1حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When there comes the month of Ramadan, the gates of mercy are opened, and the gates of Hell are locked and the devils are chained
اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل ( نافع بن مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۔
2وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " .
Narrated Abu Huraira:Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying: When it is the month of Ramadan, the gates of mercy are opened, and the gates of Hell are locked and the devils are chained
یونس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ( ابوسہیل نافع ) ابن ابی انس سے روایت کی کہ انھیں ان کےوالد نے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان ( کا آغاز ) ہوتاہے ، رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں ۔
3وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ " . بِمِثْلِهِ .
This hadith is reported by Abu Huraira (with a slight alteration of words) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:" When (the month of) Ramadan begins
صالح نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رمضان داخل ( شروع ) ہوتا ہے ۔ " ( باقی الفاظ ) اسی ( یونس کی حدیث ) کے مانندہیں ۔
4حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying in connection with Ramadan:Do not fast till you see the new moon, and do not break fast till you see it; but if the weather is cloudy calculate about it
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا : " روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار ( روزوں کا اختتام ) نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اوراگر تم پرمطلع ابرآلود کردیا جائے تو اس ( رمضان ) کی مقدار ( گنتی ) پوری کرو ۔
5حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ " .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of Ramadan and he with the gesture of his hand said:The month is thus and thus. (He then withdrew his thumb at the third time). He then said: Fast when you see it, and break your fast when you see it, and if the weather is cloudy calculate it (the months of Sha'ban and Shawwal) as thirty days
ابواسامہ نے کہا : عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا : " مہینہ اس طرح اور اس طرح اوراس طرح ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( یعنی 29 کی گنتی بتائی ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو ، اگر تمھارا مطلع ابر آلود ہوجائے تو اس کے تیس دن پورے کرو ۔
6وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلاَثِينَ " . نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ .
This hadith is narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters, and he said:If (the sky) is cloudy for you, then calculate thirty days (for the month of Ramadan)
ہم سے ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، فرمایا : " اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کے تیس دن شمار کرو ۔ " جس طرح ابو اسامہ کی حدیث ہے ۔
7وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَقَالَ " فَاقْدِرُوا لَهُ " . وَلَمْ يَقُلْ " ثَلاَثِينَ " .
Ubaidullah narrated on the authority of the same chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) made a mention of Ramadan and said:The month may consist of twenty-nine days, and it may be thus, thus and thus, and (he further) said: Calculate it, but he did not say thirty
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کرکے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتا ہے ، ( اشارے سے کہا : ) مہینہ اس طرح ، اس طرح اوراس طرح ( تین دہائیاں ہوتا ) ہے " اور کہا : " اس کی گنتی پوری کرو ۔ " اور تیس کا لفظ نہیں بولا ۔
8وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
Ibn'Umar (Allah be pleased with-both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month of Ramadan may consist of twenty-nine days. So do not fast till you have sighted it (the new moon) and do not break fast, till you have sighted it (the new moon of Shawwal), and if the sky is cloudy for you, then calculate
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کا ہوتاہے ( اور فیصلہ چاند سے ہوتا ہے ) اس لئے نہ چاند دیکھے بغیر روزے رکھو اور نہ اسے دیکھے بغیر روزے ختم کرو اگرآسمان ابر آلود ہوتو ا س کی گنتی ( تیس ) پوری کرو ۔
9وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days; so when you see the new moon observe fast and when you see (the new moon again at the commencement of the month of Shawwal) then break It, and if the sky is cloudy for you, then calculate it (and complete thirty days)
سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کابھی ہوتاہے ، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو توروزے ختم کرو ، اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کی گنتی پوری کرو ۔
10حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Measenger (ﷺ) as saying:When you see the new moon, observe fast, and when you see it (again) then break it, and if the sky is cloudy for you, then calculate it
سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسنا : " جب اس ( چاند ) کو دیکھ لو تو روزہ رکھو اورجب اسے دیکھ لوتو روزے ختم کرو اوراگر بادل چھا جائیں تو اس ( مہینے ) کی گنتی پوری کرلو ۔
11وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ إِلاَّ أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month may consist of twenty-nine nights. So do not fast till you have sighted it (the new moon) and do not break it till you have sighted it, except when the sky is cloudy for you, and if it is so, then calculate it
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : رسول اللہ نے فرمایا : " مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔ چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور اسے دیکھے بغیر ر وزے ختم نہ کرو مگر یہ کہ تم پر بادل چھا جائیں ۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس ( مہینے ) کی گنتی پوری کرو ۔
12حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ .
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month is thus and thus and thus (i. e. pointing with his fingers thrice), and he held back his thumb at the third time (in order to show that it can also consist of twenty-nine days)
عمرو بن دینار نے ہمیں حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، " مہینہ اس طرح ، اس طرح ، اور اس طرح ہوتاہے " اور تیسری دفعہ اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( اشارے سے انتیس 29 کی گنتی بتائی ۔)
13وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month may consist of twenty-nine days
ابو سلمہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔
14وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month (of Ramadan) is thus and thus, and thus. i.e. ten, ten and nine
موسیٰ بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ ایسا ، ایسا ، ایسا ( یعنی ) دس ، دس اور نو کاہوتاہے ۔
15وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا " . وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى .
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month is thus, and thus, and thus, and he flapped his hands with all their fingers twice. but at the third turn, folded his right thumb or left thumb (in order to give an idea of twenty-nine)
شعبہ ، جبلۃ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ ہمیشہ ایسے ایسے اور ایسے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کی انگلی سے اشارہ کرکے فرمایا اور تیسری مرتبہ میں آپ نے اپنے دائیں یا بائیں انگوٹھے کو بند فرما لیا ۔
16وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " . وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَكَسَرَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ . قَالَ عُقْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ " الشَّهْرُ ثَلاَثُونَ " وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days, and Shu'ba (one of the narrators) (gave a practical demonstration how the Holy prophet (ﷺ) explained to them) by unfolding his hands thrice and folding his thumb at the third turn. 'Uqba (one of the narrators in this chain of transmitters) said: I think that he said that the month consists of thirty days and unfolded his palm three times
شعبہ نے ہمیں عقبہ بن حریث سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مہینہ انتیس کاہوتاہے ۔ "" شعبہ نے تین بار دونوں ہاتھوں کو ( دکھا کر ) ایک دوسرے سے جوڑا اور تیسری بار انگوٹھا کم کرلیا ۔ عقبہ نے کہا : میراخیال ہے ( پھر ) انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : "" مہینہ تیس کاہوتا ہے "" اور ( ایک دفعہ ) اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں ۔
17حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ - وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . يَعْنِي تَمَامَ ثَلاَثِينَ .
Ibn 'Umar (may Allah be pleased with both of them) reported Allah's Apostle as saying:We are an unlettered people who can neither write nor count. The month is thus, and thus. folding his thumb when he said it the third time
محمد بن المثنی ، ابن بشار ، محمد جعفر ، شعبہ ، اسود بن قیس ، سعید ابن عمر وبن سعید ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی امت کے لوگ ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں مہینہ اس طرح ہوتا ہے اور اس طرح اور اس طرح اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھے کو بند فرمالیا ، اور مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے یعنی مکمل تیس ( دنوں ) کا ۔
18وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلاَثِينَ .
This hadith has been narrated on the authority of Aswad b. Qais with the same chain of transmitters, but herein no mention has been made of the other month (consisting of) thirty days
سفیان نے اسود بن قیس سے اسی سندکے ساتھ روایت کی اور دوسرے مہینے کے تیس ( دنوں ) کا ذکر نہیں کیا
19حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - رَجُلاً يَقُولُ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ فَقَالَ لَهُ مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ " وَهَكَذَا " . فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ " .
Sa'd b. 'Ubaida reported that Ibn'Umar (Allah be pleased with both of them) heard a person saying:This night is the midnight (of the month). Upon this he said to him: How do you know that it is the midnight (of the month), for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The month is thus and thus (and he pointed with his ten fingers twice) and thus (i. e. at the third time he pointed with all his fingers but withdrew or folded his thumb)?
سعد بن عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ آج رات آدھا مہینہ ہوگیا توحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے کس طرح معلوم ہوا کہ رات آدھا مہینہ ہوگیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہینہ اس طرح اس طرح اور اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں سے دومرتبہ دس کا اشارہ فرمایا اور اپنی ساری انگلیوں سے اشارہ فرمایا ۔ اور ایسا تیسری دفعہ اپنے انگوٹھے کو کھلنے سے روک یا موڑ لیا ۔
20حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ يَوْمًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whenever you sight the new moon (of the month of Ramadan) observe fast. and when you sight it (the new moon of Shawwal) break it, and if the sky is cloudy for you, then observe fast for thirty days
سعید بن مسیب ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار ( عید ) کرو اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم تیس د نوں کے روزے رکھو ۔
21حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Observe fast on sighting it (the new moon) and break (fast) on sighting it (the new moon), but if the sky is cloudy for you, then complete the number (of thirty)
۔ ربیع ، ابن مسلم ، عن محمد ، ابن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
22وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Observe fast on sighting it (the new moon) and break it on sighting it. But if (due to clouds) the actual position of the month is concealed from you, you should then count thirty (days)
شعبہ ، محمد بن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار ( عید ) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
23حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عُمَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْهِلاَلَ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (may peace he upon him) made a mention of the new moon and (in this connection) said:Observe fast when you see it (the new moon) and break fast when you see it (the new moon of Shawwal), but when (the actual position of the month is) concealed from you (on account of cloudy sky), then count thirty days
اعرج ، ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرروزہ افطار ( عید ) کرو ۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
24حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ، بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not observe fast for a day, or two days ahead of Ramadan except a person who is in the habit of observing a particular fast; he may fast on that day
علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
25وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ، مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Abi Kathir with the same chain of transmitters
۔ معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
26حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا - قَالَ الزُّهْرِيُّ - فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَتْ بَدَأَ بِي - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
Zuhri reported that (once) the Messenger of Allah (ﷺ) took an oath that he would not go to his wives for one Month. Zuhri said that 'Urwa narrated to him from 'A'isha (Allah be pleased with her) that she said:When twenty-nine nights were over, which I had counted, the Messenger of Allah (ﷺ) came to me (he came to me first of all). I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not come to us for a month, whereas you have come after twenty nine days which I have counted. Whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days
معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ا پنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ انھوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ۔ ( باریوں کا ) آغاز مجھ سے فرمایا میؔت نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نےقسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئے گے ۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں ، میں گنتی رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
27حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْنَا إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ . فَقَالَ " إِنَّمَا الشَّهْرُ " . وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الآخِرَةِ .
Jabir (Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) separated himself from his wives for a month. (His wives said:) He came to us on the twenty-ninth day, whereupon we said: It is the twenty-ninth (day) today. Thereupon he said: So far as the month is concerned, (and he, with a view to explaining it) flapped his hands thrice, but held back one finger at the last turn
لیث ، ابن زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا ۔ ( اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے)
28حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " . ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ ثَلاَثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا .
Abu Zubair is reported to have heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as saying:The Apostle of Allah (ﷺ) separated himself from his wives for a month. (His wives said: ) He came to us on the morning of the twenty-ninth. Upon this some, of the people said: It is the morning of twenty- ninth (according to our calculation). Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: The month. may also consist of twenty-nine days. The Apostle of Allah (ﷺ) then flapped his bands thrice, twice with all the fingers of both his hand (to indicate twenty-nine) and by the third time with nine (fingers)
ابن جریج ، ابو زبیر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ
29حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا . قَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا " .
Umm Salama (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days bad passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him:Apostle of Allah, you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days
حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے
30حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
ضحاک ، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
31حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا " . ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا .
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (ﷺ) struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said:The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn
محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
32وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً .
Muhammad b. Sa'd reported on the authority of his father (Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Tho month is thus and thus, and thus, i. e. ten, ten and nine
زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
33وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ، بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .
This hadith has been narrated by Ibn Abu Khalid with the same chain of transmitters
۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
34حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ . فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي .
Kuraib reported that Umm Fadl, daughter of Harith, sent him (Fadl, i.e. her son) to Mu'awiya in Syria. I (Fadl) arrived in Syria, and did the needful for her. It was there in Syria that the month of Ramadan commenced. I saw the new moon (of Ramadan) on Friday. I then came back to Medina at the end of the month. Abdullah b. 'Abbas (Allah be pleased with him) asked me (about the new moon of Ramadan) and said:When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said: (Did) you see it yourself? I said: Yes, and the people also saw it and they fasted and Mu'awiya also fasted, whereupon he said: But we saw it on Saturday night. So we will continue to fast till we complete thirty (fasts) or we see it (the new moon of Shawwal). I said: Is the sighting of the moon by Mu'awiya not valid for you? He said: No; this is how the Messenger of Allah (ﷺ) has commanded us. Yahya b. Yahya was in doubt (whether the word used in the narration by Kuraib) was Naktafi or Taktafi
کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «نَكْتَفِى» کہا یا «تَكْتَفِى» ۔
35حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ، مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ - قَالَ - تَرَاءَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ . وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ . فَقَالَ أَىَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ " .
Abu'l-Bakhtari reported:We went out to perform Umra and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn 'Abbas and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet of Allah (ﷺ) had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it
۔ حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ۔ تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ۔
36حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " .
Abu'l-Bakhtari reported:We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-'Irq. We sent a man to Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty)
شعبہ ، عمرو ابن مرہ حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاندد یکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے ۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہوتو گنتی پوری کرو ۔
37حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
The son of Abu Bakra reported it on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The two months of 'Id, Ramadan and Dhu'l-Hijja (are not incomplete)
یزید بن زریع ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا ۔
38حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ " . فِي حَدِيثِ خَالِدٍ " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
Abd ar-Rahman b. Abu Bakra reported on the authority of Abu Bakra that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The months of 'Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are):" The months, of 'Id are Ramadan and Dhu'l-Hijja
معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔
39حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .
Adi b. Hatim (Allah be pleased with him) reported that when (this verse) was revealed:" Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak" (ii. 187) Adi b. Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔
40حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { مِنَ الْفَجْرِ} فَبَيَّنَ ذَلِكَ .
Sahl b. Sa'd said that when this verse was revealed:" Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak," a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, reveiled (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn)
فضیل بن سلیمان ، ابو حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ جب یہ آیتوَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتاتو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی ۔
41حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الأَبْيَضَ فَلاَ يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ { مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) said:When this verse was revealed." Eat and drink till the white streak becomes distinct from the dark streak for you," the person who decided to observe fast tied on one of his feet a black thread and on the other a white thread. And he went on eating and drinking till he could distinguish (between their colour) on seeing them. It was after this that Allah reveal- ed (the words): min al-fajr. And they (the Muslims) came to know that (the word khait) refers to the night and day
ابو غسان ، ابو حازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو ا پنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے ۔
42حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Bilal would pronounce Adhan (at the fag end of the night in order to inform the people about the time of the Sahri). So you eat and drink till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum (which was pro- nounced at the conclusion of the Sahri and the commencement of the fast)
لیث ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے و قت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
43حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Bilal announces Adhan during the night, so you eat and drink, till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum
یونس ، ابن شہاب ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں ۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔
44حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had two Mu'adhdhins, Bilal and son of Umm Maktum, the blind. The Messenger of Allah (ﷺ) said:Bilal announces Adhan at (the fag end of the) night (i. e. Sahri), so eat and drink till the son of Umm Maktum announces Adhan. And he (the narrator) said: And the (difference of time) between their (Adhans) was not more than this that one climbed down (from the minaret) and the other climbed up (to announce Adhan)
ابن نمیر ، عبیداللہ بن نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے و قت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ سوائے اس کے کہ وہ ا ذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے ۔
45وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her)
ابن نمیر ، عبیداللہ ، قاسم ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
46وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِالإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah on the two chains of transmitters
ابو اسامہ ، عبدہ ، حمادبن مسعدہ ، سب نے عبیداللہ سے ( پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکوران کی ) سندوں کےساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے ۔
47حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلاَلٍ - مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ " . وَقَالَ " لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا - وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " . وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ .
Ibn Mas'ud (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying The Adhan of Bilal should not restrain anyone among you from eating Sahur (last meal before daybreak during the month of Ramadan) for he announces Adhan (or he calls) at (the fag end of) the night to make him turn who stands for prayer among you, and to awaken those who are sleeping among you. And he said:The dawn is not like it, as one says (and he lifted his hand) till he (dispersed his fingers) and said: It is like this
اسماعیل بن ابراہیم ، سلیمان تیمی ، ابی عثمان ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ ر وکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لئے لوٹ جائے ۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھاکیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایاس کہ صبح اس طرح ہوتی ہے ۔
48حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا " . وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الأَرْضِ " وَلَكِنِ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا " . وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ .
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said:The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand)
خالداحمر نے ، سلیمان تیمی ، سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ۔
49وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ " يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا " . يَعْنِي الْفَجْرَ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ .
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and, at the end, it was said that the first Adhan was meant to awaken those who were in slumber amongst them and in order to make them turn who stand in (prayer) among them (towards food at the commencement of the fast). Jarir (one of the narrators) said that the Messenger (ﷺ) did not say like this but he said like it (true dawn) that the streaks of (true dawn ) are horizontal and not vertical
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، معتمر بن سلیمان ، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سورہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے ۔ اسحاق نے کہا : جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے ۔
50حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، حَدَّثَنِي وَالِدِي، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
Samura b. Jandub reported Muhammad (ﷺ) as saying. The call of Bilal may not mislead any one of you (and he may, under the wrong impression gathered from it, refrain) from taking meal before the commencement of the fast (for the streaks) of this whiteness (which are vertical indicate the false dawn and the true dawn with which the fast commences is that when the streaks of light are) spread
عبدالوارث ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ کہ تم میں سے کوئی سحری کےوقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے ۔
51وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا ".
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Adhan of Bilal should not mislead you nor the whiteness (of the pillar) of dawn, for it is not the whiteness of the true dawn, but that of the false dawn which is vertical like a pillar and you can eat food till the streaks of whiteness spread like it
۔ اسماعیل بن علیۃ ، عبداللہ بن سوادۃ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوجائے ۔
52وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَيَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " . وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ قَالَ يَعْنِي مُعْتَرِضًا .
Samura b. Jundub (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Adhan of Bilal may not mislead you with regard to your food at the commencement of the fast, nor the vertical (streaks) of whiteness in the horizon (for it is an indication of false dawn). You should stop eating (food) till (the whiteness) spreads like it. Hammad narrated it and with the gesture of his band he explained, the horizontal position (of the streaks of light)
حماد ، ابن زید ، عبداللہ بن سوادۃ قشیری ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں ( کے اشارے ) سے بیان کیا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد چوڑائی میں پھیلنے والی ( سفیدی ) سے تھی ۔
53حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ، بْنَ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ - أَوْ قَالَ - حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " .
Samura b. Jundub addressed and narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) having said (these words):Neither the call of Bilal should mislead you nor this whiteness (of false dawn) till (the true) dawn appears (or he said) till the dawn breaks
عبیداللہ بن معاذ ، شعبہ ، سوادہ ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے ۔
54وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ هَذَا .
A hadith like this has been narrated on the authority of Samura b. Jundub
ابو داود ( طیالسی ) نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد یہی ( حدیث ) بیان کی ۔
55حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه ح . وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
Anas (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Take meal a little before dawn, for there is a blessing in taking meal at that time
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔
56حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ " .
Amr b. al-'As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn
لیث ، موسیٰ بن علی ، ابی قیس ، مولی عمرو بن عاص ، حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارےروزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کافرق ہے ۔
57وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
Musa b. 'Ali has narrated this hadith through the same chain of transmitters
وکیع اور وہب دونون نے موسیٰ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح ر وایت نقل کی گئی ہے ۔
58حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قُلْتُ كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ خَمْسِينَ آيَةً .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said:We took meal shortly before dawn along with the Messenger of Allah (ﷺ). We then stood up for prayer. I said: How much span of time was there between the two (acts, i. e. taking of Sahri and observing of prayer)? He said (a span of reciting) fifty verses
ہشام ، قتادہ ، انس ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کےلئے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا پچاس آیات کے برابر ۔
59وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Qatada too
عمرو ناقد ، یزیدبن ہارون ، ہمام ، ابن مثنی ، سالم بن نوح ، عمربن عامر ، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کی گئی ہے ۔
60حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ، بْنِ سَعْدٍ - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " .
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) repotted Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The people will continue to prosper as long as they hasten the breaking of the fast
عبدالعزیز بن ابی حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے ۔
61وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted by Sahl b. Sa'd
قتیبہ ، یعقوب ، زہیر بن حرب ، عبدالرحمٰن ابن مہدی ، سفیان ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے ۔
62حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ . قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ . قَالَتْ كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى .
Abu 'Atiyya reported:I and Masruq went to 'A'isha and said to her: Mother of the Believers, there are two persons among the Companions of Muhammad (ﷺ) one among whom hastens in breaking the fast and in observing prayer, and the other delays breaking the fast and delays observing prayer. She said: Who among the two hastens in breaking fast and observing prayers? We said, It is 'Abdullah. i. e. son of Mas'ud. whereupon she said: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) did. Abu Kuraib added: The second one was Abu Musa
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، محمد بن علاء ، ابو معاویہ ، اعمش ، عمارہ بن عمیر ، حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا اے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتاہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتاہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتاہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا!کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں ۔ حضرت ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ یعنی ابن مسعود ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔
63وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لاَ يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ . فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ . فَقَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ .
Abu 'Atiyya reported:I and Misruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and Masruq said to her: There are two persons among the Companions of Muhammad (ﷺ) none of whom abandons the good, but one of them hastens to observe sunset prayer and break the fast, and the other delays in observing the sunset prayer and in breaking the fast, whereupon she said: Who hastens to observe sunset prayer and break the fast? He said: It is 'Abdullah. Upon this she said: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to do
ابن ابی زوائد ، اعمش ، عمارہ ، حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اورافطاری میں جلدی کرتا ہے ۔ دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتاہے ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
64حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ - وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " . لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ " فَقَدْ " .
Umar (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the night approaches and the day retreates and the sun sinks down, then the observer of the fast should break it. Ibn Numair made no mention of the word" then
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، ابن نمیر ، ابو کریب ، اسامہ ، ہشام ، عروہ ، عاصم ، ابن عمر ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلیناچاہیے ۔ ابن نمیر نے فقد ( حقیقتاً ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
65وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي أَوْفَى - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ " يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا . قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ " إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
Abdullah b. Abi Aufa reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey during the month of Ramadan. When the sun had sunk he said: So and so, get down (from your ride) and prepare the meal of parched barley for us. He said: Messenger of Allah, still (there is light of) day. He (the Holy Prophet) said: Get down and prepare meal of parched barley for us. So he got down and prepared the meal of parched barley and offered him, and the apostle of Allah (ﷺ) drank that (liquid meal). He then told with the gesture of his hand that when the sun sank from that side and the night appeared from that side, then the observer of the fast should break it
ہشیم ، ابی اسحاق شیبانی ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اتر اور ہمارے لئے ستو ملااس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کرلیناچاہیے ۔ ( اس کا روزہ ختم ہوچکا)
66حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ . قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا . فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. When the sun sank he said to a person: Get down and prepare barley meal for us. Upon this he said: Messenger of Allah, let there be dusk. (He the Holy Prophet) said: Get down and prepare barley meal for us. He (the person) said: There is still (the light of) day upon us. (But) he got down (in obedience to the command of the Holy Prophet) and prepared a barley meal for him and he (the Holy Prophet) drank that (liquid meal) and then said: When you see the night approaching from that side (west) (and he pointed towards the east with his hand), then the observer of the fast should break it
علی بن مسہر ، عباد بن عوام ، شیبانی ، حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ شام ہونے دیں؟تو آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ نے ستو پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے ۔
67وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى - رضى الله عنه - يَقُولُ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ " يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ .
Abdullah b. Abi Aufa (Allah be pleased with him) reported:We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) as he had been observing fast. When the sun sank he said: So and so, get down and prepare barley meal for us. The rest of the hadith is the same
ابوکامل ، عبدالواحد ، سلیمان شیبانی ، حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے ۔
68وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ح . وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَلاَ قَوْلُهُ " وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا " . إِلاَّ فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words):In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): During the month of Ramadan." nor his statement:" And the night prevails from that side (the eastern side)." (These words are found in the narration of) Hushaim only
ابن ابی عمر ، سفیان ، اسحاق ، جریر ، شیبانی ، ابن ابی اوفیٰ ، عبیداللہ بن معاذ ، ابن مثنی ، محمد بن جعفر ، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے ۔
69حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade uninterrupted fasting. They (some of the Companions) said:You yourself fast uninterruptedly, whereupon he said: I am not like you. I am fed and supplied drink (by Allah)
یحییٰ بن یحییٰ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔
70وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ . قِيلَ لَهُ أَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed fasts uninterruptedly in Ramadan and the people (in his wake) did this. But he forbade them to do so. It was said to him (to the Holy Prophet):You yourself observe the fasts uninterruptedly (but you forbid us to do so) Upon this he said: I am not like you; I am fed and supplied drink (by Allah)
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا ( یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے ) لہذا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایاجاتا ہے ۔
71وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ .
A hadith like this has been transmitted by Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them), but he did not make mention of (the words):" During the month of Ramadan
عبدالوارث بن عبدالصمد ، ایوب ، نافع ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کالفظ نہیں ۔
72حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " . فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلاَلُ لَزِدْتُكُمْ " . كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade (his Companions) from observing fast uninterruptedly. One of the Muslims said: Messenger of Allah, you yourself observe Saum Wisal, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: Who among you is like me? I spend night (in a state) that my Allah feeds me and provides me drink. When they (the Companions of the Holy Prophet) did not agree in abandoning the uninterrupted fast, then the Prophet (ﷺ) also observed this fast with them for a day, and then for a day. They then saw the new moon and he (the Holy Prophet) said: If the appearance of the new moon were delayed. I would have observed more (fasts) with you (and he did it) by way of warning to them as they had not agreed to refrain (from observing Saum Wisal)
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے؟میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھ کھلاتا اورپلاتاہے ۔ جب اس کے باوجود صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطارکے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ۔
73وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " . قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاكْلَفُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Abstain from Saum-Wisal. They (his Companions) said: Messenger of Allah, but you observe Saum Wisal. Upon this he said: You are not like me in this matter, for I spend my night (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink Devote yourselves to the deeds (the burden of which) you can bear
زہیر بن حرب ، اسحاق ، زہیر ، جریر ، عمارہ ، ابی زرعہ ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایاکہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہوکیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو ۔
74وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying (the words as said in the previous hadith) but with this alteration (of words):" Take upon yourselves (the burden of the deeds) for which you have the strength to bear
قتیبہ ، مغیرہ ، ابی زناد ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیاہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو ۔
75وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade (his Companions) to observe Saum Wisal
ابن نمیر ، اعمش ، ابی صالح ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا ۔ ( آگے ) ابو زرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانندہے ۔
76حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلاَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلاَةً لاَ يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا . قَالَ قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطِنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ فَقَالَ " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ " . قَالَ فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ رِجَالٍ يُواصِلُونَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالاً يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ " .
Anas (Allah be pleased with him) reported The Messenger of Allah (ﷺ) was observing prayer during Ramadan. I came and stood by his side. Then another man came and he stood likewise till we became a group. When the Messenger of Allah (ﷺ) perceived that we were behind him, he lightened the prayer. He then went to his abode and observed such (a long) prayer (the like of which) he never observed with us. When it was morning we said to him:Did you perceive us during the night? Upon this he said: Yes, it was this (realisation) that induced me to do that which I did. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) began to observe Saum Wisal at the end of the month (of Ramadan), and some persons among his Companions began to observe this uninter- rupted fast, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: What about such persons who observe uninterrupted fasts? You are not like me. By Allah. if the month were lengthened for me, I would have observed Saum Wisal, so that those who act with an exaggeration would (have been obliged) to abandon their exaggeration
زہیر بن حرب ابو نضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایاکہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرمادی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے ۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرمادیئے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟تم لوگ میر ی طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے ۔
77حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْنَا وِصَالاً يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي - أَوْ قَالَ - إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Saum Wisal during the early part of the month of Ramadan. The people among Muslims also observed uninterrupted fast. This (news) reached him (the Holy Prophet) and he said:Had the month been lengthened for me I would have continued observing Saum Wisal, so that those who act with forced hardness would (have been obliged) to abandon it. You are not like me (or he said): I am not like you. I continue to do so (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink
۔ عاصم بن نضر تیمی ، خالد ، ابن حارث ، حمید ، ثابت ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینہ کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سےکچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمارے لئے یہ مہینہ لمبا ہوجائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضدچھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں ۔ کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتاہے ۔
78وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ . فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
A'isha (Allah be pleased with her) said:The Apostle of Allah (ﷺ) forbade them (his Companions) to observe Saum Wisal out of mercy for them. They said: You (Holy Prophet) yourself observe it. Upon this he said: I am not like you. My Lord feeds me and provides me drink
اسحاق بن ابراہیم ، عثمان بن ابی شیبہ ، عبدہ بن سلیمان ، ہشام بن عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔
79حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ إِحْدَى نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ . ثُمَّ تَضْحَكُ .
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed one of his wives while he was fasting, and then she ('A'isha) smiled (as she narrated)
علی بن حجر ، سفیان ، ہشام بن عروہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مسکرپڑیں ۔
80حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ نَعَمْ .
Sufyan reported:I said to 'Abd al-Rahman b. Qasim: Have you heard from your father narrating from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he kissed her while observing fast? He ('Abd al-Rahman b. Qasim) kept silence for a short while and then said:" Yes
علی بن حجر ، ابن ابی عمر ، حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے؟حضرت عبدالرحمٰن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں ۔
81حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْلِكُ إِرْبَهُ
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) used to kiss me while observing fast; and who among you can control his desire as the Messenger of Allah (ﷺ) could control his desire
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، علی بن مسہر ، عبیداللہ بن عمر ، قاسم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کرسکے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
82حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها ح . وَحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لإِرْبِهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) used to kiss (his wives) while fasting and embraced (them) while fasting; but he had the greatest mastery over his desire among you
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابراہیم ، اسود ، علقمہ ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے ۔
83حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss (his wives) while fasting; and he had the greatest control over his desire (as compared with you)
علی بن حجر ، زہیر بن حرب ، سفیان ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
84وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah (ﷺ) used to embrace (his wives) while fasting
محمد بن مثنی ، ابن بشار ، محمد بن جعفر ، شعبہ ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ذوجہ مطہرہ سے روزہ کی حالت میں بغلگیر ہوجایا کرتے تھے ۔
85وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقُلْنَا لَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لإِرْبِهِ . شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ .
Aswad reported:I and Masruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and asked. her if the Messenger of Allah (ﷺ) embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire
محمد بن مثنی ، ابو عاصم ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہوجایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابو میں رکھ سکے ابو عاصم راوی کو شک ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
86وَحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَسْأَلاَنِهَا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It is further narrated on the authority of Aswad and Masruq that they went to the Mother of the Believers and they asked her (and the rest of the hadith is the same)
یعقوب اسماعیل ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کہ بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومنین کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔
87حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ .
Urwa b. Zubair narrated that 'A'isha the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed her while fasting
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، ، حسن بن موسیٰ ، شیبان ، یحییٰ ابن ابی کثیر ، ابی سلمہ ، عمر بن عبدالعزیز ، عروہ بن زبیر ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
88وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters
یحییٰ ابن بشر حریری ، معاویہ ، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سندکے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔
89حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss her during the month of fasting
یحییٰ ابن یحییٰ ، قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابوااحوص ، زیادہ بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
90وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ، بْنُ عِلاَقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) kissed (his wives) during Ramadan while observing fast
محمد بن حاتم ، بھز بن اسد ، ابو بکر نہشلی ، زیاد بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
91وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (peace be upon him) kissed (his wives) while fasting
۔ محمد بن بشار ، عبدالرحمٰن ، سفیان ، ابی زناد ، علی بن حسین ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
92وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
Hafsa (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed (his wives) while fasting
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابومعاویہ ، اعمش ، مسلم ، شتیر بن شکل ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
93وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Hafsa (Allah be pleased with her) through another chain of transmitters
۔ ابو ربیع زہرانی ، ابو عوانہ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، مسلم شتیر بن شکل ، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سند کے ساتھ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث نقل کی فرمائی ہے ۔
94حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَلْ هَذِهِ " . لأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ " .
Umar b Abu Salama reported that he asked the Messenger of Allah (ﷺ):Should one observing fast kiss (his wife)? The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Ask her (Umm Salama). She informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) did that, where upon he said: Messenger of Allah, Allah pardoned thee all thy sins, the previous and the later ones. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) ) said: By Allah, I am the most God conscious among you and I fear Him most among you
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ بن سعید ، عبداللہ بن کعب حمیری ، حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا کہ یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے ہیں ۔ حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سارے معاف فرمادیئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا سنو!اللہ کی قسم!میں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔
95حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلاَ يَصُمْ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ - لأَبِيهِ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ . فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ - رضى الله عنهما - فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ - قَالَ - فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلاَّ مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ - قَالَ - فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ - قَالَ - فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ هُمَا أَعْلَمُ . ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ . قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ قَالَ كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
Abu Bakr (he is Abu Bakr b. Abd al-Rahman b. Harith) reported:I heard Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrating that he who is overtaken by dawn in a state of seminal emission should not observe fast. I made a mention of it to 'Abd al-Rahman b. Harith (i. e. to his father) but he denied it. 'Abd al-Rahman went and I also went along with him till we came to'A'isha and Umm Salama (Allah be pleased with both of them) and Abd al-Rahman asked them about it. Both of them said: (At times it so happened) that the Messenger of Allah (ﷺ) woke up in the morning in a state of junub (but without seminal emission in a dream) and observed fast He (the narrator) said: We then proceeded till we went to Marwan and Abd al-Rahman made a mention of it to him. Upon this Marwan said: I stress upon you (with an oath) that you better go to Abu Huraira and refer to him what is said about it. So we came to Abu Huraira and Abu Bakr had been with us throughout and 'Abd al-Rahman made a mention of it to him, whereupon Abu Huraira said: Did they (the two wives of the Holy Prophet) tell you this? He replied: Yes Upon this (Abu Huraira) said: They have better knowledge. Abu Huraira then attributed that what was said about it to Fadl b. 'Abbas and said: I heard it from Fadl and not from the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Huraira then retracted from what he used to say about it. Ibn Juraij (one of the narrators) reported: I asked 'Abd al-Malik, if they (the two wives) said (made the statement) in regard to Ramadan, whereupon he said: It was so, and he (the Holy Prophet) (woke up in the) morning in a state of junub which was not due to the wet dream and then observed fast
محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، ابن جریج ، محمد بن رافع ، عبدالرزاق بن ہمام ، ابن جریج ، عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابو بکر سے ر وایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے ، راوی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےاس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمٰن سےبن حارث سے کیاتو انہوں نے اس کا انکار کردیا ، توحضرت عبدالرحمٰن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمٰن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروا ن کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمٰن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبداالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہی فرمایا ہے؟حضرت عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہاں!حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں ۔ پھر حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس سے سنا تھا اس کی تردید کردی ۔ اور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سناتھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قول سے ر جوع کرلیا جو وہ کہاکرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟انہوں نے کہا کہ آپ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔
96وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said:The dawn broke upon the Messenger of Allah (ﷺ) during the Ramadan in a state of junub not because of sexual dream (but on account of intercourse) and he washed himself and observed fast
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، عروہ بن زبیر ، ابی بکر بن عبدالرحمٰن ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور روزہ رکھتے ۔
97حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لاَ مِنْ حُلُمٍ ثُمَّ لاَ يُفْطِرُ وَلاَ يَقْضِي .
Abu Bakr reported that Marwan sent him to Umm Salama to ask whether a person should observe fast who is in a state of junub and the dawn breaks upon him, whereupon she said that the Messenger of Allah (ﷺ) (was at times) junbi on account of intercourse and not due to sexual dream, and the dawn broke upon him, but he neither broke the fast nor recompensed
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے ۔
98حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ .
Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham reported on the authority of 'A'isha and Umm Salama, the wives of the Messenger of Allah (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) at times got up in the morning in a state of junub on account of having a sexual intercourse (with his wives during night) but not due to sexual dreams in the month of Ramadan, and would observe fast
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، عبدربہ ، بن سعید ، ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اورحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات فرماتی ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے ۔
99حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ، جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ - أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَفْتِيهِ وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنِي الصَّلاَةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلاَةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ " . فَقَالَ لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
A'isha reported that a person came to the Apottle of Allah (ﷺ) asking for a fatwa (religious verdict). She ('A'isha) had been overhearing it from behind the curtain. 'A'isha added that he (the person) had said:Messenger of Allah, (the time) of prayer overtakes me as I am in a state of junub; should I observe fast (in this state)? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: (At times the time) of prayer overtakes me while I am in a state of junub, and I observe fast (in that very state), whereupon he said: Messenger of Allah, you are not like us Allah has pardoned all your sins, the previous ones and the later ones. Upon this he (the Holy Prophet) said: By Allah, I hope I am the most God-fearirg of you, and possess the best knowledge among you of those (things) against which I should guard
یحییٰ بن یحییٰ ، ایوب ، قتیبہ ، ابن حجر ، ابن ایوب ، اسماعیل بن جعفر ، عبداللہ بن عبداالرحمٰن ، ابن معمر بن حزم انصاری ، ابو طوالہ ، یونس ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور وہ دروازہ کے پیچھے سے سن رہی تھیں ۔ اس آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہوجاتاہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں ۔ تو اس آدمی نے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرمادیئے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہیے ۔
100حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
Sulaiman b. Yasar reported that he asked Umm Salama whether a person (who gets up) in the morning in a state of junub should observe fast. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) (at times) got up in the morning in a state of junub, not because of sexual dreams (but on account of intercourse at night), and then observed fast
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، ابن جریج ، محمد بن یوسف ، حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتاہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے؟حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔
101حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ . قَالَ " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ لاَ - قَالَ - ثُمَّ جَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ . فَقَالَ " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . قَالَ أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا . فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, I am undone. He (the Holy Prophet) said: What has brought about your ruin? He said: I have had intercourse with my wife during the month of Ramadan. Upon this he (the Holy prophet) said: Can you find a slave to set him free? He said: NO He (the Prophet again) said: Can you observe fast for two consecutive months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Can you provide food to sixty poor people?, He said: No. He then sat down and (in the meanwhile) there was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) a basket which contained dates. He (the Holy Prophet) said: Give these (dates) in charity. He (the man) said: Am I to give to one who is poorer than I? There is no family poorer than mine between the two lava plains of Medina. The Apostle of Allah (ﷺ) laughed so that his molar teeth became visible and said: Go and give it to your family to eat
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب ، ابن نمیر ، ابن عینیہ ، سفیان بن عینیہ ، حمید بن عبداالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا تو کیسے ہلا ک ہوگیا؟اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے آپ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ نے فرمایا کیا تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھ سکتاہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیاتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟اس نے عرض کیا کہ نہیں ، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیاجس میں کھجوریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو محتاجوں میں صدقہ کردو اس نے عرض کیا کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا ۔
102حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ - وَهُوَ الزِّنْبِيلُ - وَلَمْ يَذْكُرْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Muhammad b. Muslim al-Zuhri with the same chain of transmitters, and he said:There was brought an 'araq containing dates, an 'araq being a huge basket. But in this hadith no mention has been made of (the fact) that the Messenger of Allah (ﷺ) laughed till his molar teeth became visible
اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، حضرت محمد بن مسلم زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے ۔ جس میں کھجوریں تھیں ۔ یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں ظاہرہوگئیں ۔
103حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَجُلاً، وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
Abu Huraira reported that a person had intercourse with his wife during Ramadan (while fasting). He asked for the religious verdict (about it) from the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he (the Holy Prophet) said:Can you find a slave (to grant him freedom)? He said: No. He (the Prophet again) said: Can you afford to observe fasts for two (consecutive) months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Then feed sixty poor men
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح ، لیث ، قتیبہ ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمٰن ، بن عوف ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیاتو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے ۔ اس نے عرض کیا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔
104وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that a person broke fast in Ramadan whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to free a slave (as an atonement), and the rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Uyaina
محمد بن رافع ، اسحا ق بن عیسیٰ ، مالک ، حضرت زہری سے اس سندکے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایاکہ ایک غلام آزاد کرکے کفارہ ادا کرے پھر ابن عینیہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔
105حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا .
Humaid b. 'Abd al-Rahman reported that Abu Huraira had narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the person (who) broke the fast in Ramadan to free a slave or observe fasts for two (consecutive) months or feed sixty poor persons
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمان ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
106حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters on the authority of Zuhri
معمرنے زہری سےاسی سندکے ساتھ ابن عینیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
107حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ احْتَرَقْتُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِمَ " . قَالَ وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا . قَالَ " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " . قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ . فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:I am burnt, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: How is it? He (the person) said: I had intercourse with my wife during the day in Ramadan. Upon this (the Holy Prophet) said: Give charity, give charity. He (the person) said: There is nothing with me. He commanded him to sit down, (In the meanwhile) there were brought to him (to the Holy Prophet) two baskets containing eatables, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) told him to give them as sadaqa
محمد بن رمح ، ابن مہاجر ، لیث ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر ، ابن زبیر ، عباد بن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کر ، صدقہ کر ، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو ۔
108وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " . وَلاَ قَوْلُهُ نَهَارًا .
Abbad b. Abdullah b. Zubair narrated that he heard 'A'isha (Allah be pleased with her) saying:A person came to the Messenger of Allah (ﷺ), and he then narrated the hadith. But (neither these words are found):" Give charity, give charity" (nor) his words:" during the day time
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ثقفی ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے ۔
109حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ . فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا شَأْنُهُ " . فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي . قَالَ " تَصَدَّقْ " . فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ " اجْلِسْ " . فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا " . فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَىْءٌ . قَالَ " فَكُلُوهُ " .
Abbad b. Abdullah b. Zubair reported that he had heard 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), as saying:A person came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque during (the month of) Ramadan and said: Messenger of Allah, I am burnt, I am burnt, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) asked him as to what the matter was. Upon this he said: I had intercourse with my wife (in a state of fasting) Thereupon he (the Holy Prophet) said: Give charity. Upon this he said: Apostle of Allah, I swear by God, there is nothing with me (to give in charity) as I do not possess anything. He (the Holy Prophet) said: Sit down. So he sat down and he was in this very state when there came a person urging a donkey with a load of eatables upon it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Where is that burnt one who was just here? Thereupon the person stood up. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give this (eatables brought by the man) in charity. Upon this the person said: Messenger of Allah, can there be anyone else (more deserving than I)? By Allah. we are hungry, we have nothing with us. Upon this he (the Holy Prophet) said: Then eat (these eatables)
ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن لیث ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبادبن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرتو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں ر کھتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپناگدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہواتھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟وہ آدمی کھڑا ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے علاوہ بھی ( کوئی صدقہ کا مستحق ہے ) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہی اسے کھالو ۔
110حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) went out during the month of Ramadan in the year of Victory (when Mecca was conquered) and was fasting till he reached Kadid (a canal situated at a distance of forty-two miles from Mecca) and he then broke the fast. And it was the habit of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) to follow him in every new thing (or act). So they followed him also (in this matter)
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح ، لیث ، قتیبہ ، بن سعید ، ابن شہاب ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کرلیا ۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیاکرتے تھے ۔
111حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . قَالَ يَحْيَى قَالَ سُفْيَانُ لاَ أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. Yahya (one of the narrators) said that Sufyan (the narrator) had stated:I do not know whose statement it is:" It is the last word of the Messenger of Allah (ﷺ) which is accepted as (final as it abrogates the previous ones)
یحییٰ بن یحیٰ ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمر ، اسحاق بن ابراہیم ، سفیان ، حضرت زہری ، سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا؟
112حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالآخِرِ فَالآخِرِ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ لِثَلاَثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ .
It has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that breaking of fast (in a journey) is the final of the two commands (whether one may fast or one may break it), and it is the last command of the Messenger of Allah (ﷺ) which is to be accepted as final. Zuhri said:The Messenger of Allah (ﷺ) marched on Mecca on the morning of 14th of Ramadan (lit. when thirteen nights had passed)
۔ محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایاجاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔
113وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ .
A hadlth like this has been transmitted on the authority of Ibn Shibab who said that they (the Compnions of the Holy Prophet) followed the latest of his commands and looked upon it as one abrogating (the previous ones) and the most firm
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سےلیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے ۔
114وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) journeyed during the month of Ramadan in a state of fasting till he reached 'Usfan. He then ordered a cup containing drinking water and he drank that openly so that the people might see it, and broke the fast (and did not resume it) till he reached Mecca. Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) said:Allah's Messenger (ﷺ) fasted and broke the fast, so he who wished fasted and he who wished to break it broke it
۔ اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، مجاہد ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھابھی اور نہیں بھی رکھا تو جوچاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے ۔
115وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ لاَ تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلاَ عَلَى مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with him) reported:Do not condemn one who observes fast, or one who does not observe (in a journey). for the Messenger of Allah (ﷺ) observed fast in a journey or he did not observe it (too)
ابو کریب ، وکیع ، سفیان ، عبدالکریم ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیاہے ۔
116حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ - حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) went out to Mecca in Ramadan in the year of Victory, and he and the people fasted till he came to Kura' al-Ghamim and the people also fasted. He then called for a cup of water which he raised till the people saw it, and then he drank. He was told afterwards that some people had continued to fast, and he said:These people are the disobedient ones; these are the disobedient ones
محمد بن مثنی ، عبدالوہاب ، ابن عبدالمجید ، جعفر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھاجب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایاپھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں ۔ فائدہ : ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لئے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اورافطار کرلیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر وتوبیخ کے مستحق تھے ۔
117وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ جَعْفَرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ . فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ .
This hadith has been narrated by Ja'far with the same chain of transmitters and he added:It was said to him (to the Holy Prophet): There are people to whom fasting has become unbearable and they are waiting how you do. He (the Holy Prophet) then called for a cup of water when it was afternoon. The rest of the hadith is the same
قتیبہ بن سعید ، عبدالعزیز ، حضرت جعفر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ سے عرض کیاگیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہورہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کررہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا ۔
118حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جَعْفَرٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلاً قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ " مَا لَهُ " . قَالُوا رَجُلٌ صَائِمٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that in the course of a journey Allah's Messenger (ﷺ) saw a man, people crowding around him and providing him a shade. Upon this he (the Holy Prophet) said:What is the matter with him? They said: He is a person observing fast. Whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is no righteousness that you fast on journey
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ ، ابن بشار ، محمد بن جعفر ، غندر ، شعبہ ، محمد بن عبدالرحمان ، ابن سعد ، محمد بن عمرو بن حسن ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی کو کیا ہواہے؟لوگوں نے عرض کیا یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ ر کھو ۔
119حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً بِمِثْلِهِ .
Amr b. al-Hasan is reported to have said that he heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as saying that the Messenger of Allah (ﷺ) saw a man. The rest of the hadith is the same as mentioned above
عبیداللہ بن معاذ ، شعبہ ، محمد بن عبدالرحمان ، محمد بن عمرو بن حسن ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو د یکھا باقی حدیث اسی طرح ہے ۔
120وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي هَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ " عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ " . قَالَ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this addition that he (the Holy Prophet) said:" Take advantage of the concession of Allah Who Wanted it to you." When he (one of the narrators) asked him (the other one, Yabya b. Abi Kathar) he did not retain it in his mind
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو داود ، شعبہ ، یحییٰ ابن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کےساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پرعمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا ۔
121حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We went out on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) on the 16th of Ramadan. Some of us fasted and some of us broke the fast. But neither the observer of the fast found fault with one who broke it, nor the breaker of the fast found fault with one who observed it
ہداب بن خالد ، ہمام بن یحییٰ ، قتادہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ رمضان کو کو ایک غزوہ میں گئے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے چنانچہ نہ تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں کی مذمت کی اور نہ ہی نہ رکھنے والوں نے رکھنے والوں پر کوئی نکیر کی ۔
122حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ وَهِشَامٍ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ فِي ثِنْتَىْ عَشْرَةَ . وَشُعْبَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters by different narrators (except this difference) that in the hadith transmitted by Taimi and Umar b. Amir and Hisham (the date of setting out is) 18th, and in the hadith transmitted by Sa'id it is the 12th, and in the one transmitted by Shu'ba it is the 17th or 19th
محمد بن ابی بکر مقدمی ، یحییٰ بن سعید تیمی ، محمد بن مثنیٰ ، ابن مہدی ، شعبہ ، ابو عامر ، ہشام ، سالم بن نوح ، عمر ( ابن عامر ) ابو بکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے ۔
123حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ وَلاَ عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We went out on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan and neither the observer of the fast was found fault with for his fasting, nor the breaker of the fast for breaking it
نصر بن علی جہضمی ، بشر ( ابن مفضل ) ابی مسلمہ ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتاتھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا ۔
124حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلاَ يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We went out on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan. Some of us observed the fast and some of us broke it. Neither the observer of the fast had any grudge against one who broke it, nor the breaker of the fast had any grudge against one who had fasted They knew that he who had strength enough (to bear its rigour) fasted and that was good, and they also found that he who felt weakness (and could not bear the burden) broke it, and that was also good
۔ عمرو ناقد ، اسماعیل بن ابراہیم ، جریری ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے ۔ تو وہ افطار کرلے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے ۔
125حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحُسَيْنُ، بْنُ حُرَيْثٍ كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ، - قَالَ سَعِيدٌ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، - عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهم - قَالاَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ فَلاَ يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
Abu Nadra reported Abu Sa'id al. Khudri and Jabir b. Abdullah as saying:We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ). The observer of the fast observed it, and the breaker of the fast broke it, but none of them found fault with each other
سعید بن عمر ، سہل بن عثمان ، سوید بن سعید ، حسین بن حریث ، سعید ، مروان بن معاویہ ، عاصم ، ابا نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری ، جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کرلیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہیں کرتا تھا ۔
126حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ - رضى الله عنه - عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
Humaid reported that Anas (Allah be pleased with him) was asked about fasting during Ramadan while travelling. He said:We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) during the month of Ramadan, but neither the observer of the fast found fault with the breaker of the fast, nor the breaker of the fast found fault with the observer of the fast
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو خثيمة ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا ۔
127وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِي أَعِدْ . قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يُسَافِرُونَ فَلاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ . فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِمِثْلِهِ .
Abu Khalid al-Ahmar narrated from Humaid who said:I went out and was fasting; they said to me: Break (lit. go back, repeat). He said that Anas reported that the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) used to set out on a journey and neither the observer of the fast found fault with the breaker of the fast, nor the breaker of the fast found fault with the observer of the fast. (One of the narrators Humaid said): I met Ibn Abi Mulaika who informed me the same thing on the authority of 'A'isha
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو خالد احمر ، حضرت حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتاتھا پھر میں نے ابن ابی ملیکہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے اس طرح کی خبر دی ۔
128حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلاًّ صَاحِبُ الْكِسَاءِ وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ - قَالَ - فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ " .
Anas (Allah be pleased with him) reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. Some of us had been observing the fast and some of us had not been fasting. We got down at a place on a hot day. Most of us had the cloth for shelter. There were also those amongst us who sheltered (themselves against the rays of the) sun with the help of their hands. The observers of the fast fell down (on account of weakness). Those who had not observed it got up and pitched tents and watered the mounts. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: The breakers of the fast have taken away the reward today
ابو بکر بن ابی شیبۃ ، ابو معاویہ ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنےو الا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھو پ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گر گئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کرگئے ۔
129وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ - قَالَ - فَقَالَ فِي ذَلِكَ " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was journeying (along with his Companions). Some of them had observed the fast whereas the others had broken it. Those who did not fast girded up their loins and worked, but the observers of the fast were too weak to work. Upon this he (the Messenger of Allah) said:Today the breakers of the fast have gone with the reward
ابو کریب ، حفص ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑدیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑگئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ روزہ افطار کرنے والے اجر پاگئے ۔
130حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاَءِ عَنْهُ . سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ " . فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلاً آخَرَ فَقَالَ " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا " . وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ .
Qaza'a reported:I came to Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) and he was surrounded (by people), and when they dispersed I said to him: I am not going to ask you about what these people were asking. I ask you about fasting on a journey. Upon this he said: We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) towards Mecca and we had been observing fast. We halted at a place. There the Messenger of Allah (ﷺ) said: You are nearing your enemy and breaking of fast would give you greater strength, and that was a concession (given to us). But some of us continued to observe the fast and some of us broke it. We then got down at another place and he (the Holy Prophet) said: You are going to encounter the enemy in the morning and breaking of the fast would give you strength, so break the fast. As it was a point of stress, so we broke the fast. But subsequently we saw ourselves observing the fast with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey
محمد بن حاتم ، عبدالرحمان بن مہدی ، معاویہ بن صالح ، حضرت ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہوگئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گاجس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں ( راوی کہتے ہیں ) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دشمن کے قریب ہوگئے ہو اور اب افطار کرنا ( روزہ نہ رکھنا ) تمھارے لئے قوت وطاقت کا باعث ہوگا تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہوگی اس لئے روزہ نہ رکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لئے ہم نے روزہ نہیں رکھا ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے ۔
131حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Hamza b. 'Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah (ﷺ) about fasting on a journey, and he (the Holy Prophet) said:Fast if you like and break it if you like
۔ قتیبہ بن سعید ، لیث ، ہشام بن عروۃ ، سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمر اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر توچاہے تو روزہ افطار کرلے ۔
132وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ . أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ " صُمْ إِنْ شِئْتَ وَأَ��ْطِرْ إِنْ شِئْتَ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Hamza b. Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah (ﷺ) thus:Messenger of Allah, I am a person devoted much to fasting. Should I fast during the journey? He (the Holy Prophet) said: Fast if you like and break it if you like
ابوربیع ، حماد ، ابن زید ، ہشام ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطارکرلے ۔
133وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معاویہ ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے ۔
134وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ حَمْزَةَ، قَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters that Hamza said:I am a person much used to fasting. Should I fast during the journey? (The rest of the hadith is the same)
ابو بکر بن ابی شیبہ ابو کریب ، ابن نمیر ، ابو بکر عبداالرحیم بن سلیمان ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟
135وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ " . قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ " هِيَ رُخْصَةٌ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ .
Hamza b. 'Amr al-Aslami (Allah be pleased with him) said:Messenger of Allah, I find strength in me for fasting on a journey; is there any sin upon me (in doing it)? Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is a concession from Allah. He who took advantage of it, it is good for him, and he who preferred to observe fast, there is no sin upon him. Harun (one of the narrators) in his narration said: 'lt is a concession, and he made no mention of" from Allah
ابو طاہر ، ہارون بن سعید ، ہارون ، ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن حارث ، ابی اسود ، عروۃ بن زبیر ، ابی مرواح ، حضرت حمزہ بن عمراسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت ر کھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھاکیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔
136حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
Abu Darda' (Allah be pleased with him) reported:We set out during the month of Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) in such an intense heat that one of us would place his hand over his head (in order to protect himself) against the excessive heat, and none among us was observing the fast, except the Messenger of Allah (ﷺ) and 'Abdullah b. Rawaha
داود بن رشید ، ولید بن مسلم ، سعید بن عبدالعزیز ، اسماعیل ، عبیداللہ ، ام درداء ، حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۔
137حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ، الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
Abu Darda' reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on some of his journeys on an intensely hot day so much so that a person would place his hand on his head (in order to protect himself) against excessive heat, and none amongst us was fasting but the Messenger of Allah (ﷺ) and Abdullah b. Rawaha
عبداللہ بن مسلمۃ ، ہشام بن سعید ، عثمان ابن حیان ، دمشقی ، حضرت ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھاکہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحۃ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا ۔
138حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا، تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ . فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ .
Umm al-Fadl bint- al-Harith reported that some people argued about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of 'Arafa. Some of them said that he had been fasting, whereas the others said that he had not been fasting. I sent a cup of milk to him while he was riding his camel at 'Arafa, and he drank it
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، ابی نضر ، عمیر ، مولی ابن عباس ، حضرت ام الفضل بنت حارثہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا ۔
139حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَلَمْ يَذْكُرْ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ . وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Nadr with the same chain of transmitters, but he did not mention that he was mounting (riding on) his camel
اسحاق بن ابراہیم ، ابن ابی عمر ، سفیان ، حضرت ابی انصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں ۔
140حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي، النَّضْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ .
This hadith has been narrated by Abu Nadr on the authority of Umair, the freed slave of Umm al-Fadl, through the same chain of transmitters
زہیر بن حرب ، عبدالرحمان بن مہدی ، سفیان ، حضرت سالم بن ابی النضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔
141وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ، - رضى الله عنها - تَقُولُ شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ .
Umm al-Fadl (Allah be pleased with her) is reported to have said that some people among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) were in doubt about fasting on the day of 'Arafa and we were with him on that day. I (Umm al-Fadl) sent him a cup of milk and he was halting at 'Arafa, and he drank that
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابی نضر ، مولی ابن عباس ، حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔ کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا ۔
142وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ، الأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلاَبِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ .
Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him), reported from Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), that people had doubt about the fasting of Allah's Messenger (ﷺ) on the day of 'Arafa. Maimuna sent him a cup of milk and he was halting at a place and he drank it and the people were seeing him
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمر ، بکیر ، بن اشج ، کریب ، مولی ابن عباس ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک میں پڑ گئے چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےدودھ پیا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
143حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to fast on the day of 'Ashura in the pre-Islamic days and the Messenger of Allah (ﷺ) also observed it. When he migrated to Medina, he himself observed this fast and commanded (others) to observe it. But when fasting during the month of Ramadan was made obligatory he said:He who wishes to observe this fast may do so, and he who wishes to abandon it may do so
۔ زہیر بن حرب ، جریر ، ہشام بن عروۃ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تواپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی اس کا روزہ رکھنے کاحکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑدے ۔
144وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ . وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ .
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but he made no mention in the first part of the hadith that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast, and said about the second part that he abandoned the (fast) of Ashura, and he who wished observed the fast and who wished otherwise abandoned it, and he did not hold it as the words of the Messenger of Allah (ﷺ) as mentioned in the narration transmitted by Jarir
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
145حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ يَوْمَ، عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported. In the pre-Islamic days fast was observed on the day of Ashura, but with the advent of Islam (its position was ascertained as that of a voluntary fast). Then he who wished to fast fasted, and he who liked to abandon it abandoned it
عمرو ناقد ، سفیان ، زہری ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتاتھا تو جب اسلام آیا کہ جوچاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
146حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had ordered to observe fast (on 'Ashura) before the fasting in Ramadan was made obligatory. But when it became obligatory, then he who wished fasted on the day of Ashura, and he who wished did not observe it (on that day)
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، عروۃ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
147حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، - قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish used to fast on the day of Ashura during the pre-Islamic days. The Messenger of Allah (ﷺ) then commanded to fast on that day till (fasting) in Ramadan became obligatory. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said:He who wishes to fast should do so, and he who wishes to break it may do so
قتیبہ بن سعید ، محمد بن رمح ، لیث بن سعید ، یزید بن ابی حبیب ، عروۃ ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ، کہ جاہلیت کے زمانے میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ) جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
148حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ أَهْلَ، الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that (the Arabs of) pre-Islamic days used to observe fast on the day of Ashura and the Messenger of Allah (ﷺ) observed it and the Muslims too (observed it) before fasting in Ramadan became obligatory. But when it became obligatory, the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Ashura is one of the days of Allah, so he who wished should observe fast and he who wished otherwise should abandon it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، ابن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب ر مضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے ۔
149وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، . بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Abdullah through the same chain of transmitters
محمد بن مثنی ، زہیر بن حرب ، یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابواسامہ ، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے ۔
150وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said that the day of 'Ashura was mentioned before the Messenger of Allah (may peace he upon him). Thereupon the Messenger of Allah, (ﷺ) said:That was a day on which the people of pre-Islamic days used to observe fast. So he who amongst you likes to observe fast should do so, and he who does not like it should abandon it
قتیبہ بن سعید ، لیث ، ابن رمح ، لیث ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتاہے تو وہ چھوڑ دے ۔
151حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - لاَ يَصُومُهُ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say about the day of Ashura:It is a day on which the people of pre-Islamic days observed fast. So he who liked to fast on this day should do so, and he who liked to abandon it should abandon it. 'Abdullah (Allah be pleased with him) did not observe fast except when it coincided (with the days when he was in the habit of observing voluntary fasts during every month)
ابو کریب ، ابو اسامہ ، ولید ، ابن کثیر ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتےہوئے سنا کہ یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کےلوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتاہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان روزوں سے موافقت ہوجائے ۔
152وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ . فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَاءً .
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported that the day of 'Ashura was mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ) and he narrated a hadith like one (narrated above)
محمد بن احمد بن ابی خلف ، روح ، ابو مالک ، عبیداللہ بن اخنس ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیاگیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی ۔
153وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ، زَيْدٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ " ذَاكَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported that the day of 'Ashura was mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:It is a day when the people in the pre-Islamic days need to observe fast, so he who wishes to observe fast should do so, and he who wishes to abandon it should do so
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، عمر بن محمد بن زیدعسقلانی ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے ر وزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے ۔
154حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ . فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ . وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ تَرَكَهُ .
Abd al-Rahman b. Yazid said:When al-Ash'ath b. Qais entered the house of 'Abdullah he was having his breakfast. He ('Abdullah b. Umar) said: Abd Muhammad (al-Asha'th), come near to the breakfast. Thereupon he said: Is not today the day of 'Ashura? He ('Abd al-Rahman) said: Do you know what the day of 'Ashura is? He said: What is it? He said: It is a day on which the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast before the (fasting) in the month of Ramadan (became) obligatory. But when it became obligatory the (fasting of 'Ashura) was abandoned (as compulsory). Abu Kuraib said: He (the Holy Prophet) abandoned it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابی معاویہ ، ابو بکر ، ابومعاویہ ، اعمش ، عمارۃ ، حضرت عبدالرحمان بن یزید فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کررہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابو محمد !آؤ ناشتہ کرلوتو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟اشعث نے کہا وہ کیا ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا ۔
155وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ .
This hadith has been narrated from Jarir on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and he said (these words with a little bit of variation from the previous hadith):When (fasting) in Ramadan was (made) obligatory, he abandoned it (the practice of observing fast on Ashura)
زہیر بن حرب ، عثمان بن ابی شیبہ ، جریر ، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
156وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، أَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ . قَالَ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ .
Qais b Sakan reported that al-Ash'ath b. Qais went to 'Abdullah on the day of 'Ashura while he was eating. He said:Abu Muhammad, come near and dine. Upon this he said: I am fasting. Thereupon he said: We used to observe fast and then (this practice) was abandoned
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع ، یحییٰ بن سعید ، سفیان ، محمد بن حاتم ، زبید یامی ، عمارۃ بن عمیر ، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھارہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابو محمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس د ن ر وزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا ۔
157وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ . فَقَالَ قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ .
Alqama reported that Ash'ath b. Qais went to Ibn Mas'udd while he was eating on the day of Ashura. Thereupon he said:Abu Abd al-Rahman, it is the day of 'Ashura (and you are eating). Upon this he said: Fast was observed on (this day) before the (fasting) in Ramadan was made obligatory, but when it was made obligatory, (fasting on the day of 'Ashura) was abandoned. So if you are not fasting, then take food
محمد بن حاتم ، اسحاق بن منصور ، اسرائیل ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، اشعث بن قیس ، علی ابن مسعود ، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مسعود کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھاناکھارہے تھے توانہوں نے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمان! آج تو عاشورہ ہے؟تو ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتاتھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا ۔
158حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ .
Jabir b Samura reported that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to observe fast on the day of Ashura and exhorted us to do it and was particular about it But when (fasting) in Ramadan was made obligatory, he hence. forth neither commanded us nor forbade us, nor was he so particular about it
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، عبیداللہ بن موسیٰ ، شیبان ، اشعث بن ابی شعشاء ، جعفر بن ابی ثور ، حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن ر وزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کردیئے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اسکا اہتمام فرماتے ۔
159حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ - يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا - خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ " .
Abd al-Rahman reported that he heard Mu'awiya b. Abu Sufyan delivering a sermon in Medina. i. e. when he came there (for Hajj). He delivered a sermon on the day of 'Ashura and said:People of Medina, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say on this very day: It is the day of 'Ashura. Allah has not made fasting on This day obligatory for you but I am fasting. He who likes to observe fast among you should do so, and he who likes not to observe it may not observe it
۔ حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، حضرت حمید بن عبدالرحمان ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لئے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کر تا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطارکرلے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کرلے ۔
160حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters
ابو طاہر عبداللہ ، عبداللہ بن وہب ، مالک بن انس ، حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
161وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ " . وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِيَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that be heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying on a similar day:I am fasting today, so he who wishes to observe fast should do so; but he did not make mention of the rest of the hadith
ابن ابی عمر ، سفیان بن عینیہ ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے اور مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ۔
162حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported that when Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina, he found the Jews observing the fast on the day of Ashura. They (the Jews) were asked about it and they said:It is the day on which Allah granted victory to Moses and (his people) Bani Isra'il over the Pharaoh and we observe fast out of gratitude to Him. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We have a closer connection with Moses than you have, and he commanded to observe fast on this day
یحییٰ بن یحییٰ ، ہشیم ابی بشر ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کےبارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا ۔
163وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، .
This hadith has been narrated by Ibn Bishr with the same chain of transmitters (but with a slight variation) that he (the Holy Prophet) inquired of them (Jews) about it (fasting on the day of 'Ashura)
ابن بشار ، ابو بکر بن نافع ، محمد بن جعفر ، شعبہ ، ابی بشراس سندکے ساتھ حضرت ابی بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی ۔
164وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ " . فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .
Ibn'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Medina and found the Jews observing fast on the day of 'Ashura. The Messenger of Allah (ﷺ) said to them:What is the (significance) of this day that you observe fast on it? They said: It is the day of great (significance) when Allah delivered Moses and his people, and drowned the Pharaoh and his people, and Moses observed fast out of gratitude and we also observe it. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We have more right, and we have a closer connection with Moses than you have; so Allah's Messenger (ﷺ) observed fast (on the day of 'Ashura), and gave orders that it should be observed
ابن ابی عمر ، سفیان ، ایوب ، عبداللہ بن سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کونجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کاروزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔
165وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، لَمْ يُسَمِّهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters
اسحاق بن ابراہیم ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن سعید بن جبیر ہے نام ذکر نہیں کیاگیا ۔
166وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوهُ أَنْتُمْ " .
Abu Musa (Allah be pleased with him) reported:The day of 'Ashura was one which the Jews respected and they treated it as Id. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You also observe fast on this day
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر ، ابو اسامہ ، ابی عمیس ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو ۔
167وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ، فَذَكَرَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ فَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَصُومُوهُ أَنْتُمْ " .
Abu Musa reported that the people of Khaibar (most of them were Jews) observed fast on the day of 'Ashura and they treated it as 'Id and gave their women ornaments and beautiful dresses to wear. The Messenger of Allah (ﷺ) said:You (only) observe fast on this day
احمد بن منذر ، حماد بن اسامہ ، ابو عمیس ، قیس ، صدقہ بن ابی عمران ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو ۔ راوی : احمد بن منذر ، حماد بن اسامہ ، ابو عمیس ، قیس ، صدقہ بن ابی عمران ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
168حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ، يَوْمِ عَاشُورَاءَ . فَقَالَ مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَ يَوْمًا يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ إِلاَّ هَذَا الْيَوْمَ وَلاَ شَهْرًا إِلاَّ هَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ .
Ibn Abbas was asked about observing of fast on the day of Ashura, whereupon he said:I do not know Allah's Messenger (ﷺ) singling out any day's fast and considering it more excellent than another, except this day (the day of Ashura) and this month, meaning the month of Ramadan
ابو بکر ابن شیبہ ، عمروناقد ، سفیان ، ابو بکر ، ابن عینیہ ، عبیداللہ ابن ابی یزید ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ا نہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے ۔
169وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah b. Abi Yazid
۔ محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، عبیداللہ بن ابی یزید اس سند کے ساتھ اسی طرح کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے ۔
170وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ . فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا . قُلْتُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ .
Hakam b. al-'Araj reported:I went to Ibn 'Abbas (Allah be Pleased with both of them) and he was reclining using his mantle as a pillow near the fountain of Zamzam. I said to him: Tell me about fasting on Ashura. He said: When you see the new moon of Muharram then count the (days) and observe fast on the 9th. I said to him: Is it how the Messenger of Allah (ﷺ) observed the fast? He said: Yes
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع بن جراح ، حاجب ابن عمر ، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم ( کے قریب ) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورے کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چانددیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں
171وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ . بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ .
Hakam b. 'Araj reported:I asked Ibn Abbas (Allah be pleased with them) as he was reclining using his cloak as a pillow near Zamzam about fasting on 'Ashura. The rest of the hadith is the same
محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، معاویہ بن عمرو ، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے ۔
172وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ " . قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Ibn 'Abbas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) fasted on the day of 'Ashura and commanded that it should he observed as a fast, they (his Companions) said to him:Messenger of Allah, it is a day which the Jews and Christians hold in high esteem. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: When the next year comes, God willing, we would observe fast on the 9th But the Messenger of Allah (ﷺ) died before the advent of the next year
حسن بن علی حلوانی ، ابن ابی مریم ، یحییٰ بن ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔
173وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ التَّاسِعَ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ .
Abdullah b 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:If I live till the next (year), I would definitely observe fast on the 9th, and the narration transmitted by Abu Bakr is:" He meant the day of Ashura
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، وکیع ، ابن ابی ذئب ، قاسم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابو بکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ ۔
174حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ " مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ " .
Salama b. al-Akwa' (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) sent a person of the tribe of Aslam on the day of 'Ashura and commanded him to declare to the people to observe fast in case they had not observed it, and to complete fast till evening if they had taken food
قتیبہ بن سعید ، حاتم یعنی ابن اسماعیل ، یزید بن ابی عبید ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایاکہ وہ لوگوں میں اعلان کردے کہ جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہووہ روزہ رکھ لے ۔ اور جس نے کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرلے ۔
175وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لاَحِقٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ، بْنُ ذَكْوَانَ عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الإِفْطَارِ .
Rubayyi' daughter of Mu'awwidh b. 'Afra' said that the Messenger of Allah (ﷺ) sent (a person) on the morning of Ashura to the villages of Ansar around Medina (with this message):He who got up in the morning fasting (without eating anything) he should complete his fast, and he who had had his breakfast in the morning, he should complete the rest of the day (without food). The Companions said; We henceforth observed fast on it (on the day of 'Ashura) and, God willing, made our children observe that. We went to the mosque and made toys out of wool for them and when anyone felt hungry and wept for food we gave them these toys till it was the time to break the fast
ابو بکر بن نافع ، بشر بن مفضل بن لاحق ، خالد بن ذکوان ، حضرت ربیع بنت معوذبن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصارکی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے اردگرد تھی یہ پیغام بھجوادیا کہ جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پور کرلے اور جس نے صبح کو افطار کرلیا ہوتو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کرلےاس کے بعد ہم ر وزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتاتو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں ۔
176وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ، عَاشُورَاءَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُسُلَهُ فِي قُرَى الأَنْصَارِ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ .
Khalid b. Dhakwan reported:I asked Rubayyi' daugther of Mu'awwidh about fasting on the day of 'Ashura. Thereupon she said: The Messenger of Allah (may peace he upon him) sent his messenger to the villages of the Ansar, and the rest of the hadith is the same (but with this variation that one of the Companions) said:" We used to make toys out of wool and took (them to the mosque) along with us. When they (the children) asked us for food, we gave them these toys to play with, and these made them forgetful till they completed their fast
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معشر ، عطار ، حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آکر بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہوجاتا ۔
177وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ
Abu Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, reported:I observed Id along with Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him). He came (out in an open space) and prayed and (after) completing it addressed the people and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden the observing of fast on these two days. One is the day of Fitr (at the end of your fasts), and the second one, the day when you eat (the meat) of your sacrifices
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ابن شہاب ، حضرت ابو عبید مولی بن ازہر سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ وہ دن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے کہ جس دن تم افطار کرتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔
178وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on these two days. 'Id-ul-Adha and 'Id-ul-Fitr
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، محمد بن یحییٰ ابن حبان ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر کے دن ۔
179حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، - وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ - عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ، حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " لاَ يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
Qaza'a related from Abu Sa'id. He said:I heard from him (Abu Sa'id) a hadith which impressed me, and I said to him: Did you hear it from the Messenger of Allah (ﷺ)? Thereupon he said: (Is it possible) that (I should) say about the Messenger of Allah (ﷺ) that which I have not heard? I heard him saying: It is not proper to fast on two days, Adha and Fitr (at the end) of Ramadan
قتیبہ بن سعید ، جریر ، عبدالملک ، ابن عمیر ، قزعہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے کہا ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہہ سکتاہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سناہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو د نوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان عید الفطر کے دن ۔
180وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade to observe fast on two days the day of Fitr and the day of Sacrifice ('Id-ul-Adha)
ابو کامل جحدری ، عبدالعزیز بن مختار ، عمرو بن یحییٰ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک عید الفطر کےدن دوسرے عید الاضحیٰ یعنی قربانی کے دن ۔
181وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رضى الله عنهما أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ .
Ziyad b. Jubair reported that a person came to Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) and said:I had taken a vow that I would fast on the day (but it accidentally) synchronises with the day of Adha or the day of Fitr. Thereupon Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) said: Allah, the Exalted, has commanded fulfilling of the vow, but the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden the observance of fast on this day
ابوبکر بن ابی شیبہ ، وکیع ابن عون ، حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میں ایک دن کا روزہ رکھوں گا تو وہ دن قربانی کے عید کے دن یا عید الفطر کے دن سے موافقت کررہا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے منت کو پورا کرنے کا حکم دیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے ۔
182وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى .
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Prophet (ﷺ) forbade to observe fast on two days-the day of Fitr and the day of Adha
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزوں ، فطر کے دن اورقربانی کے دن ( کے روزوں ) سے منع فرمایا ہے ۔
183وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
Nubaisha al-Hudhali reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The days of Tashriq are the days of eating and drinking
سریج بن یونس ، ہشیم ، خالد ، ابی ملیح ، حضرت نبیشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔
184حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ " وَذِكْرٍ لِلَّهِ " .
Nabaisha reported that Khalid said:I met Abu Malih and asked him and he narrated it to me from the Messenger of Allah (ﷺ). a hadith like one (narrated above) with this addition:" And remembrance of Allah
محمد بن عبداللہ ابن نمیر ، اسماعیل ابن علیہ ، خالد ، ابی ملیح ، نبیشہ ، اس سند کے ساتھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ذکر اللہ کے الفاظ زائد ہیں ۔
185وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى " أَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ . وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
Ibn Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) sent him and Aus b. Hadathan during the days of Tashriq to make this announcement:None but the believer would be admitted into Paradise, and the days of Mina' are the days meant for eating and drinking
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن سابق ، ابراہیم بن طہمان ، ابی زبیر ، حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے ر وایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اوس بن حدثان کو تشریق کے دنوں میں یہ اعلان کرانے کے لئے بھیجاکہ جنت میں مومن کے سواکوئی داخل نہیں ہوگا ۔ اور منیٰ میں دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔
186وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، بْنُ طَهْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَنَادَيَا .
This hadith has been narrated on the authority of Ibrahim b. Tahman with the same chain of transmitters but with this variation that he said:Both of them made the announcement
عبد بن حمید ، ابو عامر ، عبدالملک بن عمرو ، ابراہیم بن طہمان اس سند کے ساتھ بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں جا کر اعلان کردو ۔
187حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported:I asked Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as he was circumambulating the House (Ka'ba) whether the Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden the fasting on Friday, whereupon he said: Yes, by the Lord of this House
عمرو ناقد ، سفیان بن عینیہ ، عبدالحمید ابن جبیر ، حضرت محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں! قسم ہے اس گھر کے رب کی ۔
188وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported that he asked Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them), whether he had heard like this from the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ ، محمد بن عباد جعفر ، جابر بن عبداللہ ا س سند میں بھی حضرت محمد بن عباد بن جعفر خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح نقل فرمایا ۔
189وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:None among you should observe fast on Friday, but only that he observes fast before it and after it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، حفص ، ابو معاویہ ، اعمش ، یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابی صالح ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن روزہ رکھے سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے ۔
190وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلاَ تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Do not single out the night (preceding) Friday among the nights for prayer and do not single out Friday among days for fasting but only when anyone among you is accustomed to fast (on dates) which coincide with this day (Friday)
ابو کریب ، حسین یعنی جعفی ، زائدہ ، ہشام ، ابن سیرین ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کےساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کروسوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو ۔
191حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ . حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا .
Salama b. Akwa' (Allah be pleased with him) reported that when this verse was revealed:"And as for those who can fast (but do not) expiation is the feeding of a needy person" (ii. 183), (he who liked to observe fast did observe it) and he who felt reluctant to observe it ate and expiated till the verse was revealed which abrogated it
۔ قتیبہ بن سعید ، بکر یعنی ابن مضر ، عمرو بن حارث ، بکیر ، یزید مولی سلمہ ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ ( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھاناکھلادیں جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا اردہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کردیا ۔
192حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ، الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
Salama b. Akwa' reported:We, during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), in one month of Ramadan (observed fast according to our liking). He who wished to fast lasted and he who wished to break broke it and fed a needy person as an expiation 1544 till this verse was revealed:" He who witnesses among you the month (of Ramadan) he should observe fast during it" (ii)
عمرو بن سواد عامری ، عبداللہ بن وہب ، عمروبن حارث بکیر بن اشجع ، یزید مولی سلمۃ بن اکوع ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رمضان کےمہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کو فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَفَلْيَصُمْهُ ) تو جو تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہوتو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے ۔
193حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ الشُّغُلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Salama reported:I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) as saying: I had to complete some of the fasts of Ramadan, but I could not do it but during the month of Sha'ban due to my duties to the Messenger of Allah (ﷺ) or with the Messenger of Allah (ﷺ)
احمد بن عبداللہ بن یونس ، زہیر ، یحییٰ بن سعید ، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضا ء ہوجاتے تھے تو میں ان روزوں کے سوائے شعبان کی قضا نہیں کرسکتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ۔
194وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
This hadith is narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters but with this variation that he said that ('A'isha did not observe fast but in Sha'ban) out of regard for the Messenger of Allah (ﷺ)
اسحاق بن ابراہیم ، بشر بن عمر زہرانی ، سلیمان بن بلال ، یحییٰ حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھی ۔
195وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . يَحْيَى يَقُولُهُ .
In another version of the previous hadith, the words are:" Yahya said: I think it was due to the regard for the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، یحییٰ بن سعید ، نے اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے ہوتی تھی ۔ یہ بات یحیٰ کہتے ہیں
196وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
This hadith is reported on the authority of Yahya with the same chain of transmitters but no mention is made of the duty to the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ، عمروناقد ، سفیان ، حضرت یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی ۔
197وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ .
A'isha reported:If one amongst us had to break fasts (of Ramadan due to natural reasons, i. e. menses) during the life of the Messenger of Allah (ﷺ) she could not find it possible to complete them so long she had been in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) till Sha'ban commenced
محمد بن ابی عمر مکی ، عبدالعزیز بن محمد دراوردی ، یزید بن عبداللہ بن ہاد ، محمد بن ابراہیم ، ابی سلمہ بن عبدالرحمان ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کرلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہاں تک کہ شعبان آجاتا ۔
198وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone dies in a state (that he had to complete) some fasts, his heir must fast on his behalf
ہارون بن سعید ، احمد بن عیسیٰ ، ابن وہب ، عمر وبن حارث ، عبیداللہ بن ابی جعفر ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی انتقال کرجائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کاوارث اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
199وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ . فَقَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Don't you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than (the payment of anyone else)
اسحاق بن ابراہیم ، عیسیٰ بن یونس ، اعمش ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینےکے روزے لازم ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے ۔
200وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " . قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died (in a state) that she had to observe fasts of a month (of Ramadan). Should I complete (them) on her behalf? thereupon he (the Holy Prophet) said: Would you not pay the debt if your mother had died (without paying it)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: The debt of Allah deserves more that it should he paid
۔ احمد بن عمر وکیعی ، حسین بن علی ، زائدہ ، سلیمان ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری ما ں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟عرض کیا کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے اداکیا جائے ۔
201وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ كُهَيْلٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) from the Messenger of Allah (ﷺ)
ابو سعید اشج ، ابو خالد ، اعمش ، سلمہ بن کہیل ، حکم بن عتیبہ ، مسلم بن جبیر ، مجاہد ، وعطاء ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا ۔
202وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ زَكَرِيَّاءَ، بْنِ عَدِيٍّ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ، بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died and there is due from her a fast of vow; should I fast on her behalf? Thereupon he said: You see that if your mother had died in debt, would it not have been paid on her behalf? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then observe fast on behalf of your mother
اسحاق بن منصور ، ابن ابی خلف ، عبد بن حمید ، زکریا بن عدی ، عبیداللہ بن عمرو ، زید بن ابی انیسہ ، حکم بن عتیبہ ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے؟کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے آپ نے فرمایاکہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ ۔
203وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ - قَالَ - فَقَالَ " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " صُومِي عَنْهَا " . قَالَتْ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " حُجِّي عَنْهَا " .
Abdullah b. Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:When we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), a woman came to him and said: I had gifted to my mother a maid-servant, and now she (the mother) has died. Thereupon he (the Holy Prophet) said: There is a definite reward for you and she (the maid-servant) has been returned to you as an inheritance. She (that woman) again said: Fasts of a month (of Ramadan) are due upon her; should I observe them on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Observe fasts on her behalf. She (again) said: She did not perform Hajj, should I perform it on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Perform Hajj on her behalf
علی بن مسہر ، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ، کہا : ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا : میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ ( والدہ ) فوت ہوگئی ہیں ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا اجر پکا ہوگیا ۔ اور و راثت نے وہ ( لونڈی ) تمھیں لوٹادی ۔ " اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے ذمے ا یک ماہ کےروزے تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے روزے رکھو " ۔ اس نے پوچھا : انھوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے حج کرو ۔
204وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ .
Abdullah b. Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same but with this variation that the (the narrator) said:" Fasts of two months
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن مسہر کی حدیث کے مانند ( حدیث بیان کی ) مگر انھوں نے کہا : " دوماہ کے ر وزے ۔
205وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ .
Ibn Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ), and the rest of the hadith is the same, but he said:" Fasting of one month
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ( سفیان ) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی ، انھوں نے ابن بریدہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " ایک ماہ کے روزے ۔
206وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ .
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters in which it is said:" Fasting of two months
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کی مانند ) حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " دو ماہ کےروزے ۔
207وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ .
Buraida (Allah be pleased with him) reported a similar hadith on the authority of his father that a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:" Fasting for one month
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ان کی حدیث کے مانند ( بیان کیا ) اور انھوں نے بھی کہا : " ایک ماہ کے ر وزے ۔
208حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ رِوَايَةً وَقَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ".
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:If any one of you is invited to a meal when he is fasting, he should say:" I am fasting
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہوتو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں ۔
209حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - رِوَايَةً قَالَ " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:When any one of you gets up in the morning in the state of fasting, he should neither use obscene language nor do any act of ignorance. And if anyone slanders him or quarrels with him, he should say:" I am fasting, I am fasting
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( نبی کریم سے ) روایت کی ، کہا : " جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہوتو وہ فحش گوئی نہ کرے ، نہ جہالت والا کوئی کام کرے ، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا ( کرنا ) چاہے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔
210وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Majestic and the Exalted, said: Every act of the son of Adam is for him except fasting. It is done for My sake, and I will give a reward for it. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ، اللہ عزوجل نے فرمایا : ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے ، وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاد دوں گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!روزہ د ار کے منہ کی بو ا للہ کےنزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔
211حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - وَهُوَ الْحِزَامِيُّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصِّيَامُ جُنَّةٌ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Fasting is a shield
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روزہ ایک ڈھال ہے ۔
212وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَسْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah the Exalted and Majestic said: Every act of the son of Adam is for him, except fasting. It is (exclusively) meant for Me and I (alone) will reward it. Fasting is a shield. When any one of you is fasting on a day, he should neither indulge in obscene language, nor raise the voice; or if anyone reviles him or tries to quarrel with him he should say: I am a person fasting. By Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah on the Day of judgment than the fragrance of musk. The one who fasts has two (occasions) of joy, one when he breaks the fast he is glad with the breaking of (the fast) and one when he meets his Lord he is glad with his fast
عطاء نے ابو صالح الزیا ت سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا : ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے!قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی ۔ اور روزہ دار کے لیے دوخوشی کے موقع ہیں وہ ان دونوں پر خوش ہو تا ہے : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہو تا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے ( کی وجہ ) سے خوش ہو گا ۔
213وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ . وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every (good) deed of the son of Adam would be multiplied, a good deed receiving a tenfold to seven hundredfold reward. Allah, the Exalted and Majestic, has said: With the exception of fasting, for it is done for Me and I will give a reward for it, for one abandons his passion and food for My sake. There are two occasions of joy for one who fasts, joy when he breaks it, and joy when he meets his Lord, and the breath (of an observer of fast) is sweeter to Allah than the fragrance of musk
اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہاؒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؒابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک ( بڑھا دی جا تی ہے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے روزے کے ( کیونکہ ) وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے ( روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور ( دوسری ) خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے ۔
214وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، سَعِيدٍ - رضى الله عنهما - قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
Abu Huraira and Abu Sa'id (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) (as saying):Allah, the Exalted and Majestic, said: Fast (is exclusively) meant for Me and I would give its reward. There are two (occasions) of joy for the observer of fast. He feels joy when he breaks the fast and he is happy when he meets Allah. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk
محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فر ماتا ہے ۔ بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ بلا شبہ روزہ دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے خوش ہو تا ہے ۔ اور جب وہ اللہ سے ملا قات کرے گا ۔ خوش ہو گا ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے !اللہ کے ہاں ، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
215وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، - وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ - بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَقَالَ " إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ " .
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Sinan with the same chain of transmitters (and the words are):" As he meets Allah, He rewards him, and he is happy
عبد العزیز بن مسلم نے کہا : ہمیں ضرار بن مرہ ( ابوسنان ) نے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے ما نند ) حدیث سنائی ، کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجرو ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا ۔
216حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، - وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ - عَنْ سُلَيْمَانَ، بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ " .
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:In Paradise there is a gate which is called Rayyan through which only the people who fast would enter on the Day on Resurrection. None else would enter along with them. It would be proclaimed: Where are the people who fast that they should be admitted into it? And when the last of them would enter, it would be closed and no one would enter it
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جنت میں ایک ( ایسا ) دروازہ ہے جسے " الریان " کہا جا تا ہے قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ ان کے سوا کو ئی اور داخل نہیں ہوں گے ۔ جب ان میں سے آخری ( فرد ) داخل ہو جا ئے گا ۔ تو وہ ( دروازہ بند کر دیا جا ئے گا ، اس کے بعدکوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا ۔)
217وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Sa'id al Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
218وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters
عبد العزیز یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ، ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی ،
219وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ، أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observes fast for a day in the way of Allah He would remove his face from the Hell to the extent of seventy years' distance
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثبیان کر رہے تھے ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعا لیٰ اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے ۔
220وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ " يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ . قَالَ " فَإِنِّي صَائِمٌ " . قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - قَالَتْ - فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا . قَالَ " مَا هُوَ " . قُلْتُ حَيْسٌ . قَالَ " هَاتِيهِ " . فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " . قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that one day the Messenger of Allah may peace be upon him) said to me:'A'isha, have you anything (to eat)? I said: 'Messenger of Allah, there is nothing with us. Thereupon he said: I am observing fast. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) went out, and there was a present, for us and (at the same time) some visitors dropped in. When the Messenger of Allah (ﷺ) came back, I said to him: Messenger of Allah, a present was given to us, (and in the meanwhile) there came to us visitors (a major Portion of it has been spent on them), but I have saved something for you. He said: What is it? I said: It is hais (a compound of dates and clarified butter). He said: Bring that. So I brought it to him and he ate it and then said: I woke up in the morning observing fast. Talha said: I narrated this hadith to Mujahid and he said: This (observing of voluntary fast) is like a person who sets apart Sadaqa out of his wealth. He may spend it if he likes, or he may retain it if he so likes
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحۃ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عائشہ !کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ "" کہا : تو میں نے عرض کی!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ "" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجاگیا یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آگئے ۔ کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔ اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ محفوظ کرکے رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ کیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اورپنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لایئے "" تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے ر وزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ "" طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو ا پنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔
221وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ " . فَقُلْنَا لاَ . قَالَ " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ " . ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ . فَقَالَ " أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " . فَأَكَلَ .
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported:The Apostle of Allah (ﷺ) came to me one day and said: Is there anything with you (to eat)? I said: No. Thereupon he said: I shall then be fasting. Then he came to us another day and we said: Messenger of Allah, hais has been offered to us as a gift. Thereupon he said: Show that to me; I had been fasting since morning. He then ate it
وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : " کیا آپ لوگوں کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ " تو ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو تب میں روزے سے ہوں ۔ " پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے کھلایئے ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا ۔
222وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
223حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ .
Abdullah b. Shaqiq reported:I said to'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah (ﷺ) fast for a full month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted throughout, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےدریافت کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے ، جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔
224وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صلى الله عليه وسلم .
Abdullah b. Shaqiq reported:I said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah (ﷺ) observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے ۔ تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیتے ، یہاں تک کہ آپ اپنی ( دائمی منزل کی ) راہ پر تشریف لے گئے ۔
225وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، - قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، - قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ - قَالَتْ - وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ .
Abdullah b. Shaqiq reported. I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Medina, but that of Ramadan
حماد نے ایوب اورہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتےجارہے ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کردیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کررہے ہیں ، کہا : جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، ا س کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔
226وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الإِسْنَادِ هِشَامًا وَلاَ مُحَمَّدًا .
A hadith like this has been narrated on the authority of Abdullah b. Shaqiq but in the chain of transmitters no mention is made of Hisham and Muhammad
قتیبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حماد نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوا کیا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ، انھوں نے سند میں ہشام اور محمد کا ذکر نہیں کیا ۔
227حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ . وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ .
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to fast (so continuously) that we said that he would not break, and did not fast at all till we said that he would not fast. And I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Sha'ban
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان ( بن عوف ) سے اور انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ( اور ) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے ۔
228وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ . وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً .
Abu Salama reported:I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Sha'ban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Sha'ban except a few (days)
ابن ابی لبید نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بار ے میں پوچھا توانھوں نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کےروزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( گویا ) پورے شعبان کے ر وزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔
229حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ، أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَكَانَ يَقُولُ " خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا " . وَكَانَ يَقُولُ " أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) did not observe fast in any month of the year more than in the month of Sha'ban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds) ; and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں ، شعبان سے بڑھ کر ، روزے نہیں رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل و ہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔
230حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ . وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَصُومُ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) did not fast throughout any month except during ramadan. And when he observed fast (he fasted so continuously) that one would say that he would not break (them) and when he Abandoned, he abandoned (so continuously) that one would say: By Allah, perhaps he would never fast
ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو ( مسلسل ) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ روزے نہیں رکھیں گے ۔
231وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bishr with the same chain of transmitters (with a slight variation of words and these are), that he (the narrator) said:" During any month continuously since he came to Medina
شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ابو بشر سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور ( " پورا مہینہ کے بجائے ) " جب سے مدینہ آئے متواتر کوئی مہینہ " کہا ۔
232حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ، رَجَبٍ - وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ - فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ .
Uthman b. Hakim al-Ansari said:I asked Sa'id b. Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) as saying: The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so conti- nuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے ، تو انھوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ۔
233وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ .
The same hadith as the previous hadith has been transmitted through another chain
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
234وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه ح. وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ . وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ .
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it)
زہیر بن حرب اورابو بکر بن نافع نے ۔ الفاظ انھی کے ہین ۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہاجاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزےرکھنے چھوڑ دیے ۔
235حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رضى الله عنهما لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was informed that he could stand up for (prayer) throughout the night and observe fast every day so long as he lived. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said:Is it you who said this? I said to him: Messenger of Allah, it is I who said that. Thereupon the Messenger of Allah may peace be upon him) said: You are not capable enough to do so. Observe fast and break it; sleep and stand for prayer, and observe fast for three days during the month; for every good is multiplied ten times and this is like fasting for ever. I said: Messenger of Allah. I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Fast one day and do not fast for the next two days. I said: Messenger of Allah, I have the strength to do more than that. The Prophet (ﷺ), said: Fast one day and break on the other day. That is known as the fasting of David (peace be upon him) and that is the best fasting. I said: I am capable of doing more than this. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is nothing better than this. 'Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) said: Had I accepted the three days (fasting during every month) as the Messenger of Allah (ﷺ) had said, it would have been more dear to me than my family and my property
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
236وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولاً فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ - قَالَ - فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا . فَقَالَ إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا . - قَالَ - فَقُلْنَا لاَ بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا . قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضى الله عنهما - قَالَ كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ - قَالَ - فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ " . قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ . قَالَ " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا - قَالَ - فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " . قَالَ " وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ " . قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ . فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " . قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ . قَالَ وَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ لاَ تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ " . قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Yahya reported:I and 'Abdullah b. Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that 'Abdullah b Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Qur'an every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Qur'an every night) was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) or he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Qur'an) every night. I said: Apostle of Allah, it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Messenger of Allah (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah, what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Qur'an during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He ('Amr b. 'As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah (ﷺ) had told me: 'You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Messenger of Allah (ﷺ) had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Messenger of Allah (ﷺ)
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
237وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " " فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ " . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ " نِصْفُ الدَّهْرِ " . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " . وَلَكِنْ قَالَ " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " .
This hadith has been narrated by Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters and he made this addition after these words:During every month, (fasting) for three days, there is for you ten times for every good and that is perpetual fasting (for three days would bring a reward for full thirty days). I said: What is the fast of the Messenger of Allah, David? He said: Half of the age (observing fast on alternate days for the whole life). And in the hadith no mention has been made of the recital of the Qur'an, and he did not say: Your visitor has a right upon you, but (instead) he said: Your son has a right upon you
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : "" ہر مہینے میں تین دن "" کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے : "" تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس ( نیکیاں ) ہیں ۔ ، تو یہ سارے سال کے ( روزے ) ہیں ۔ "" اور ( اس ) حدیث میں کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا : "" آدھا سال ۔ "" اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛ "" تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے "" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے ، اس کی بجائے انھوں نے کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے ۔
238حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ - وَأَحْسِبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " . قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً " . قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً . قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ " .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Recite the whole of the Qur'An during every month. I said: I find power (to recite it) in a shorter period. He said: Then recite it in twenty nights. I said: I find power (to recite it in a shorter period even than this), whereupon he said: Then recite it in seven (nights) and do not exceed beyond it
شیبان نے یحییٰ سے ، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ۔ ( یحییٰ نے کہا : ) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابو سلمہ سے سنی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیاکرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سات دنوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا ۔
239وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قِرَاءَةً قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ تَكُنْ بِمِثْلِ فُلاَنٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Abdullah, don't be like so and so who observed prayer during the whole night and then abandoned it (altogether)
اوزاعی نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے ( عمر ) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عبداللہ!فلاں شخص کی طرح نہ ہوجانا وہ رات کوقیام کرتاتھا ، پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا ۔
240وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا وَلِنَفْسِكَ حَظًّا وَلأَهْلِكَ حَظًّا . فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " . قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى " . قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَاءٌ فَلاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ " .
Abdu'llah b. 'Amr b. 'As (Allah be pleased with them) reported:It was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ) that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Don't do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah, I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He ('Amr) said: Apostle of Allah, how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah, who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? 'Ata', the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah (ﷺ), however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا وہ کہتے تھے کہ ابو عباس نے ان کوخبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہواور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ۔ ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑو آرام بھی کرو ، اور ہردس دن میں سے ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " توپھر داودعلیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !داودعلیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اورجب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اس کی ضمانت کون دےگا ( کہ میری زندگی کا ہردن روزے سے شمار ہوگا؟ ) عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔ تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔
241وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ . قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ .
This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters. Imam Muslim has narrated this hadith on the authority of Abu 'Abbas al-Sa'ib b. Farrukh and he was a trustworthy and reliable (narrator) among the people of Mecca
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا کہ ابو عباس الشاعر نے ان کوخبر دی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو عباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں ، ثقہ اورعدول ہیں ۔
242وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَهِكَتْ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ " . قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى " .
Abdullah b. Amr (Allah be pleased with both of them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Abdullah b. Amr, you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو عباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روازانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جا گ جاگ کر ) کمزور ہوجائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تیس دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔ " میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔
243وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " وَنَفِهَتِ النَّفْسُ " .
This hadith is narrated on the authority of Habib b. Abu Thabit with the same chain of transmitters and he said:" And you would become exhausted
(مسعر سے روایت ہے ، کہا : ) ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کےساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا : " اور ( ہمیشہ روزے رکھنے والے کی ) جان درماندہ ہوجائے گی ۔
244حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ " . قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ . قَالَ " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ لِعَيْنِكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلأَهْلِكَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: I have been informed that you stand for prayer the whole of night and fast during the day. I said: I do that, whereupon he said: If you did that you in fact strained heavily your eyes and made yourself weak. There is a right of your eyes (upon you) and a right of your self (upon you) and a right of your family (upon you). Stand for prayer and sleep. observe fasts and break (them)
سفیان بن عینیہ نے عمر و سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : " کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ " میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی ۔ اور تمھاری جان کمزورہوجائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کاحق ہے ۔ قیام کرو اورنیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔
245وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
246وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاَةُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ " . قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked 'Amr b. Dinar whether 'Amr b. Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سوجاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعدرات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔ "" حدیث نمبر ۔ میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینارسے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے : "" وہ آدھی رات کے بعد رات کاتہائی حصہ قیام کرتے تھے؟ "" انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
247وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " خَمْسًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " سَبْعًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " تِسْعًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " أَحَدَ عَشَرَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ " .
Abu Qatada reported that Abu al Malih informed me:I went along with your father to 'Abdullah b. Amr, and he narrated to us that the Messenger of Allah (ﷺ) was informed about my fasting and he came to me, and I placed a leather cushion filled with fibre of date-palms for him. He sat down upon the ground and there was that cushion between me and him, and he said to me: Does three days' fasting in a month not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) five (not suffice for you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts) He said: (Would) seven (fasts) not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He (the Holy Prophet) then said: (Would) nine (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) eleven (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts than these). Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no fasting (better than) the fasting of David which comprises half of the age, fasting a day and not fasting a day
ابو قلابہ ( بن زید بن عامر الجرمی البصری ) نے کہا : مجھے ابوملیح نے خبر دی ، کہا : میں تمھارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو انھوں نے ہمیں حدیث سنائی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کاذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کاایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکہہ میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " کیا تمھیں ہر مہینے میں سے تین دن ( کے روزے ) کافی نہیں؟ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نو ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گیارہ ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی ر وزے نہیں ہیں ، آدھا زمانہ ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا ۔
248حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
Abdullah b. Amr (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said to him:Observe fast for a day and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He then said: Observe fast for two days, and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He (the Holy Prophet) said: Observe fast for three days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe fast for four days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Then observe fast (which is the) best in the eye of Allah, the fast of David (peace be upon him) ; he used to observe fast one day and break on the other day
زیاد بن فیاض سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو عیاض سے سنا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا : " ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جوباقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دودن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین دن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " چاردن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے ، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔
249وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، - حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً . قَالَ " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . فَكَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ .
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to me! 'Abdullah b. 'Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Don't do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a prepetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said:Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he ('Abdullah b. 'Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کاروزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پرتمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرناضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "" وہ کہا کرتے تھے : کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
250حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ . فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ .
Mu'adha al-'Adawiyya reported that she asked 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), whether the Messenger of Allah (ﷺ) observed fasts for three days during every month. She said:Yes I said to her: Which were (the particular) days of the month on which he observed fast? She said: He was not particular about the days of the month on which to observe fast
سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں ( روزے رکھتے تھے؟ ) انہوں نے کہا کہ کچھ پرواہ نہ کرتے ، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے ۔
251وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ " يَا فُلاَنُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him (or he said to another person and he was listening to it):O, so and so, did you observe fast in the middle of the month? He said: No. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: When you break it, then observe fast for two days
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ۔ یاکسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے : ۔ " اےفلاں!کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟ " اس نے جواب دیا نہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تو جب ( رمضان مکمل کرکے ) روزے ترک کروتو ( ہرمہینے ) دو دن کے روزے رکھتے رہو ۔
252وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ - رضى الله عنه - غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ . فَجَعَلَ عُمَرُ - رضى الله عنه - يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلاَمَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ " . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ " . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ " .
Abu Qatada reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:How do you fast? The Messenger of Allah (ﷺ) felt annoyed. When 'Umar (Allah be pleased with him) noticed his annoyance, he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life, and with Muhammad as our Prophet. We seek refuge with Allah from the anger of Allah and that of His Messenger. 'Umar kept on repeating these words till his (the Prophet's) anger calmed down. Then Umar said: Messenger of Allah, what is the position of one who fasts perpetually? He (ﷺ) said: He neither fasted nor broke it, or he said: He did not fast and he did not break it. 'Umar said: What about him who fasts for two days and does not fast one day? He (ﷺ) said: Is anyone capable of doing that? He ('Umar) said: What is the position of him who fasts for a day and doesn't fast on the other day? Thereupon he (the Holy Prophet) said: That is the fast of David (peace be upon him). He ('Umar) said: What about him who fasts one day and doesn't fast for two days. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: I wish I were given the strength to do that. Thereafter he (ﷺ) said: Fasting three days every month and that of Ramadan every year is a perpetual fasting. I seek from Allah that fasting on the day of 'Arafa may atone for the sins of the preceding and the coming years, and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year
حماد نے غیلان سے ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے اورانھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ کے غصے سے اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ، توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر ( مسلسل ) روزہ رکھتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطارکیا ۔ " یا فرمایا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا اس نے افطار نہیں کیا ۔ " کہا : اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاکوئی اس کی طاقت رکھتاہے؟ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور دو دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان ( کے روزوں ) سے ( لے کردوسرے ) رمضان ( کے روزے ) یہ ( عمل ) سارے سال کے روزوں ( کے برابر ) ہے ۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کاروزہ ، میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔
253حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً . قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " . أَوْ " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " . قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ قَالَ " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ " . قَالَ فَقَالَ " صَوْمُ ثَلاَثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ " . قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ " . وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نَرَاهُ وَهْمًا .
Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about his fasting. The Messenger of Allah (ﷺ) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said:We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. (Imam Muslim said that in this hadith there is a) narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نارض ہوگئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ۔ ( جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ ) کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔ "" اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی طاقت کون رکھتاہے؟ "" کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔ "" کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ "" کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "" کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔ "" امام مسلمؒ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔
254وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ بن معاذ ، شبابہ اورنضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ ( سابق حدیث کے مانند ) روایت کی ۔
255وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الاِثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ .
This hadith has been narrated by Ghailan b. Jarir with the same chain of transmitters, but with one variation, that there has been made mention of Monday and not of Thursday
ابان عطار نے کہا : ہمیں غیلان بن جریر نے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی مانند حدیث بیا ن کی ، مگر انھوں نے ( اپنی ) اس حدیث میں سوموار کا ذکرکیا ، جمعرات کا ذکر نہیں کیا ۔
256وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّرَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَيْنِ فَقَالَ " فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَىَّ " .
Abu Qatada Ansari (Allah be pleased with him) reported that Allah's Massenger (ﷺ) was asked about fasting on Monday, whereupon he said:It is (the day) when I was born and revelation was sent down to me
ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، انھوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بار ے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔
257حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، - وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ لآخَرَ " أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " .
Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) having said to him or to someone else:Did you fast in the middle of Sha'ban? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you did not observe fast, then you should observe fast for two days
ثا بت نے مطر ف سے انھوں نے حضرت عمرا ن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ۔ ۔ ۔ یا یا کسی اور آدمی سے ۔ ۔ ۔ فر ما یا : " کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزے رکھے ہیں ؟ " اس نے جواب دیا : نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم روزے ختم کر لو تو دو دن کے روزے رکھنا ۔
258وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا " . قَالَ لاَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " .
Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) said to a person:Did you observe any fast in the middle of this month (Sha'ban)? He said: No. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: Fast for two days instead of (one fast) when you have completed (fasts of) Ramadan
ابو علا ء نے مطر ف سے اور انھوں نے حضرت حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے کے دورا ن میں کچھ روزے رکھے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم تمضا ن کے روزے ختم کر لو تو اس کی جگہ دو رازے رکھ لینا ۔
259حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ " هَلْ صُمْتَ مِنْ سِرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا " . يَعْنِي شَعْبَانَ . قَالَ لاَ . قَالَ فَقَالَ لَهُ " إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ " . شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ .
Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to a person:Did you observe fast in the middle of this month. i. e. Sha'ban? He said: No. Thereupon he said to him: When it is the end of Ramadan, then observe fast for one day or two (Shu'ba had some doubt about it) but he said: I think that he has said: two days
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنا ئی کہا : میں نے مطرف کو حضرت عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبا ن کے وسط ( یا دوران ) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟اس نے جواب دیا : نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرما یا : " جب تم رمضا ن کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا ۔ شعبہ نے ۔ ۔ ۔ جن کو شک ہوا ۔ ۔ کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا ۔
260وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُؤِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ .
This hadith is narrated by 'Abdullah b. Hani b. Akhi Mutarrif with the same chain of transmitters
نضر نے ہمیں خبر دی ( کہا ) ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبد اللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث روایت کی ۔
261حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلاَةُ اللَّيْلِ " .
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most excellent fast after Ramadan is God's month. al-Muharram, and the most excellent prayer after what is prescribed is prayer during the night
ابو بشر نے حمید بن عبد الرحمان حمیری سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے " محرم " کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے ۔
262وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَرْفَعُهُ قَالَ سُئِلَ أَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ وَأَىُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ " أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلاَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that he (the Messenger of Allah) was asked as to which prayer was most excellent after the prescribed prayer, and which fast was most excellent after the month of Ramadan. He said:Prayer offered in the middle of the night and the most excellent fast after (fasting) in the month of Ramadan is the fast in God's month al-Muharram
جریر نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے محمد بن منتشر سے انھوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کر رہے تھے ۔ کہا : آپ سے در یافت کیا گیا : فرض نماز کے بعد کو ن سی نماز افضل ہے اور ماہ رمضان کے بعد کو ن سے روزے افضل ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات کی نماز ہے اور رمضا ن کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۔
263وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been reported from the Messenger of Allah (ﷺ) by 'Abd al-Malik with the same chain of transmitters in connection with fast
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے ذکر میں اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
264حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ " .
Abu Ayyub al-Ansari (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observed the fast of Ramadan and then followed it with six (fasts) of Shawwal. it would be as if he fasted perpetually
ہمیں اسما عیل بن جعفر نے حدیث سنا ئی ، ( کہا : ) مجھے سعد بن سعید قیس نے عمر بن ثا بت بن حارث خزعجی سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے ان کو حدیث سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے رمضا ن کے روزے رکھے ۔ پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ ( پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے ۔
265وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
Abu Ayyub al-Ansari reported (through another chain of transmitters):I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying like this
عبد اللہ بن نمیر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث کے مانند ۔)
266وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Abu Ayyub reported a hadith like this (through another chain of transmitters)
عبد اللہ بن مبا رک نے سعد بن سعید سے روایت کی ، کہا : میں نے عمر بن ثا بت سے سنا ، کہا : میں نے حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
267وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that some persons among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) were shown Lailat- ul-Qadr while sleeping in the last week (of Ramadan). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:I see that your dreams agree regarding the last week; so he who wants to seek it should seek it in the last week (during the night)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ آخری سات راتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں لیلۃ القدردکھا ئی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں دیکھتا ہوں کہ تمھا را خواب آخری ساتھ راتوں میں ایک دوسرے کے موافق ہو گیا ہے اب جو اس ( لیلۃالقدر ) کو تلاش کرنا چا ہے وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کردہ مکمل الفا ظ آگے حدیث : 2764میں ہیں)
268وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Seek Lailat-ul-Qadr in the last week (of Ramadan)
۔ عبد اللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فر ما یا : " لیلۃالقدر کو ( رمضان کی ) آخری سات راتوں میں تلا ش کرو ۔
269وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " .
Salim reported on the authority of his father that a person saw Lailat-ul- Qadr on the 27th (of Ramadan). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:I see that your dreams agree regarding the last ten (nights of Ramadan). So seek it on an odd number (of these ten nights)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے ( خواب میں ) دیکھا کہ لیلۃالقدر ستائیسویں رات ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں دیکھ رہا ہوں کہ تمھا را خواب آخری عشرے کے بارے میں ہے تم اس ( لیلۃ القدر ) کو اس ( عشرے ) کی طاق ( راتوں ) میں تلا ش کرو ۔
270وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الأُوَلِ وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " .
Salim b. 'Abdullah b. 'Umar reported that his father said:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: So far as Lailat-ul-Qadr is concerned. some persons among you have seen it (in a dream) in the first week and some persons among you have been shown that it is in the last week; so seek it in the last ten (nights)
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر نے خبرد ی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا ، فر مارہے تھے : " تم میں سے کچھ لوگوں کو ( خواب میں ) دکھا یا گیا ہے کہ یہ پہلی ساتھ را توں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھا یا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے تو تم اس کو بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلاش کرو ۔
271وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلاَ يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Seek it (Lailat-ul-Qadr) in the last (ten nights). If one among you shows slackness and weakness (in the earlier part of Ramadan), it should not be allowed to prevail upon him in the last week
عقبہ نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو اگر تم میں سے کو ئی کمزور پڑ جا ئے یا بے بس ہو جا ئے تو وہ باقی کی سات راتوں میں ( کسی صورت سستی کمزوری سے ) مغلوب نہ ہو ۔
272وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who is anxious to seek it (Lailat-ul-Qadr) should seek it in the last ten (nights of Ramadan)
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرما یا : "" جو اس رات کا متلا شی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے ۔
273وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ، وَمُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ " . أَوْ قَالَ " فِي التِّسْعِ الأَوَاخِرِ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Seek the time of Lailat-ul-Qadr in the last (ten nights), or he said: in the last nine (nights)
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم لیلۃ القدر کے اوقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو ۔ یا فر ما یا : " آخری سات راتوں میں ( تلاش کرو ۔)
274حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّاللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " . وَقَالَ حَرْمَلَةُ " فَنَسِيتُهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I was shown Lailat-ul-Qadr; then some members of my family awoke me up, then I was caused to forget it. So seek it in the last week. Harmala said: (The Prophet did not say:" I was made to forget," but he stated):" But I forgot it
ہمیں ابو طاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبردی ( کہا : ) مجھے یو نس نے ابن شہاب سے خبردی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے ( خواب میں ) شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلوادی گئی ، تم اسے بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلا ش کرو ۔ حرملہ نے ( "" مجھے بھلوادی گئی "" کے بجا ئے ) "" میں اسے بھول گیا "" کہا ۔
275حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) spent in devotion (in i'tikaf) the middle ten nights of the month of Ramadan, and when twenty nights were over and it was the twenty-first night, he went back to his residence and those who were along with him also returned (to their respective residences). He spent one month in devotion. Then he addressed the people on the night he came back (to his residence) and commanded them as Allