے ادب ، کم فہم ہو ، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں ( نکاح ) متعہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر ( دیکھو ) ، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے ( ہی ان ) پتھروں سے ( جن کے تم مستحق ہو گے ) تمہیں رجم کروں گا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ اس اثنا میں جب وہ ان صاحب ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور متعہ کے بارے میں ان سے فتویٰ مانگا تو انہوں نے اسے اس ( کے جواز ) کا حکم دیا ۔ اس پر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھہریے! انہوں نے کہا : کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! میں نے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کیا ہے ۔ ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ یہ ( ایسا کام ہے کہ ) ابتدائے اسلام میں ایسے شخص ے لئے جو ( حالات کی بنا پر ) اس کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو ، اس کی رخصت تھی جس طرح ( مجبوری میں ) مردار ، خون اور سور کے گوشت ( کے لیے ) ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ ( کی پیش کش ) پر متعہ کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ یہی حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کر رہے تھے اور میں ( اس مجلس میں ) بیٹھا ہوا تھا ۔
33وَحَدَّثَنِي سَلَمَةَ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَالَ " أَلاَ إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ " .
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father:Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back
ہمیں معقل نے ابن ابی عبلہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعے سے روکا اور فرمایا : " خبردار! یہ تمہارے آج کے دن سے قیامت کے دن تک کے لیے حرام ہے اور جس نے ( متعے کے عوض ) کوئی چیز دی ہو وہ اسے واپس نہ لے
34حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali b. AbiTalib reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited on the Day of Khaibar the contracting of temporary marriage with women and the eating of the flesh of domestic asses
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور حسن سے ، ان دونوں نے اپنے والد سے ، اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
35وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لِفُلاَنٍ إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ .
Malik narrated this hadith on the authority of the same chain of trans- witters that 'Ali b. Abil Talib said to a person:You are a person led astray; Allah's Messenger (ﷺ) forbade us (to do Mut'a), as is stated In the hadith transmitted on the authority of Yahya b. Malik
ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں جویریہ ( بن اسماء بن عبید ضبعی ) نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : انہوں ( محمد بن علی ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فلاں ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) سے کہہ رہے تھے : تم حیرت میں پڑے ہوئے ( حقیقت سے بے خبر ) شخص ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا ۔ ۔ ۔ آگے یحییٰ بن یحییٰ کی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے
36حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ .
Muhammad b. 'Ali narrated on the authority of his father 'Ali that Allah's Apostle (ﷺ) on the Day of Khaibar prohibited for ever the contracting of temporary marriage and eating of the flesh of the domestic asses
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ، ان دونوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ( نکاح ) متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا
37وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ مَهْلاً يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali (Allah be pleased with him) heard that Ibn Abbas (Allah be pleased with them) gave some relaxation in connection with the contracting of temporary marriage, whereupon he said:Don't be hasty (in your religious verdict), Ibn 'Abbas, for Allah's Messenger (ﷺ) on the Day of Khaibar prohibited that forever - along with the eating of flesh of domestic asses
عبیداللہ نے ابن شہاب سے ، انہوں نے محمد بن علی سے کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ، ان دونوں نے اپنے والد ( محمد ابن حنفیہ ) سے ، اور انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں ( فتویٰ دینے میں ) نرمی سے کام لیتے ہیں ، انہوں نے کہا : ابن عباس! ٹھہریے! بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اس سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا
38وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali (Allah be pleased with him) said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that Allah's Messenger (ﷺ) on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے محمد بن علی بن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ( اور ) ان دونوں نے اپنے والد ( محمد بن علی ابن حنفیہ ) سے روایت کی ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
39حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace upon him) having said this:One should not combine a woman and her father's sister, nor a woman and her mother's sister in marriage
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو ، اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( نکاح میں ) اکٹھا نہ کیا جائے
40وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:that Allah's Messenger (ﷺ) forbade combining of four women in marriage: a woman with her father's sister, and a woman with her mother's sister
عِراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کے بارے میں منع فرمایا کہ ان کو ( نکاح میں باہم ) جمع کیا جائے : عورت اور اس کی پھوپھی ( یا ) عورت اور اس کی خالہ
41وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الأَخِ وَلاَ ابْنَةُ الأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: Father's sister should not be combined with her brother's daughter, nor the daughter of a sister with her mother's sister
عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " بھائی کی بیٹی پر پھوپھی کو نہ بیاہا جائے اور نہ خالہ کے ہوتے ہوئے بھانجی سے نکاح کیا جائے ۔ " ( اصل مقصود یہی ہے کہ یہ اکٹھی ایک شخص کے نکاح میں نہ آئیں)
42وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا وَعَمَّةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade a person to combine in marriage a womanarid her father's sister, and a woman and her mother's sister. Ibn Shihab said:So we regarded the paternal aunt of her (wife's) father and the maternal aunt of her (wife's) father at the same level
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے قبیصہ بن ذؤیب کعبی نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( اپنے نکاح میں ایک ساتھ ) جمع کرے ۔ ابن شہاب نے کہا : ہم اس ( منکوحہ عورت ) کے والد کی خالہ اور والد کی پھوپھی کو بھی اسی حیثیت میں دیکھتے ہیں
43وَحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:One should not combine in marriage a woman with her father's sister, or her mother's sister
ہشام نے ہمیں یحییٰ سے حدیث بیان کی کہ انہوں ( یحییٰ ) نے ان ( ہشام ) کی طرف ابوسلمہ سے ( اپنی ) روایت کردہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے
44وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ.
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے
45حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا وَلاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A man must not make proposal of marriage to a woman when his brother has done so already. And he must not offer a price for a thing for which his brother had already offered a price; and a woman must not be combined in marriage with her father's sister, nor with her mother's sister, and a woman must not ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her, but she must marry, because she will have what Allah has decreed for her
ہشام نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر ( اپنے ) نکاح کا پیغام نہ دے ، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے ، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ اسے ( پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر ) نکاح کر لینا چاہئے ، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے
46وَحَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي، هِنْدٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the combining of a woman in marriage with her father's sister, or with her mother's sister, or that a woman should ask for divorce for her sister in order to deprive her of what belongs to her. Allah, the Exalted'and Majestic, is her Sustainer too
داود بن ابی ہند نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ ، اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ( نکاح میں ) ہوتے ہوئے ، نکاح کیا جائے اور اس سے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کی پلیٹ میں ہے ، وہ ( اسے اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ بلاشبہ اللہ عزوجل ( خود ) اس کو رزق دینے والا ہے
47حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى وَابْنِ نَافِعٍ - قَالُوا أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to combine a woman and her father's sister, and a woman and her mother's sister
شعبہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( ایک مرد کے نکاح میں ) جمع کیا جائے
48وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Amr b. Dinar
ورقاء نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
49حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّفَقَالَ أَبَانٌ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
Nubaih b. Wahb reported that 'Umar b. Ubaidullah intended to marry Talha b. 'Umar with the daughter of Shaiba b. Jubair; so he sent a messenger to Aban b. Uthman to attend the marriage, and he was at that time the Amir of Hajj. Aban said:I heard 'Uthman b. 'Affan say that Allah's Messenger (ﷺ) had stated: A Muhrim must neither marry himself, nor arrange the marriage of another one, nor should he make the proposal of marriage
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے نُبَیہ بن وہب سے روایت کی کہ عمر بن عبیداللہ ( بن معمر جہنی ) نے ارادہ کیا کہ اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر ( بن عثمان جہنی ) کی بیٹی سے کر دیں ، تو انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ بھی آئیں ، وہ امیر الحج بھی تھے ۔ ابان نے کہا : میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم ( احرام باندھنے والا ) نہ ( خود ) نکاح کرے اور نہ اس کا نکاح کرایا جائے اور نہ وہ نکاح کا پیغام بھیجے
50وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ فَقَالَ أَلاَ أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا " إِنَّ الْمُحْرِمَ لاَ يَنْكِحُ وَلاَ يُنْكَحُ " . أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Nubaih b. Wahb reported:Umar b. Ubaidullah b. Ma'mar sent me to Aban b. Uthman as he wanted to make the proposal of the marriage of his son with the daughter of Shaiba b. Uthman. He (Aban b. Uthman) was at that time (busy) in the season of Pilgrimage. He said: I deem him to be a man of the desert (for it is a common thing) that a Muhrim can neither marry, nor is he allowed to be married to anyone. It is Uthman (b. Affan) who reported this to us from Allah's Messenger (ﷺ)
ایوب نے نافع سے روایت کی ، کہا : مجھے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عمر بن عبیداللہ بن معمر نے بھیجا ۔ وہ شیبہ ( بن جبیر ) بن عثمان کی بیٹی کے لیے اپنے بیٹے کے نکاح کا پیغام بھیج رہے تھے تو مجھے انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف بھیجا اور وہ امیر حج تھے ، انہوں نے کہا : کیا میں اسے ( عمر کو ) ایک بدو ( جیسا کام کرتے ) نہیں دیکھ رہا؟ جو شخص حالت احرام میں ہو وہ نہ نکاح کرتا ہے نہ ( کسی کا ) نکاح کراتا ہے ۔ ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دی تھی
51وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
Uthman b. 'Affan reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said:A Muhrim should neither marry himself, nor should he be got married to anyone, nor should he make the proposal of marriage
مطر اور یعلیٰ بن حکیم نے نافع سے ، انہوں نے نبیہ بن وہب سے ، انہوں نے ابان بن عثمان سے ، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص حالت احرام میں ہو ، وہ نہ نکاح کرے نہ نکاح کرائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے
52وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُحْرِمُ لاَ يَنْكِحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
Uthman (b. 'Affan) reported it directly from Allah's Apostle (ﷺ) that he said:A Muhrim should neithermarry (in that state) nor make the proposal of marriage
ایوب بن موسیٰ نے نبیہ بن وہب سے ، انہوں نے ابان بن عثمان سے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( کی سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " محرم ( جس نے احرام باندھ رکھا ہو وہ ) نکاح کرے نہ نکاح کا پیغام بھیجے
53حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ، ابْنَهُ طَلْحَةَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فِي الْحَجِّ وَأَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانٍ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ، طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ فَأُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَ، ذَلِكَ . فَقَالَ لَهُ أَبَانٌ أَلاَ أُرَاكَ عِرَاقِيًّا جَافِيًا إِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ " .
Nabaih b. Wahb reported that Umar b. 'Ubaidullah b. Ma'mar intended to marry his son Talha with the daughter of Shaiba b. Jubair during the Pilgrimage. Aban b. Uthman was at that time the Amir of Pilgrims. So he ('Umar b. Ubaidullah) sent someone (as a messenger) to Aban saying:I intend to marry Talha b. 'Umar and I earnestly desire you to be present there (in this ceremony of marriage). Aban said to him: I find you a block-headed 'Iraqi. I heard 'Uthman b. 'Affan say that Allah's Messenger (ﷺ) said: A Muhrim should not marry
سعید بن ابوہلال نے مجھے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ارادہ کیا کہ حج ( کے ایام ) میں اپنے بیٹے طلحہ کا نکاح شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے کریں ، ابان بن عثمان ان دنوں حج کے امیر تھے ۔ تو انہوں نے ابان کی طرف پیغام بھیجا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ طلحہ بن عمر کا نکاح کر دوں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں تو ابان نے انہیں جواب دیا : کیا مجھے تم ایک اکھڑ عراقی جیسے دکھائی نہیں دے رہے! بلاشبہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " محرم ( جو شخص حالت احرام میں ہو وہ ) کسی کا نکاح نہ کرائے
54وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ، عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ أَنَّهُ نَكَحَهَا وَهُوَ حَلاَلٌ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) married Maimuna in the state of Ihram. Ibn Numair made this addition:" I narrated it to Zuhri and he said: Yazid b. al-Asamm (Allah be pleased with him) told me that he (the Holy Prophet) married her when he was not a muhrim
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر اور اسحاق حنظلی سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے ابوشعثاء سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ احرام میں تھے ۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا : میں نے یہ حدیث زہری کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے یزید بن اصم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ) سے اس حالت میں نکاح کیا جبکہ آپ احرام کے بغیر تھے
55وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger. (ﷺ) married Maimuna while he was a Muhrim
داود بن عبدالرحمٰن نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی ، انہوں نے ابوشعثاء جابر بن زید سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ حالتِ احرام میں تھے
56حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلاَلٌ قَالَ وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Yazid b. al-Asamm reported:Maimuna daughter of al-Harith narrated to me that Allah's Messenger (ﷺ) married her and he was not in the state of Ihram. And she (Maimuna) was my mother's sister and that of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them)
یزید بن اصم سے روایت ہے ، کہا : مجھے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ احرام کے بغیر تھے ۔ ( یزید بن اصم نے ) کہا : وہ میری بھی خالہ تھیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ تھیں
57وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having said this:None amongst you should outbid another in a transaction, nor should he make proposals of marriage upon the proposal made by someone else
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ تم میں سے کوئی کسی ( اور ) کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے
58وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having said this:A person should not enter into a transaction when his brother (had already entered into but not finalised), and he should not make proposal of marriage upon the proposal already made by his brother, until he permits it
یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
59وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ
Narrated Ibn Umar :The above hadith has been narrated by Ibn Umar through another chain
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ
60وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
A hadith like this has been reported on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی
61وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا . زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ وَلاَ يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as having forbidden a dweller of the town selling the merchandise of a villager or outbidding in a sale (in order that another might fall into a snare), or a person making the proposal of marriage when his brother has already made such a proposal, or entering into a transaction when his brother has already entered; and a woman asking the divorce of her sister in order to deprive her of what belongs to her. 'Amr made this addition:" The person should not purchase in opposition to his brother
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا بیچے یا لوگ ( خریداری کی نیت کے بغیر ) بڑھ چڑھ کر قیمت لگائیں یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے ، یا کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے ۔ اور نہ ہی کوئی عورت ( اس غرض سے ) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے کہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے یا اس کی پلیٹ میں ہے وہ اسے ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے کیے جانے سودے پر سودا بازی کرے
62وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعِ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ يَخْطُبِ الْمَرْءُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ الأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as having said this:Do not outbid in a sale in order to ensnare. No man should enter into a transaction in which his brother has already entered, and no dweller of the town should sell on behalf of the villager. And no man should make a proposal of marriage which his brother has already made and no woman should ask for the divorce of another (co-wife) in order to deprive her of what belongs to her
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ( خریدنے کی نیت کے بغیر ) قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے وہ اسے ( اپنے لیے ) انڈیل لے
63وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ " وَلاَ يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ " .
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight alteration
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ معمر کی حدیث میں ہے : " اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ ( کی پیش کش ) کرے
64حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Muslim should not purchase in opposition to his brother, and he should not make the proposal of marriage on the proposal already made by his brother
علاء کے والد ( عبدالرحمٰن بن یعقوب ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا نہ کرے ، اور نہ اس کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے
65وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ، وَسُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنَّهُمْ قَالُوا " عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَخِطْبَةِ أَخِيهِ " .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
احمد بن ابراہیم دورقی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے شعبہ نے علاء ( بن عبدالرحمٰن جہنی ) اور سہیل ( بن ابی صالح سمان مدنی ) سے ، انہوں نے اپنے اپنے والد سے ، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہی حدیث ) روایت کی
66وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ فَلاَ يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ " .
Uqba b. 'Amir said on the pulpit that Allah's Messenger (ﷺ) said:A believer is the brother of a believer, so it is not lawful for a believer to outbid his brother, and he should not propose an engagement when his brother has thus proposed until he gives it up
عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے ، کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے ، حتیٰ کہ وہ ( خود اسے ) چھوڑ دے
67حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ . وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) said that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Shighar which means that a man gives his daughter in marriage on the condition that the other gives his daughter to him in marriage with- out any dower being paid by either
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ ( دوسرا ) بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے گا اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو
68وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ
A hadith like this has been narrated on the authority of" Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) but with a slight variation of words
عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، البتہ عبیداللہ کی حدیث میں ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نافع سے پوچھا : شغار کیا ہے
69وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Shighar
عبدالرحمٰن سراج نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا
70وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ شِغَارَ فِي الإِسْلاَمِ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as having said:There is no Shighar in islam
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شغار نہیں ہے اسلام میں ۔
71حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشِّغَارِ . زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Shighar. Ibn Numair added:Shighar means that a person should say to the other person: Give me the hand of your daughter in marriage and I will (in return) marry my daughter to you; or merry me your sister, and I will marry my sister to you
ابن نمیر اور ابواسامہ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ۔ ابن نمیر نے اضافہ کیا : شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے : تم اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں ۔ اور تم اپنی بہن کا نکاح میرےساتھ کر دو میں اپنی بہن کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں
72وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ - بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Vmar with the same chain of transmitters, but there is no mention of Ibn Numair
عبدہ نے عبیداللہ ( بن عمر ) سے اسی سند کے ساتھ یہ ( حدیث ) بیان کی ، اور انہوں نے ابن نمیر کا اضافہ ذکر نہیں کیا
73وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشِّغَارِ .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Shighar
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا
74حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ الْمُثَنَّى . غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى قَالَ " الشُّرُوطِ " .
Uqba b. Amir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most worthy condition which must be fulfilled is that which makes sexual intercourse lawful. In the narration transmitted by Ibn Muthanna (instead of the word" condition" ) it is" conditions
یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں ہُشَیم نے حدیث بیان کی ، ابن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے عبدالحمید بن جعفر سے ، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سب سے زیادہ پوری کیے جانے کے لائق شرط وہ ہے جس سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔ " یہ ابوبکر اور ابن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں ، البتہ ابن مثنیٰ نے ( الشرط کی بجائے ) الشروط ( شرطیں وہ ہیں ) کہا ہے
75حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ " أَنْ تَسْكُتَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as having said:A woman without a husband (or divorced or a widow) must not be married until she is consulted, and a virgin must not be married until her permission is sought. They asked the Prophet of Allah (ﷺ): How her (virgin's) consent can be solicited? He (the Holy Prophet) said: That she keeps silence
ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس عورت کا خاوند نہ رہا ہو اس کا نکاح ( اس وقت تک ) نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے پوچھ لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے اجازت لی جائے ۔ " صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( ایسے ) کہ وہ خاموش رہے ( انکار نہ کرے)
76وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي، عُثْمَانَ ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، . بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ وَإِسْنَادِهِ . وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَشَيْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
اس سند سے بھی مذكورہ بالا حدیث اسی طرح مروی ہے
77حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لاَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ تُسْتَأْمَرُ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about a virgin whose marriage is solemnised by her guardian, whether it was necessary or not to consult her. Allah's Messerger (ﷺ) said: Yes, she must be consulted. 'A'isha reported: I told him that she feels shy, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Her silence implies her consent
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا جس کے گھر والے اس کا نکاح ( کرنے کا ارادہ ) کریں ، کیا اس سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ہاں ، اس کی مرضی معلوم کی جائے گی ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے آپ سے عرض کی : وہ تو یقینا حیا محسوس کرے گی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ خاموش رہی تو یہی اس کی اجازت ہو گی
78حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . قَالَ نَعَمْ .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A woman without a husband has more right to her person than her guardian, and a virgin's consent must be asked from her, and her silence implies her consent
سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا : ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے " ؟ تو امام مالک نے جواب دیا : ہاں
79وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian. And a virgin should also be consulted, and her silence implies her consent
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں سفیان نے زیاد بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی ، انہوں نے نافع بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے والی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کی مرضی پوچھی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے
80وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . وَرُبَّمَا قَالَ " وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
Sufyan reported on the basis of the same chain of transmitters (and the words are):A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian; and a virgin's father must ask her consent from her, her consent being her silence, At times he said: Her silence is her affirmation
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " جس عورت نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کا والد اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لے گا ، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔ " اور کبھی انہوں نے کہا : " اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے
81حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ . قَالَتْ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ . فَقُلْتُ هَهْ هَهْ . حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ . فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) married me when I was six years old, and I was admitted to his house at the age of nine. She further said: We went to Medina and I had an attack of fever for a month, and my hair had come down to the earlobes. Umm Ruman (my mother) came to me and I was at that time on a swing along with my playmates. She called me loudly and I went to her and I did not know what she had wanted of me. She took hold of my hand and took me to the door, and I was saying: Ha, ha (as if I was gasping), until the agitation of my heart was over. She took me to a house, where had gathered the women of the Ansar. They all blessed me and wished me good luck and said: May you have share in good. She (my mother) entrusted me to them. They washed my head and embellished me and nothing frightened me. Allah's Messenger (, may peace be upon him) came there in the morning, and I was entrusted to him
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور جب میں نو برس کی تھی تو میرے ساتھ گھر بسایا ۔ کہا : ہم ( ہجرت کے بعد ) مدینہ آئے تو میں ایک مہینہ بخار میں مبتلا رہی ۔ ( اور میرے سر کے بال جھڑ گئے ، جب صحت یاب ہوئی تو ) پھر میرے بال ( اچھی طرح سے اگ آئے حتیٰ کہ ) گردن سے نیچے تک کی چٹیا بن گئی ۔ ( ان دنوں ایک روز میری والدہ ) ام رومان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئیں جبکہ میں جھولے پر ( جھول رہی ) تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں ، انہوں نے مجھے زور سے آواز دی ، میں ان کے پاس گئی ، مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے دروازے پر لاکھڑا کیا ، ( سانس پھولنے کی وجہ سے ) میرے منہ سے ھہ ھہ کی آواز نکل رہی تھی ، حتیٰ کہ جب میری سانس ( چڑھنے کی کیفیت ) چلی گئی تو وہ مجھے ایک گھر کے اندر لے آئیں تو ( غیر متوقع طور پر ) وہاں انصار کی عورتیں ( جمع ) تھیں ، وہ کہنے لگیں ، خیر وبرکت پر اور اچھے نصیب پر ( آئی ہو ۔ ) تو انہوں ( میری والدہ ) نے مجھے ان کے سپرد کر دیا ۔ انہوں نے میرا سر دھویا ، اور مجھے بنایا سنوارا ، پھر میں اس کے سوا کسی بات پر نہ چونکی کہ اچانک چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔ اور ان عورتوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا
82وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Apostle (ﷺ) married me when I was six years old, and I was admitted to his house when I was nine years old
ابو معاویہ اور عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت می انہوں نے کہا کہ رسۃل اللہ ﷺ نے میرے ساتھ نکاح کیا جب میں چھ سال کی تھی اور میرے ساتھ گھر بسایا جب میں نو سال کی تھی
83وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (ﷺ) married her when she was seven years old, and he was taken to his house as a bride when she was nine, and her dolls were with her; and when he (the Holy Prophet) died she was eighteen years old
زہری نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ سات سال کی تھیں ، اور گھر بسایا جب وہ نو سال کی تھیں اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر فوت ہوئے جب وہ اٹھارہ سال کی تھیں
84وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهْىَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ .
Narrated 'A'isha :'A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (ﷺ) married her when she was six years old, and he (the Holy Prophet) took her to his house when she was nine, and when he (the Holy Prophet) died she was eighteen years old
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں اور ان کی رخصتی ہوئی جبکہ وہ نو برس کی تھیں اور آپ فوت ہوئے جبکہ وہ اٹھارہ برس کی تھیں
85حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي . قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) contracted marriage with me in Shawwal and took me to his house as a bride during Shawwal. And who among the wives of Allah's Messenger (ﷺ) was dearer to him than I, and' A'isha liked that the women (of her family) should enter the houses as brides during the month of Shawwal
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عروہ سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں میرے ساتھ نکاح کیا ، اور شوال ہی میں میرے ساتھ گھر بسایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کون سی بیوی آپ کے ہاں مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھی؟ ( عروہ نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ اپنی ( رشتہ دار اور زیر کفالت ) عورتوں کی رخصتی شوال میں کریں ۔ ( جبکہ عربوں میں پرانا تصور یہ تھا کہ شوال میں نکاح اور رخصتی شادی کے لئے ٹھیک نہیں)
86وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ.
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters, but he made no mention of the act of 'A'isha (being admitted as a wife in the house of the Holy Prophet)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل ( خاندان کی بچیوں کا شوال میں شادی کرانے ) کا تذکرہ نہیں کیا ۔
87حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when there came a man and informed him that he had contracted to marry a woman of the Ansar. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Did you cast a glance at her? He said: No. He said: Go and cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar
سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح ( طے ) کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔
88وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " . قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا . قَالَ " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا " . قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ " . قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: I have contracted marriage with a woman of the Ansar, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Did you cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar? He said: I did cast a glance at her, whereupon he said: For what (dower) did you marry her? He said: For four 'uqiyas. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: For four 'uqiyas; it seems as if you dig out silver from the side of this mountain (and that is why you are prepared to pay such a large amount of dower). We have nothing which we should give you. There is a possibility that we may send you to an (expedition) where you may get (booty). So he sent that man (in the expedition) which was despatched to Banu 'Abs
مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا : میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔ " اس نے جواب دیا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کتنے مہر پر تم نے اِس سے نکاح کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : چار اوقیہ پر ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " چار اوقیہ چاندی پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! تمہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ موجود نہیں ، البتہ جلد ہی ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیج دیں گے تمہیں اس سے ( غنیمت کا حصہ ) مل جائے گا ۔ " کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی جانب ایک لشکر روانہ کیا ( تو ) اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا
89حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، السَّاعِدِيِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي . فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا . فَقَالَ " فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا " . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ . وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي - قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ " . فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " . قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا - عَدَّدَهَا . فَقَالَ " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ .
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi (Allah be pleased with him) reported:A woman came to Allah's Messenger. (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have come to you to entrust myself to you (you may contract my marriage with anyone at your discretion). Allah's Messenger (ﷺ) saw her and cast a glance at her from head to foot. Allah's Messenger (ﷺ) then lowered his head. When the woman saw that he had made no decision in regard to her, she sat down. There stood up a person from amongst his companions and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need of her. He (the Prophet) said: is there anything with you (which you con give as a dower)? He said: No, Messenger of Allah, by Allah I have nothing. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Go to your people (family) and see if you can find something. He returned and said: I have found nothing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: See even if it is an iron ring. He went and returned and said: No, by Allah, not even an iron ring, but only this lower garment of mine (Sahl said that he had no upper garment), half of which (I am prepared to part with) for her. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: How can your lower garment serve your purpose, for it you wear it, she would not be able to make any use of it and if she wears it there would not be anything on you? The man sat down and as the sitting prolonged he stood up (in disappointment) and as he was going back Allah's Messenger (ﷺ) commanded (him) to be called back, and as he came, he said to him: Do you know any part of the Qur'an? He said: I know such and such surahs (and he counted them), whereupon he (ﷺ) said: Can you recite them from heart (from your memory)? He said: Yes, whereupon he (Allah's Messenger) said: Go, I have given her to you in marriage for the part of the Qur'an which you know
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی ، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے ۔ پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا ۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ کو اس ( کے ساتھ شادی ) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تمہارے پاس ( حق مہر میں دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے؟ " اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! ( کچھ ) نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟ " وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی : نہیں ، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو ۔ " وہ گیا پھر واپس آیا ، اور عرض کی ، نہیں ، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے ، البتہ میری یہ تہبند ہے ۔ سہل نے کہا : اس کے پاس ( کندھے کی ) چادر بھی نہیں تھی ۔ اس میں سے آدھی ( بطور مہر ) اِس کے لیے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی ، اگر تم اسے پہنو گے تو اس ( کے جسم ) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا ۔ " اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا ۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا ( اور چل دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ " ( تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ ) اس نے عرض کی : میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے ۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں ۔ تو آپ نے پوچھا : " تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟ " اس نے عرض کی ، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض ( نکاح کے لیے ) تمہیں اس کا مالک ( خاوند ) بنا دیا گیا ہے ۔ " یہ ابن ابوحازم کی حدیث ہے ، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے
90وَحَدَّثَنَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ قَالَ " انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ " .
This hadith has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd with a minor alteration of words, but the hadith transmitted through Za'idah (the words are that the Holy Prophet) said:Go, I have married her to you, and you teach her something of the Qur'an
حماد بن زید ، سفیان بن عیینہ ، دراوردی اور زائدہ سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، ان میں سے کچھ راوی دوسروں پر اضافہ کرتے ہیں ۔ مگر زائدہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ، میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ہے ، اس لیے ( اب ) تم اسے قرآن کی تعلیم دو
91حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لأَزْوَاجِهِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا . قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ . فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَزْوَاجِهِ.
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported:I asked 'A'isha, the wife of Allah's Messenger (ﷺ): What is the amount of dower of Allah's Messenger (ﷺ)? She said: It was twelve 'uqiyas and one nash. She said: Do you know what is al-nash? I said: No. She said: It is half of uqiya, and it amounts to five hundred dirhams, and that was the dower given by Allah's Messenger (ﷺ) to his wives
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، ( ام المومنین ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیویوں ) کا مہر کتنا ( ہوتا ) تھا؟ انہوں نے جواب دیا : اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا ۔ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انہوں نے کہا : آدھا اوقیہ ، یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا
92حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw the trace of yellowness on 'Abd al-Rahman b. 'Auf and said:What is this? Thereupon he said: Allah's Messenger, I have married a woman for a date-stone's weight of gold. He said: God bless you! Hold a wedding feast, even if only with a sheep
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے لباس ) پر زرد ( زعفران کی خوشبو کا ) نشان دیکھا تو فرمایا : " یہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن پر ایک عورت سےشادی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تمہیں برکت دے ۔ ولیمہ کرو ، خواہ ایک بکری سے کرو
93وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "
Anas b. Malik (Allah be pleasedwith him) reported that 'Abd al-Rahman b. 'Auf (Allah be pleased with him) married during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) for a nawat weight of gold and the messenger of Allah (ﷺ) said to him:Give a feast even with a sheep
ابو عوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گھٹلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو ۔
94وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that 'Abd al-Rahman b. 'Auf (Allah be pleased with him) married a woman for a date-stone's weight of gold and Allah's Apostle (ﷺ) said to him:Hold a wedding feast, even if only with a sheep
وکیع نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ اور حُمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا اور یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو
95وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً .
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters except (with this minor alteration of words) that 'Abd al-Rahman said:" I married a woman
ابوداود ، وہب بن جریر اور شبابہ سب نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ وہب کی حدیث میں یوں ہے : " انہوں نے کہا : حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے
96وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَىَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ " كَمْ أَصْدَقْتَهَا " . فَقُلْتُ نَوَاةً . وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ مِنْ ذَهَبٍ .
Abd al-Rahman b. 'Auf (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw the signs of the happiness of wedding in me, and I said:I have married a woman of the Ansar. He said: How much Mahr have you paid? I said: For a date-stone weight of gold. And in the hadith transmitted by Ishaq (it is): (nawat weight) of gold
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن قدامہ نے کہا : ہمیں نضر بن شُمَیل نے خبر دی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالعزیز بن صُہَیب نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا جبکہ مجھ پر شادی کی بشاشت ( خوشی ) نمایاں تھی ، میں نے عرض کی : میں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی ہے ، آپ نے پوچھا : " تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ " میں نے عرض کی : ایک گٹھلی ۔ اور اسحاق کی حدیث میں ہے : سونے کی
97وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، - قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ .
Anas b. Malik reported that 'Abd al-Rahman married a woman for a datestone weight of gold
ابوداود نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ سے حدیث بیان کی ۔ شعبہ نے کہا : ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ ( کیسان ) ہے ۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے ) کے عوض ایک عورت سے شادی کی
98وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ذَهَبٍ
Shu'ba has narrattd this hadith with the same chain of transmitters except for (this alteration) that he said that a person from among the sons of 'Abd al Rahman said:" from gold
وہب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : حضرت عبدالرحم ن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ایک نے کہا : سونے کی ( ایک گٹھلی)
99حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْحَسَرَ الإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْىُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ . فَقَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " . فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ . قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا " . قَالَ فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا " . قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا . فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ " قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسًا . فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Anas (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) set out on an expedition to Khaibar and we observed our morning prayer in early hours of the dawn. The Messenger of Allah (ﷺ) then mounted and so did Abu Talha ride, and I was seating myself behind Abu Talha. Allah's Apostle (ﷺ) moved in the narrow street of Khaibar (and we rode so close to each other in the street) that my knee touched the leg of Allah's Apostle (ﷺ). (A part of the) lower garment of Allah's Apostle (ﷺ) slipped from his leg and I could see the whiteness of the leg of Allah's Apostle (ﷺ). As he entered the habitation he called:Allahu Akbar (Allah is the Greatest). Khaibar is ruined. And when we get down in the valley of a people evil is the morning of the warned ones. He repeated it thrice. In the meanwhile the people went out for their work, and said: By Allah, Muhammad (has come). Abd al-'Aziz or some of our companions said: Muhammad and the army (have come). He said: We took it (the territory of Khaibar) by force, and there were gathered the prisoners of war. There came Dihya and he said: Messenger of Allah, bestow upon me a girl from among the prisoners. He said: Go and get any girl. He made a choice for Safiyya daughter of Huyayy (b. Akhtab). There came a person to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Apostle of Allah, you have bestowed Safiyya bint Huyayy, the chief of Quraiza and al-Nadir, upon Dihya and she is worthy of you only. He said: Call him along with her. So he came along with her. When Allah's Apostle (ﷺ) saw her he said: Take any other woman from among the prisoners. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then granted her emancipation and married her. Thabit said to him: Abu Hamza, how much dower did he (the Holy Prophet) give to her? He said: He granted her freedom and then married her. On the way Umm Sulaim embellished her and then sent her to him (the Holy Prophet) at night. Allah's Apostle (ﷺ) appeared as a bridegroom in the morning. He (the Holy Prophet) said: He who has anything (to eat) should bring that. Then the cloth was spread. A person came with cheese, another came with dates, and still another came with refined butter, and they prepared hais and that was the wedding feast of Allah's Messenger (ﷺ)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے جہاد کیا خیبر پر او رہم لوگوں نے وہاں نماز پڑھی صبح کی بہت اندھریے میں اور سوار ہوئے نبی ﷺ او رسوار ہوئے ابوطلحہٰ ؓ اور میں ردیف تھا ابوطلحہ کا اور روانہ ہوئے نبی ﷺ گلیوں میں خیبر کی اور میرا زانو نبیﷺ کے ران سے لگ لگ جاتا تھا اور تہبند رسول اﷲ ﷺ کی آپ کی ران سے کھسک گئی تھی او رمیں دیکھتا سفیدی آپ کی ران کی پھر جب شہر کے اندر گئے آپ نے فرمایا اﷲ اکبر خراب ہوا خیبر ہم جب اترتے ہیں کسی قوم کے انگن میں تو برا ہوتا ہے حال ڈرائے گئے لوگوں کا ۔ اس آیت کو آپ نے تین بار پڑھا یعنی انا اذا نزلنا بساحۃ قوم سے اخیر تک اور اتنے میں وہاں کے لوگ اپنے اپنے کاموں میں نکلے اور انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ آچکے ۔ اور عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آگیا ۔ کہا راوی نے کہ غرض ہم نے لے لیا خیبر کو جبراً قہراً اور قیدی لوگ جمع کیے گئے اور دحیہ آئے اور عرص کی کہ یا رسول اﷲؐ! ایک لونڈی مجھے عنایت کیجیے ان قیدیوںمیںسے ۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ ایک لونڈی لے لو ۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا اور ایک شخص نے آکے کہا کہ اے نبی اﷲ تعالیٰ کے آپ نے دحیہ کو حیی کی بیٹی دیدی جو سردار ہے بنی قریظہ اور بنی نضیر کا اور وہ کسی کے لائق نہیں سوا آپ کے تو فرمایا کہ بلاؤ ان کو مع اس لونڈی کے ۔ کہا راوی نے کہ پھر وہ اسے لے کر آئے پھر جب آپ نے اس کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا کہ تم کوئی اور لونڈی لے لو قیدیوں میں سے اس کے سوا ۔ کہا راوی نے کہ پھر آپ نے آزاد کیا صفیہؓ کو اور ان سے نکاح کرلیا سو ثابت نے ان سے کہا کہ اے ابوحمزہ! ان کا مہر کیا باندھا انہوں نے؟ کہا یہی مرہ تھا کہ ان کو آزاد کردیا اور نکاح کرلیا یہاں تک کہ پھر جب وہ را میں تھے تو سنگار کردیا ان کا ام سلیمؓ نے اور پیش کردیا آپ پر ان کو رات میں اور صبح کو رسول اﷲﷺ نوشہ بنے ہوئے تھے ۔ پھر فرمایا اپ نے جس کے پاس جو کچھ ہو ( یعنی کھانے کی قسم سے ) وہ لائے او رایک دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا اور کوئی اقط لانے لگا ( دہی سکھا کر بناتے ہیں ) اور کوئی کھجور او رکوئی گھی ان سب کو توڑ تاڑ کر خوب ملایا اور یہ ولیمہ ہوا رسول اﷲ ﷺ کا ۔
100وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ، الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبِ، بْنِ حَبْحَابٍ عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا
This hadith has been narrated through another chain of transmitters on the authority of Anas that Allah's Apostle (ﷺ) emancipated Safiyya, and her emancipation was treated as her wedding gift, and in the hadith transmitted by Mu'adh on the authority of his father (the words are):" He (the Holy Prophet) married Safiyya and bestowed her emancipation as her wedding gift
حماد ، یعنی ابن زید نے ثابت اور عبدالعزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ حماد نے ثابت اور شعیب بن حَبحَاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ اسی طرح ابوعوانہ نے قتادہ اور عبدالعزیز سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ ابوعوانہ ( ہی ) نے ابوعثمان سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے شعیب بن حبحاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح یونس بن عبید نے شعیب بن حبحاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور ان سب نے ( کہا : انہوں نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کو آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا ۔ معاذ کی اپنے والد ( ہشام ) سے روایت کردہ حدیث میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کی آزادی ، ان کو مہر میں دی
102حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمَ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ - قَالَ - وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَ وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دَحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ - قَالَ - وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ فُحِصَتِ الأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ - قَالَ - وَقَالَ النَّاسُ لاَ نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ . قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا . فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَفَعْنَا - قَالَ - فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ . قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ
Anas (Allah be pleased with him) reported:I was sitting behind Abu Talha on the Day of Khaibar and my feet touched the foot of Allah's Messenger (ﷺ), and we came (to the people of Khaibar) when the sun had risen and they had driven out their cattle, and had themselves come out with their axes, large baskets and hatchets, and they said: (Here come) Muhammad and the army. Allah's Messenger (ﷺ) said: Khaibar is ruined. Verily when we get down in the valley of a people, evil is the morning of the warned ones (al-Qur'an, xxxvii. 177). Allah, the Majestic and the Glorious, defeated them (the inhabitants of Khaibar), and there fell to the lot of Dihya a beautiful girl, and Allah's Messenger (ﷺ) got her in exchange of seven heads, and then entrusted her to Umm Sulaim so that she might embellish her and prepare her (for marriage) with him. He (the narrator) said: He had been under the impression that he had said that so that she might spend her period of 'Iddah in her (Umm Sulaim's) house. (The woman) was Safiyya daughter of Huyayy. Allah's Messenger (ﷺ) arranged the wedding feast consisting of dates, cheese, and refined butter, and pits were dug and tiers were set in them dining cloths, and there was brought cheese and refined butter, and these were placed there. And the people ate to their fill, and they said: We do not know whether he (the Holy Prophet) had married her (as a free woman), or as a slave woman. They said: If he (the Holy Prophet) would make her wear the veil, then she would be a (free married) woman, and if he would not make her wear the veil, then she should be a slave woman. When he intended to ride, he made her wear the veil and she sat on the hind part of the camel; so they came to know that he had married her. As they approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) drove (his ride) quickly and so we did. 'Adba' (the name of Allah's Apostle's camel) stumbled and Allah's Messenger (ﷺ) fell down and she (Radrat Safiyya: also fell down. He (the Holy Prophet) stood up and covered her. Women looked towards her and said: May Allah keep away the Jewess! He (the narrator) said: I said: Aba Hamza, did Allah's Messenger (ﷺ) really fall down? He said: Yes, by Allah, he in fact fell down
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا ، اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا ۔ کہا : ہم ( صفحہ نمبر 67 پی ڈی ایف فائل میں نہیں ہے ) رفتار تیز کر لی ، کہا : اونٹنی عضباء ٹھوکر کھا کر گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پالان سے ) نکل گئے اور وہ ( سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ) بھی نکل کر گر گئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو پردے میں کیا ، عورتیں اوپر سے جھانک رہی تھیں ، کہنے لگیں : اللہ یہودی عورت کو دور کرے ۔ ( ثابت نے ) کہا : میں نے کہا : اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں اللہ کی قسم! آپ گر پڑے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اور میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں بھی شرکت کی تھی ۔ آپ نے لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا تھا ، آپ مجھے بھتیجے تھے میں لوگوں کو ( کھانے کے لیے ) بلاتا تھا ۔ جب آپ فارغ ہوئے ، تو کھڑے ہو گئے اور میں نے بھی آپ کی پیروی کی ، پیچھے دو آدمی رہ گئے ، باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگائے رکھا ۔ وہ دونوں نہ نکلے ۔ آپ نے ( چلتے ہوئے ) اپنی ازواج مطہرات کے پاس جانا شروع کیا ۔ آپ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے ، ( فرماتے ) "" تم پر سلامتی ہو ، گھر والو! آپ کیسے ہو؟ "" وہ جواب دیتے : اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں ۔ آپ نے اپنے اہل ( نئی اہلیہ ) کو کیسا پایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے : "" خیر و ( عافیت ) کے ساتھ ۔ "" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو واپس ہوئے ، میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا ، جب آاپ دروازے پر پہنچے تو آپ نے اُن دو آدمیوں کو دیکھا ( کہ ) باہمی گفتگو نے ان دونوں کو ساتھ لگا رکھا ہے ، جب ان دونوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو وہ دونوں اٹھے اور چلے گئے ۔ اللہ کی قسم! ( اب ) مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا یا آپ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں ۔ آپ واپس آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ۔ پھر آپ نے اپنا پاؤں دروازے کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں مت داخل ہو اِلا یہ کہ تمہیں ( اس کی ) اجازت دی جائے
104وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدَحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْىِ مِثْلَهَا - قَالَ - فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي فَقَالَ " أَصْلِحِيهَا " . قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ " . قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ - قَالَ - فَقَالَ أَنَسٌ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَطِيَّتَهُ - قَالَ - وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلاَ إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَتَرَهَا - قَالَ - فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ " لَمْ نُضَرَّ " . قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا .
Anas, (Allah be pleased with him) reported:Safiyya (Allah be pleased with her) fell to the lot of Dihya in the spoils of war, and they praised her in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) and said: We have not seen the like of her among the captives of war. He sent (a messenger) to Dihya and he gave him whatever he demanded. He then sent her to my mother and asked her to embellish her. Allah's Messenger (ﷺ) then got out of Khaibar until when he was on the other side of it, he halted, and a tent was pitched for him. When it was morning Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has surplus of provision with him should bring that to us. Some persons would bring the surplus of dates, and the other surplus of mush of barley until there became a heap of bals. They began to eat the hais and began to drink out of the pond which had the water of rainfall in it and which was situated by their side. Anas said that that constituted the wedding feast of Allah's Messenger (ﷺ). He (further) said: We proceeded until we saw the walls of Medina, and we were delighted. We made our mounts run quickly and Allah's Messenger (ﷺ) also made his mount run quickly. And Safiyya (Allah be pleased with her) was at his back, and Allah's Messenger (ﷺ) had seated her behind him. The camel of Allah's Messenger (ﷺ) stumbled and he (the Holy Prophet) fell down and she also fell down. And none among the people was seeing him and her, until Allah's Messeuger (ﷺ) stood up and he covered her, and we came to him and he said: We have received no injury. We entered Medina and there came out the young ladies of the household. They saw her (hadrat Safiyya) and blamed her for falling down
سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت صفیہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آ گئیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا ۔ ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی ۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا : " اسے بنا سنوار دو ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا ، ( خیبر پیچھے رہ گیا ) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا ، پھر ان ( حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ) کے لیے خیمہ لگوایا ، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زادِ راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے ۔ " کہا : اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور ( کوئی ) زائد ستو ، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے ( حَیس ) کا بنا لیا ، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنےلگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے ۔ کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تھا ان ( صفیہ رضی اللہ عنہا ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ ۔ کہا : اس کے بعد ہم چل پڑے ، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدتِ شوق سے اس کی طرف لپک پڑے ، ہم نے اپنی ساریاں اٹھا دیں ( تیز کر دیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی ۔ کہا : صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا ، کہا : ( اچانک ) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ ( حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ) بھی زمین پر آ رہیں ، کہا : لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف ، کہا : حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا ، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : " ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ " پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی باندیاں باہر نکل آئیں ، وہ ایک دوسری کو وہ ( صفیہ رضی اللہ عنہا ) دکھا رہی تھیں ، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں
103قَالَ أَنَسٌ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلاَنِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ " سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ " . فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ " بِخَيْرٍ " . فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ { لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} الآيَةَ .
Anas said:I also saw the wedding feast of Zainab, and he (the Holy Prophet) served bread and meat to the people, and made them eat to their heart's content, and he (the Holy Prophet) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Holy Prophet) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu 'alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Messenger of Allah, we are in good state 'How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Holy Prophet) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: (" O you who believe), do not enter the houses of the Prophet unless permission is given to 'you" (xxxiii)
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بہز نے حدیث سنائی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( بہز اور ابونضر ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ یہ بہز کی حدیث ہے ۔ کہا : جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : "" اِن ( زینب رضی اللہ عنہا ) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو ۔ "" کہا : تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں ، کہا : جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( کے ساتھ شادی ) کا ذکر کیا تھا ، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا : زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ ( استخارہ ) کر لوں ، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور ( ادھر ) قرآن نازل ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے ۔ ( سلیمان بن مغیرہ نے ) کہا : ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا ۔ اس کے بعد ( اکثر ) لوگ نکل گئے ، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد ( آپ کے ) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے ) نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے ۔ وہ ( جواب دے کر ) کہتیں : اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( نئی ) اہلیہ کو کیسا پایا؟ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا ۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور ( اس وقت ) حجاب ( کا حکم ) نازل ہوا ، کہا : اور لوگوں کو ( اس مناسبت سے ) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( آنے کی ) اجازت دی جائے ، اس حال میں ( آؤ ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو ( کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ ) "" سے لے کر اس فرمان تک : "" اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا
105حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِزَيْدٍ " فَاذْكُرْهَا عَلَىَّ " . قَالَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا وَهْىَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُكِ . قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي . فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِي - قَالَ - فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ . زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ { لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} إِلَى قَوْلِهِ { وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ}
Anas (Allah be pleased with him) reported:When the 'Iddah of Zainab was over, Allah's Messenger (ﷺ) said to Zaid to make a mention to her about him. Zaid went on until he came to her and she was fermenting her flour. He (Zaid) said: As I saw her I felt in my heart an idea of her greatness so much so that I could not see towards her (simply for the fact) that Allah's Messenger (ﷺ) had made a mention of her. So I turned my back towards her. and I turned upon my heels, and said: Zainab, Allah's Messenger (ﷺ) has sent (me) with a message to you. She said: I do not do anything until I solicit the will of my Lord. So she stood at her place of worship and the (verse of) the Qur'an (pertaining to her marriage) were revealed, and Allah's Messenger (ﷺ) came to her without permission. He (the narrator) said: I saw that Allah's Messenger (ﷺ) served us bread and meat until it was broad day light and the people went away, but some persons who were busy in con- versation stayed on in the house after the meal. Allah's Messenger (ﷺ) also went out and I also followed him, and he began to visit the apartments of his wives greeting them (with the words): As-Salamu 'alaikum, and they would say: Allah's Messenger, how did you find your family (hadrat Zainab)? He (the narrator) stated: I do not know whether I had informed him that the people had gone out or he (the Holy Prophet) informed me (about that). He moved on until he entered the apartment, and I also went and wanted to enter (the apartment) along with him, but he threw a curtain between me and him, as (the verfes pertaining to seclusion) had been revealed, and people were instructed in what they had been instructed. Ibn Rafii had made this addition in his narration:" O you who believe, enter not the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished..." to the words"... Allah forbears not from the truth
ابوربیع زہرانی ، ابو کامل فُضَیل بن حسین اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد نے ، وہ ( جو ) زید کے بیٹے ہیں ، ثابت نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ابو کامل کی روایت میں ہے : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی بیوی کا ۔ ۔ ابوکامل نے کہا : اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کی کسی چیز ( خوشی ) پر ۔ اس جیسا ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب رضی اللہ عنہا ( کے ساتھ نکاح ) پر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) بکری ذبح کی
106حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا، - قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ عَلَى شَىْءٍ - مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً .
Anas (Allah be pleased with him) reported:I did not see Allah's Messenger (ﷺ) giving a wedding feast (on the marriage) of any one (of his wives) as he did in the case of (his marriage with) Zainab, for then he sacrificed a goat (on this occasion)
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یااس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا ۔ ثابت بنانی نے پوچھا : آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے ( سیر ہو کر کھانا ) چھوڑ دیا
107حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ . فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بِمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:Allah's Messenger (ﷺ) gave no better wedding feast than the one he did (on the occasion of his marriage with) Zainab. Thabit al-Bunani (one of the narrators) said: What did he serve in the wedding feast? He (Anas) said: He fed them bread and meat (so lavishly) that they (the guests) abandoned it (of their own accord after having taken them to their hearts' content)
یحییٰ بن حبیب حارثی ، عاصم بن نضر تیمی اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، سب نے معتمر سے روایت کی ۔ لفظ ( یحییٰ ) بن حبیب کے ہیں ۔ کہا : ہم سے معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں ابومجلز نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے لوگوں کو ( کھانے کی ) دعوت دی ، انہوں نے کھانا کھایا ، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ۔ کہا : آپ نے ایسا انداز اختیار فرمایا گویا کہ کھڑے ہونے لگے ہوں اس پر بھی وہ نہ اٹھے ، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے ، جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے بھی جو کھڑے ہوئے ، وہ ہو گئے ۔ عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا : کہا "" تین آدمی بیٹھے رہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے میں ) داخل ہونے کے لیے تشریف لے آئے ، تو ( اس وقت بھی ) وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، پھر ( کچھ دیر بعد ) وہ اٹھے اور چلے گئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں ۔ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے ، میں بھی داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ۔ کہا : اور ( اس موقع پر ) اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے ، ایسے ( وقت میں ) آؤ کہ ( آ کر ) اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو ( کھانا رکھ دیا جائے تو آؤ ) "" اس فرمان تک : "" بلاشبہ یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی
108حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَبِيبٍ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ - قَالَ - فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ . زَادَ عَاصِمٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ فَقَعَدَ ثَلاَثَةٌ وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا - قَالَ - فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا - قَالَ - فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ - قَالَ - وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} إِلَى قَوْلِهِ { إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا} .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) married Zainab bint jahsh, he invited people (to the wedding feast) and they ate food. They then sat there and entered into conversation. He (the Holy Prophet) made a stir as if he was preparing to stand up, but (the persons busy in talking) did not stand up. When he (the Holy Prophet) saw it, he stood up and when he did so, some other persons stood up. 'Asim and Abd al-A'la in their narrations made this addition: Three (persons) sat there, and Allah's Apostle (ﷺ) came there to enter (the apartment) but he found the people sitting there. Then they stood up and went away. He said: Then I came and informed Allah's Apostle (ﷺ) that they had gone away. He (the Holy Prophet) then came there until he entered (the apartment). I also went and was about to enter, when he hung a curtain between me and him (and it was on this occasion that) Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" O you who believe, enter not the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished to the (words)" Surely this is serious in the sight of Allah" (xxxiii)
ابن شہاب نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پردے ( کے احکام ) کو سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا میں ہوں ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کرتے تھے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے دلہا کی حیثیت سے صبح کی ، آپ نے ( اسی رات ) مدینہ میں ان سے شادی کی تھی ، دن چڑھنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کچھ افراد لوگوں کے چلے جانے کے بعد بھی آپ کے ساتھ بیٹھے رہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ آپ چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ آپ ( سب حجروں سے ہوتے ہوئے ) حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے ۔ پھر آپ نے سوچا کہ وہ لوگ جا چکے ہوں گے ، آپ واپس ہوئے ، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ، تو تب بھی وہ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ لوٹ گئے اور میں بھی دوبارہ لوٹ گیا ، حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے تو پھر سے واپس آئے ، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ، تو دیکھا کہ وہ لوگ اٹھ ( کر جا ) چکے تھے ، اس کے بعد آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ، اور ( اس وقت ) پردے کی آیت نازل کی گئی
109وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ . قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - قَالَ - وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ.
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:I was the best informed among the people pertaining to Hijab (veil and seclusion). Ubayy b. Ka'b used to ask me about it. Anas (Allah be pleased with him) thus narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) got up in the morning as a bridegroom of Zainab bint jahsh (Allah be pleased witt her) as he had married her at Medina. He invited people to the wedding feast after the day had well risen. There sat Allah's Messenger (ﷺ) and there kept sitting along with him some persons after the people had stood up (for departure) ; then Allah's Messenger (ﷺ) stood up and walked on and I also walked along with him until he reached the door of the apartment of 'A'isha (Allah be pleased with her). He then thought that they (those who had been sitting there after meal) had gone away. So he returned and I also returned with him, but they were still sitting at their places. So he returned for the second time and I also returned until he reached the apartment of 'A'isha. He again returned and I also returned and they had (by that time) stood up, and he hung a curtain between me and him (at the door of the apartment of Hadrat Zainab, where he had to stay), and Allah revealed the verse pertaining to veil
جعفر بن سلیمان نے ہمیں ابوعثمان جعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ۔ میری والدہ ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے حَیس تیار کیا ، اسے ایک پیالہ نما بڑے برتن میں ڈالا ، اور کہا : انس! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور عرض کرو : یہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ، اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں : اللہ کے رسول! یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑی سی چیز ہے ۔ کہا : میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : میری والدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں : اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑی سی چیز ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" اسے رکھ دو "" ( آپ نے اسے بھی ولیمے کے کھانے کے ساتھ شامل کر لیا ) پھر فرمایا : "" جاؤ ، فلاں ، فلاں اور فلاں اور جو لوگ تمہیں ملیں انہیں بلا لاؤ ۔ "" آپ نے چند آدمیوں کے نام لیے ۔ کہا : میں ان لوگوں کو جن کے آپ نے نام لیے اور وہ جو مجھے ملے ، ان کو لے آیا ۔ کہا : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : وہ ( سب ) تعداد میں کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : تین سو کے لگ بھگ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" انس! برتن لے اؤ "" کہا : لوگ اندر داخل ہوئے حتیٰ کہ صفہ ( چبوترہ ) اور حجرہ بھر گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دس دس افراد حلقہ بنا لیں ، اور ہر انسان اپنے سامنے سے کھائے ۔ "" ان سب نے کھایا حتیٰ کہ سیر ہو گئے ، ایک گروہ نکلا تو دوسرا داخل ہوا ( اس طرح ہوتا رہا ) حتیٰ کہ ان سب نے کھانا کھا لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا : "" انس! اٹھا لو "" تو میں نے ( برتن ) اٹھا لیے ، مجھے معلوم نہیں کہ جب میں نے ( کھانا ) رکھا تھا اس وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اُس وقت ۔ کہا : ان میں سے کچھ ٹولیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اور آپ کی اہلیہ دیوار کی طرف رخ کیے بیٹھی تھیں ، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکلے ، ( یکے بعد دیگرے ) اپنی ازواج کو سلام کیا ، پھر واپس ہوئے ۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ واپس ہو گئے ہیں ، تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ آپ پر گراں گزر رہے ہیں ۔ کہا : تو وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکے اور سب کے سب نکل گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( آگے ) تشریف لائے ، حتیٰ کہ آپ نے پردہ لٹکایا اور اندر داخل ہو گئے اور میں حجرہ ( نما صفے ) میں بیٹھا ہوا تھا ، آپ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے حتی کہ ( دوبارہ ) باہر میرے پاس آئے ، اور ( آپ پر ) یہ آیت نازل کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے انہیں ( آیتِ کریمہ کے جملہ کلمات کو ) تلاوت فرمایا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے ، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ، بلکہ جب تمہیں دعوت دی جائے تب تم اندر جاؤ ، پھر جب کھانا کھا چلو تو منشتر ہو جاؤ ، اور ( وہیں ) باتوں میں دل لگاتے ہوئے نہیں ( بیٹھے رہو ۔ ) بلاشبہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے "" آیت کے آخر تک ۔ جعد نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ان آیات کے ساتھ ( جو ایک ہی طویل آیت میں سمو دی گئیں ) میرا تعلق سب سے زیادہ قریب کا ہے ، اور ( ان کے نزول ہوتے ہی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رضی اللہ عنھن کو پردہ کرا دیا گیا
110حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهْىَ تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ - فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعْهُ - ثُمَّ قَالَ - اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا وَمَنْ لَقِيتَ " . وَسَمَّى رِجَالاً - قَالَ - فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ . قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ عَدَدَ كَمْ كَانُوا قَالَ زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ . وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ " . قَالَ فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ " . قَالَ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا - قَالَ - فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ . فَقَالَ لِي " يَا أَنَسُ ارْفَعْ " . قَالَ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ - قَالَ - وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ - قَالَ - فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم َتَّى أَرْخَى السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَىَّ . وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الآيَاتِ وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:Allah's Messenger (ﷺ) contracted marriage and he went to his wife. My mother Umm Sulaim prepared hais and placed it in an earthen vessel and said: Anas, take it to Allah's Messenger (ﷺ) and say: My mother has sent that to you and she offers greetings to you, and says that it is a humble gift for you on our behalf, Messenger of Allah. So I went along with it to Allah's Messenger (ﷺ) and said: My mother offers you salutations, and says that it is a humble gift for you on our behalf. He said: Place it here, and then said: Go and invite on my behalf so and so and anyone whom you meet, and he even named some persons. He (Anas) said: I invited whom he had named and whom I met. I (one of the narrators) said: I said to Anas: How many (persons) were there? He (Anas) said: They were about three hundred persons. Then Allah's Messenger (ﷺ) (said to me): Anas, bring that earthen vessel. They (the guests) then began to enter until the courtyard and the apartment were fully packed. Allah's Messenger (ﷺ) said: Make a circle of ten (guests), and every person should eat from that nearest to him. They began to eat, until they ate to their fill. A group went out (after eating the food), and another group came in until all of them had eaten. He (the Holy Prophet) said to me: Anas, lift it (the earthen vessel), so I lifted it, but I could not assess whether it had more (food) when I placed it (before Allah's Messenger) or when I lifted it (after the people had been served out of it). A group among them (the guests) began to talk in the house of Allah's Messenger (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting and his wife had been sitting with her face turned towards the wall. It was troublesome for Allah's Messenger (ﷺ), so Allah's Messenger (ﷺ) went out and greeted his wives. He then returned. When they (the guests) saw that Allah's Messenger (ﷺ) had returned they thought that it (their overstay) was something troublesome for him. He (the narrator) said: They hastened towards the door and all of them went out. And there came Allah's Messenger (ﷺ) and he hung a curtain and went in, and I was sitting in his apartment and he did not stay but for a short while. He then came to me and these verses were revealed. Allah's Messenger (ﷺ) came out and recited them to the people:" O you who believe, enter not the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished-but when you are invited, enter, and when you have taken food, disperse not seeking to listen to talk. Surely this gives the Prophet trouble", to the end of verse (xxxiii. 53). (Al-Ja'd said that Anas [b. Malik] stated: I am the first amongst the people to hear these verses), and henceforth the wives of the Apostle (ﷺ) began to observe seclusion (al-hijab)
معمر نے ہمیں ابوعثمان ( جعد ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ " تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی ، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، کھانا کھاتے اور نکل جاتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں ( برکت کی ) دعا کی ، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں ، آپ نے کہا ۔ اور میں جس کو بھی ملا ، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی ، لوگوں نے کھایا ، حتی کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے ، ان میں سے ایک گروہ ( وہیں ) رہ گیا ، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں ، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیات ) نازل فرمائیں : " اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( اندر آنے کی ) اجازت دی جائے ، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ۔ " ۔ ۔ قتادہ نے کہا : کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ۔ ۔ " لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ ۔ " حتی کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی : " یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور یادہ پاکیزگی ( کا طریقہ ) ہے
112حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
Ibn Umar (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When any one of you is invited to a feast, he should attend it
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے
113وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ " . قَالَ خَالِدٌ فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ يُنَزِّلُهُ عَلَى الْعُرْسِ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When any one of you is invited to a feast, he should accept. 'Ubaidallah took this feast to be a wedding feast
خالد بن حارث نے ہمیں عبیداللہ ( بن عمر بن حفص مدنی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ "" خالد نے کہا : عبیداللہ اسے شادی ( کی دعوتِ ولیمہ ) پر محمول کرتے تھے
114حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ " .
Ibn Umar (Allah be pleased withthem) reported Allah's Apostle (ﷺ) having said this:When any one of you is invited to a wedding feast, he should accept that
محمد بن عبداللہ بن نمیر کے والد نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے
115حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may be upon him) having said this:Accept the feast, when you are invited
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
116وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When any one of you invites his brother, he (the latter) should accept his wedding feast, or any other like it
معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا کرتے تھے : " جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے شادی ہو یا اس جیسی ( کوئی اور ) تقریب
117وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ إِلَى عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleated with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:He who is invited to a wedding feast or like it, he should accept it
زُبیدی نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کو شادی یا اس جیسی کسی تقریب میں بلایا جائے تو وہ قبول کرے
118حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ، أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:Come to the feast, when you are invited
اسماعیل بن اُمیہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
119وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا " . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ .
Nafil reported:I heard Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) narrating that Allah's Messenger (ﷺ) said: Accept the feast when you are invited to it. And Abdullah (b. Umar) used to come to the feast, whether it was a wedding feast or other than that, and he would come there even in the state of fasting
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( مسلمان بھائیوں کی طرف سے دی جانے والی ) اس دعوت کو ، جب تمہیں اس کے لیے بلایا جائے ، قبول کرو ۔ "" کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دعوت میں شریک ہوتے خواہ وہ شادی کی ہو یا شادی کے بغیر ، اور وہ روزے کی حالت میں بھی اس میں آتے تھے
120وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:When you are invited to a feast (even though it is) the leg of the sheep, you should accept it
عمر بن محمد نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں ( بکری کے ) پائے کی بھی دعوت دی جائے تو قبول کرو
121وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى " إِلَى طَعَامٍ " .
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) said:When any one of you is invited to a feast, he should accept it. He may eat if he likes, or he may abandon (eating) if he likes. Ibn Mathanni did not make mention of the word" feast
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، دونوں ( ابن مہدی اور عبداللہ بن نمیر ) نے کہا : ہمیں سفیان اور ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اس مین آئے ، پھر اگر اور چاہے تو کھا لے ، چاہے تو نہ کھائے ۔ " ابن مثنیٰ نے " کھانے کی دعوت " کے الفاظ ذکر نہیں کیے
122وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters
ابن جُریج نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
123حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If any one of you is invited, he should accept (the invitation). In case he is fasting, he should pray (in order to bless the inmates of the house), and if he is not fasting he should eat
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے
124حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) used to say:The worst kind of food is the wedding feast to which the rich are invited and the poor are ignored. He who does not come to the feast, he in fact disobeys Allah and His Messenger (ﷺ)
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے : اُس ولیمے کا کھانا بُرا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ( بلانے کے باوجود ) دعوت میں شرکت نہ کی ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی
125وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ . قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ
Sufyan reported:I said to Zuhri: Abu Bakr, what does this hadith mean:" The worst kind of food is at a wedding feast of the rich"? He laughed and said: The food served in the feast given by the rich is not worst (in itself). Sufyan said: My father was rich, so I felt disturbed when I heard this hadith, so I asked Zuhri who said: I heard from 'Abd al-Rahman al-Alraj that he heard Abu Huraira (Allah he pleased with him) say: The worst kind of food is that served at the wedding feast. The rest of the hadith is the same
سفیان ( بن عیینہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے امام زہری سے پوچھا : جنابِ ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے : "" بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے "" ؟ وہ ہنسے ، اور جواب دیا : یہ ( حدیث ) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ۔ سفیان نے کہا : میرے والد غنی تھے ، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے ۔ آگے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا
126وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ . نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ. وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ ذَلِكَ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters. A hadith like this has been narrated by Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور اعرج سے ، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے ، ( آگے ) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح ہے
127وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا، الأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying. The worst kind of food is at the wedding feast from which one who comes is turned away, and he who refuses it is invited, and he who did not accept the invitation disobeyed Allah and His Messenger (ﷺ)
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث روایت کی
128حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " . قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
A'isha (Allah he pleased with her) reported:There came the wife of Rifa'a to Allah's Apostle (ﷺ) and said: I was married to Rifa'a but he divorced me, making may divorce irrevocable. Afterwards I married Abd al-Rahman b. al-Zubair, but all he possesses is like the fringe of a garment (i. e. he is sexually weak). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) smiled, and said: Do you wish to return to Rifa'a. (You) cannot (do it) until you have tasted his sweetness and he ('Abd al-Rahman) has tasted your sweetness. Abu Bakr was at that time near him (the Holy Prophet) and Khalid (b. Sa'id) was at the door waiting for the permission to be granted to him to enter), He (Khalid) said; Abu Bakr, do you hear what she is saying loudly in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رفاعہ ( بن سموءل قرظی ) کی بیوی ( تمیمہ بنت وہب قرظیہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں رفاعہ کے ہاں ( نکاح میں ) تھی ، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی ( تیسری ) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر ( بن باطا قرظی ) سے شادی کر لی ، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : "" کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں ( جا سکتی ) ، حتی کہ تم اس ( دوسرے خاوند ) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے ۔ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ ( بن سعید بن عاص ) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے ، تو انہوں نے پکار کر کہا : ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے
129حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلاَقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا . قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا فَقَالَ " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " . وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
A'isha (Allah be pleased with her), the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Rifa'a al-Quraid (Allah be pleased with him) divorced his wife, making her divorce irrevocable. Afterwards she married Abd at-Rahman b. al-Zubair (Allah be pleased with him), She came to Allah'sApostle (may peace be upon him and said to Allah's messenger (ﷺ) that she had been the wife of Rifa'a (Allah be pleased with him) and he had divorced her by three pronouncements and afterwards she married 'Abd al-Rahman b. al-Zubair. By Allah, all he possesses is like the fringe of a garment, and she took hold of the fringe of her garment. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) laughed and said:Perhaps you wish to return to Rifa'a, (but you) cannot (do it) until he has tasted your sweetness and you have tasted his sweetness. Abu Bakr al-siddiq (Allah be pleased with him) was sitting at that time with Allah's Messenger (ﷺ) and Khalid b. Sa'id b. al-'As (Allah be pleased with him) was sitting at the door of his apartment and he was not permitted to (enter the room), and Kbalid called loudly saying: Abu Bakr, why don't you scold her for what she is saying loudly in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور قطعی ( آخری ) طلاق دے دی ، تو اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر ( قرظی ) سے شادی کر لی ، بعد ازاں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی ، اس نے اسے تین طلاق بھی دے دی ، تو میں اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی اور وہ ، اللہ کی قسم! اس کے پاس تو کپڑے کے کنارے کی جھالر کی مانند ہی ہے ، اور اس نے اپنی چادر کے کنارے کی جھالر پکڑ لی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : " شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں! یہاں تک کہ وہ تمہاری لذت چکھ لے اور تم اس کی لذت چکھ لو ۔ " حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہیں ( ابھی اندر آنے کی ) اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : تو خالد نے ( وہیں سے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارنا شروع کر دیا : آپ اس عورت کو سختی سے اس بات سے روکتے کیوں نہیں جو وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہہ رہی ہے
130حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Rifa`a al Qurazi divorced his wife and afterwards `Abd al-Rahman b. al-Zubair married her. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Messenger of Allah, Rifa`a has divorced me by three pronouncements. (The rest of the hadith is the same)
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن بن زبیر نے اس عورت سے نکاح کر لیا ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! رفاعہ نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ہے ۔ ۔ جس طرح یونس کی حدیث ہے
131حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلاً فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَ " لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ".
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about a woman whom a man married and then divorced her, and then she married (another) person, and she was divorced before sexual intercourse with her, whether it was lawful for her first husband (to marry her in this state). He (the Holy Prophet) said:No, until he has tasted her sweetness
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے کوئی آدمی نکاح کرے ، پھر وہ اسے طلاق دے دے ، اس کے بعد وہ کسی اور آدمی سے نکاح کر لے اور وہ اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ( ہو جاتی ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، حتیٰ کہ وہ ( دوسرا خاوند ) اس کی لذت چکھ لے
132حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابن فُضَیل اور ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی
133حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرَادَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " لاَ حَتَّى يَذُوقَ الآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الأَوَّلُ " .
A'Asha (Allah be pleased with her) reported:A person divorced his wife by three pronouncements; then another person married her and he also divorced her without having sexual intercourse with her. Then the first husband of her intended to remarry her. It was about such a case that Allah's Messenger (ﷺ) was asked, whereupon he said: No, until the second one has tasted her sweetness as the first one had tasted
علی بن مسہر نے عبیداللہ بن عمر ( بن حفص عمری ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں ، اس کے بعد ایک اور آدمی نے اس سے نکاح کیا ، پھر اس نے اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دی تو اس کے پہلے شوہر نے چاہا کہ اس سے نکاح کر لے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : " نہیں ، حتیٰ کہ دوسرا ( خاوند ) اس کی ( وہی ) لذت چکھ لے جو پہلے نے چکھی
134وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ .
A hadith like this has been narrated on the same chain of transmitters by 'A'isha (Allah be pleased with her)
عبداللہ بن نمیر اور یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور عبیداللہ سے روایت کردہ یحییٰ کی حدیث میں ہے : ہمیں قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی
135حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ".
Ibn" Abbas (Allah be pleased with thern) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:If anyone amongst you intends to go to his wife he should say: In the name of Allah,0 Allah protect us against Satan and keep away the Satan from the one that you have bestowed upon us, and if He has ordained a male child for them, Satan will never be able to do any harm to him
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، نیز ابن نمیر اور عبدالرزاق نے ثوری سے ( اور ثوری اور شعبہ ) دونوں نے منصور سے جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، لیکن شعبہ کی حدیث میں " اللہ کے نام سے " کا ذکر نہیں ، اور ثوری سے روایت کردہ عبدالرزاق کی روایت میں " اللہ کے نام سے " ( کا جملہ ) ہے ۔ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے : منصور نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کے نام سے
136وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ " بِاسْمِ اللَّهِ " . وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ " بِاسْمِ اللَّهِ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ قَالَ " بِاسْمِ اللَّهِ " .
This hadith is narrated through another chain of transmitters and there is no mention of (the words)" Bismillah" (In the name of Allah) in it
مضمون وہی ہے مگر شعبہ كی روایت میں بسم اللہ كا لفظ نہیں اور عبد الرزاق كی روایت میں ہے اور ابن نمیر كی روایت میں ہے كہ منصور نے كہا كہ خیال كرتا ہوں میں كہ انہوں نے بسم اللہ كہا ہے
137حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابرًا يَقُولُ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ { نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}
Jabir (Allah be pleased with him) declared that the Jews used to say:When a man has intercourse with his wife through the vagina but being on her back. the child will have squint, so the verse came down:" Your wives are your tilth; go then unto your tilth as you may desire" (ii)
سفیان نے ہمیں ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، یہود کہا کرتے تھے : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے اس کی شرم گاہ میں مجامعت کرے تو بچہ بھینگا ( پیدا ) ہو گا ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، سو اپنی کھیتی میں آؤ جس طرف سے چاہو
138وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ يَهُودَ، كَانَتْ تَقُولُ إِذَا أُتِيَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا ثُمَّ حَمَلَتْ كَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ . قَالَ فَأُنْزِلَتْ { نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}
Jabir (b. Abdullah) (Allah be pleased with him) reported that the Jews used to say that when one comes to one's wife through the vagina, but being on her back, and she becomes pregnant, the child has a squint. So the verse came down:" Your wives are your ti'Ith; go then unto your tilth, as you may desire
ابوحازم نے محمد بن منکدر سے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود کہا کرتے تھے : جب عورت کے پیچھے کی طرف سے اس کی شرمگاہ میں مباشرت کی جائے ، پھر وہ حاملہ ہو تو اس کا بچہ بھینگا ہو گا ۔ کہا : اس پر ( یہ آیت ) نازل کی گئی : " تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، سو جس طرف سے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ
139وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ .
This hadith has been reported on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but in the hadith transmitted on the authority of Zuhri there is an addition (of these words):" If he likes he may (have intercourse) being on the back or in front of her, but it should be through one opening (vagina)
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی ۔ عبدالوارث بن عبدالصمد نے کہا : مجھے میرے والد نے میرے داداسے حدیث بیان کی ، انہوں نے ایوب سے روایت کی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث سنائی ۔ عبیداللہ بن سعد ، ہارون بن عبداللہ اور ابومعن رقاشی نے کہا : ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے نعمان بن راشد سے سنا ، وہ زہری سے روایت کر رہے تھے ۔ سلیمان بن سعید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن اسد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے سہل بن ابی صالح سے حدیث سنائی ، ان سب ( ابوعوانہ ، ایوب ، شعبہ ، سفیان ، زہری اور سہیل بن ابی صالح ) نے محمد بن منکدر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، زہری سے روایت کردہ نعمان ( بن راشد کی حدیث میں ان کے شاگرد جریر نے ) اضافہ کیا : اگر چاہے تو منہ کے بل اور اگر چاہے تو اس کے بغیر ( کسی اور ہئیت میں ) ، لیکن یہ ایک ہی ڈھکنے ( کی جگہ ، یعنی قُبل ) میں ہو
140وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:When a woman spends the night away from the bed of her husband, the angels curse her until morning
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا وہ زرارہ بن اوفیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جب کوئی عورت ( بلا عذر ) اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارتی ہے ، تو فرشتے اس کے صبح کرنے تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں
141وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " حَتَّى تَرْجِعَ " .
This hadith has been narrated through the same chain of transmitters (with a slight variation):" He said: Until she comes back
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، اور کہا : " یہاں تک کہ وہ ( اس کے بستر پر ) لوٹ آئے
142حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلاَّ كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا "
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
143وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " .
Abu Huraira (Allah he pleased with him) reported Allah's Messenger (may, peace be upon him) as saying:When a man invites his wife to his bed and she does not come, and he (the husband) spends the sight being angry with her, the angels curse her until morning
اعمش نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ، وہ نہ آئے اور وہ ( شوہر ) اس پر ناراضی کی حالت میں رات گزارے تو اس کے صبح کرنے تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ "" باب 21 : بیوی کا راز افشا کرنا حرام ہے
144حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah he pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upoin him) said:The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of judgment is the men who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret
مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن ، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ ( آدمی ) اس کا راز افشا کر دیتا ہے
145وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " إِنَّ أَعْظَمَ " .
Abu Sirma al-Khudri (Allah he pleased with him ) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording
محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا : ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے ( سنگین ) معاملات میں سے اس آدمی ( کا معاملہ ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے ، پھر وہ اس ( بیوی ) کا راز افشا کر دے ۔ " ابن نمیر نے کہا : سب سے بڑا ( سنگین ) معاملہ ۔ " ( یہ بڑی خیانت ہے)
146وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ الْعَزْلَ فَقَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا لاَ نَسْأَلُهُ . فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ سَتَكُونُ " .
Abu Sirma said to Abu Sa'id al Khadri (Allah he pleased with him):0 Abu Sa'id, did you hear Allah's Messenger (ﷺ) mentioning al-'azl? He said: Yes, and added: We went out with Allah's Messenger (ﷺ) on the expedition to the Bi'l-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing 'azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allah's Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allah's Mes- senger (ﷺ), and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born
ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی ، انہوں نے ابن مُحَریز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے ، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا : ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں ، ہمیں ( اپنی عورتوں سے ) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی ، اور ہم ( ان عورتوں کے ) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے ، ہم نے ارادہ کیا کہ ( ان عورتوں سے ) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں ، ہم نے کہا : ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ( عزل ) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک ( پیدا ) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے ، وہ ضرور پیدا ہو گی
147حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
A hadith like this has been narrated on the authority of Habban with the same chain of transmitters (but with this alteration) that he said:" Allah has ordained whom he has to createuntil the Day of judgment
موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اللہ نے ( پہلے ہی ) لکھ دیا ہے کہ وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے
148حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَكُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We took women captives, and we wanted to do 'azl with them. We then asked Allah's Messen- ger (ﷺ) about it, and he said to us: Verily you do it, verily you do it, verily you do it, but the soul which has to be born until the Day of judg- ment must be born
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ان ( ابن محریز ) کو خبر دی ، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو ( ان کے ساتھ ) ہم عزل کرتے تھے ، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا : " ( کیا ) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ ( واقعی ) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی
149وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَعَمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ" .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) (was asked if he had heard it himself), to which he said:Yes. (I heard) Allah's Apostle (ﷺ) as saying: There is no harm if you do not practise it, for it (the birth of the child) is something ordained (by Allah)
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے ، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( انس بن سیرین نے ) کہا : میں نے ان ( معبد ) سے پوچھا : آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم ( ایسا ) نہ کرو ، یہ تو صرف تقدیر ہے ( جو تم عزل کرو یا نہ کرو ، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی)
150وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْعَزْلِ " لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " . وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ .
This hadith is reported on the authority of Abu Sa'id with the same chain of transmitters but with a slight variation (of words)
محمد بن جعفر ، خالد بن حارث ، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز ، سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ( اس طرح ) ہے : انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا : "" ( اس میں ) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ "" بہز کی روایت میں ہے ، شعبہ نے کہا : میں نے ان سے پوچھا : کیاآپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا : ہاں
151وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ " لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " . قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَوْلُهُ " لاَ عَلَيْكُمْ " . أَقْرَبُ إِلَى النَّهْىِ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) was asked about 'azl, whereupon he said:There is no harm if you do not do that, for it (the birth of the child) is something ordained. Muhammad (one of the narrators) said: (The words) La 'alaykum (there is no harm) implies its Prohibition
ایوب نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی ، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے ( ان سے روایت کی ) ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ " محمد ( بن سیرین ) نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : ( لا عليكم ) " اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں " ممانعت کے زیادہ قریب ہے
152وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِيِّ، . قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " وَمَا ذَاكُمْ " . قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ . قَالَ " فَلاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that mention was made of 'azl in the presence of Allah's Apostle (ﷺ) whereupon he said:Why do you practise it? They said: There is a man whose wife has to suckle the child, and if that person has a sexual intercourse with her (she may conceive) which he does not like, and there is another person who has a slave-girl and he has a sexual intercourse with her, but he does not like her to have conception so that she may not become Umm Walad, whereupon he (the Holy Prophet) said: There is no harm if you do not do that, for that (the birth of the child) is something pre- ordained. Ibn 'Aun said: I made a mention of this hadith to Hasan, and he said: By Allah, (it seems) as if there is upbraiding in it (for 'azl)
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی ، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( اس سے ) تمہارا مقصود کیا ہے؟ "" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا : کسی آدمی کی بیوی ہے ( بچے کو ) دودھ پلا رہی ہوتی ہے ، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو ، یہ ( بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا ) تو تقدیر کا معاملہ ہے ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث حسن ( بصری ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے
153وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ - يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ - فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، .
Ibn 'Aun reported:I reported to Muhammad on the authority of Ibrahim the hadith reported by 'Abd al-Rahmann b. Bishr (the hadith concerning 'azl), where- upon he said: That (hadith) Abd al-Rahman b. Bishr had narrated to me (also)
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حماد ( بن سیرین ) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث ، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا : عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی
154حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْبَدِ، بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْنَا لأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَى قَوْلِهِ " الْقَدَرُ " .
Ma'bad b. Sirin said to Abu Sa'id (Allah be pleased with him):Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) making a mention of something in regard to al-'azl? Thereupon he said: Yes. The rest (of the hadith is the same)
ہشام نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ آگے انہوں نے القدر ( یہ تو تقدیر ہے ) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی
155حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - وَلَمْ يَقُلْ فَلاَ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:Mention was made about al-'azl in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), whereupon he said: Why any one of you practises it? (He did not say: One of you should not do it), for there is no created soul, whose creator is not Allah
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے ۔ ( وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)
156حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَهُ يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَىْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَىْءٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about 'azl, whereupon he said:The child does not come from all the liquid (sermen) and when Allah intends to create anything nothing can prevent it (from coming into existence)
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابو طلحہ سے خبر دی ، انہوں نے ابو وداک سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں ( ابووداک ) نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : "" ہر پانی ( منی کے قطرے ) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ "" ( زید بن حباب نے معاویہ سے ، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی)
157حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted by Abu Sa'id from Allah's Apostle (ﷺ)
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : میری ایک لونڈی ہے ، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں ۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ۔ تو آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو ، ( لیکن ) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا ۔ " وہ شخص ( چند دن ) رکا ، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کی : وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا
158حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ . فَقَالَ " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " . فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ . فَقَالَ " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
Jabir (Allah be pleased with him) reported that a man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I have a slave-girl who is our servant and she carries water for us and I have intercourse with her, but I do not want her to conceive. He said: Practise 'azl, if you so like, but what is decreed for her will come to her. The person stayed back (for some time) and then came and said: The girl has become pregnant, whereupon he said: I told you what was decreed for her would come to her
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔ ( میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)
159حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً لِي وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ " . قَالَ فَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that a person asked Allah's Apostle (ﷺ) saying:I have a slave-girl and I practise 'azl with her, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: This cannot prevent that which Allah has decreed. The person then came (after some time) and said: Messenger of Allah, the slave-girl about whom I talked to you has conceived, whereupon Allah's Messeuger (ﷺ) said: I am the servant of Allah and His Messenger
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اور کہا : میرے پاس میری ایک لونڈی ہے ، میں اس سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک یہ ( عزل ) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو ۔ " کہا : وہ شخص ( دوبارہ ) حاضرِ خدمت ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ، حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں ۔ ( میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)
160وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ، قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:A person came to Allah's Apostle (the rest of the hadith is the same)
ابو احمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ( آگے ) سفیان کی حدیث کے ہم معنی ( ہے)
161حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ . زَادَ إِسْحَاقُ قَالَ سُفْيَانُ لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ
Jabir (Allah be pleased with him) reported:We used to practise 'azl while the Qur'an was revealed (during the days when the Prophet was alive)
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، ( انہوں نے کہا ) ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا تھا ۔ اسحاق نے اضافہ کیا : سفیان نے کہا : اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا ( ضروری ) ہوتا تو قرآن ہمیں ( ضرور ) اس سے منع کرتا
162وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Jabir (Allah be pleased with him) reported:We used to practise 'azl during the life of Allah's Messenger (ﷺ)
معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے
163وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَنْهَنَا .
Jabir (Allah be pleased with him) reported:We used to practise 'azl during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). This (the news of this practise) reached Allah's Apostle (ﷺ), and he did not forbid us
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے ۔ یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا
164وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ " لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا " . فَقَالُوا نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ " .
Abu Darda' (Allah be pleased with him) related from the Prophet of Allah (ﷺ) that he came upon a woman who was in the advanced stage of pregnancy at the door of a tent. He (the Holy Prophet) said:Perhaps he (the man accompanying her) intends to cohabit with her. They said: Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I have decided to curse him with such a curse as may go along with him to his grave. How can he own him (the child to be born) and that is not lawful for him, and how can he take him as a servant for that is not lawful for him?
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد ( جبیر بن نفیر ) سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت ( لونڈی ) کے پاس سے گزرے ، آپ نے فرمایا : " شاید وہ ( اس کا مالک ) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟ " صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس ( طرح کے بچے ) کو وارث بنائے گا ، جبکہ وہ ( وارث بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں ۔ وہ کیسے اس سے خدمت لے گا ( اسے غلام بنائے گا؟ ) جبکہ ( اس بچے کے پیٹ میں ہونے کے دوران میں اس کی ماں سے مباشرت کرنے کی بنا پر اس بچے/بچی کو غلام/کنیز بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں
165وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Shu'ba
یزید بن ہارون اور ابوداؤد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی
166وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ " . قَالَ مُسْلِمٌ وَأَمَّا خَلَفٌ فَقَالَ عَنْ جُذَامَةَ الأَسَدِيَّةِ . وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ .
Judaima daughter of Wahb al-Asadiyya (Allah be pleased with her) reported that she heard Allah's Messenger (ﷺ) assaying:I intended to prohibit cohabitation with a suckling woman until I considered that the Romans and the Persians do it without any injury being caused to their children thereby. (Imam Muslim said: Khalaf reported it from Judamat al-'Asadiyya, but the correct wording is what has been stated by Yahya)
جدامہ نے رسول اﷲ ﷺ سے سُنا کہ فرماتے تھے میں نے چاہا کہ غیلہ سے منع کردوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو ضرر نہیں ہوتا ۔ مسلم نے فرمایا کہ جدامہ بے نقطہ کے دل سے صحیح ہے ۔
167حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ قَالَتْ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلاَدَهُمْ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا " . ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ " . زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ وَهْىَ { وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ}
Judama daughter of Wahb, sister of Ukkasha (Allah be pleased with her). reported:I went to Allah's Messenger (ﷺ) along with some persons and he was saying: I intended to prohibit cohabitation with the suckling women, but I considered the Greeks and Persians, and saw that they suckle their children and this thing (cohabitation) does not do any harm to them (to the suckling women). Then they asked him about 'azl, whereupon he said. That is the secret (way of) burying alive, and Ubaidullah has made this addition in the hadith transmitted by al-Muqri and that is:" When the one buried alive is asked
عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں مُقری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابواسود نے عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : "" میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ ( دودھ پلانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے ) سے منع کر دوں ، پھر میں نے روم اور فارس ( کے لوگوں کے بارے ) میں دیکھا ( سوچا ، غور کیا ) تو وہ اپنے بچوں ( کی دودھ پلانے والی ماؤں ) سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا ۔ "" پھر صحابہ نے آپ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ مخفی ( واد ) زندہ درگور کرنا ہے ۔ "" عبیداللہ نے مُقری سے روایت کردہ اپنی حدیث میں اضافہ کیا : اور یہی ہے : "" زندہ درگور کی گئی سے ( قیامت کے دن ) پوچھا جائے گا
168وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْعَزْلِ وَالْغِيلَةِ . غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " الْغِيَالِ " .
Judama bint Wahb al-Asadiyya (Allah be pleased with her) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying this. The rest of the hadith is the same concerning 'azl and ghila (cohabitating with a suckling woman), but with a slight variation of words
یحییٰ بن ایوب نے ہمیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ ۔ ۔ آگے عزل اور غیلہ کے بارے میں سعید بن ابوایوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔ لیکن انہوں نے ( غیلہ کے بجائے ) غِیال کہا ( معنی وہی ہیں)
169حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلاَدِهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ " . وَقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ " إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلاَ مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ وَلاَ الرُّومَ "
Sa'd b. Abu Waqqas (Allah be pleased with him) reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I do 'azi with my wife. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Why do you do that? The person said: I fear harm to her child or her children. Thereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said: If that were harmful it would harm the Persians and the Greeks
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے ۔ ۔ الفاظ ابن نمیر کے ہیں ۔ ۔ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن یزید مقبری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حیوہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عیاش بن عباس نے حدیث سنائی ، انہیں ابونضر نے عامر بن سعد سے حدیث بیان کی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : می اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ "" اس نے جواب دیا : میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پر ( جنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے ) شفقت کرتا ہوں ( کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو ۔ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم ( کے بچوں ) کو نقصان دیتا ۔ "" زہیر نے اپنی روایت میں کہا : "" اگر یہ ( عزل ) اس وجہ سے ہے تو ( اس کی ضرورت ) نہیں ، اس ( عمل ) نے فارس اور روم ( کے بچوں ) کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا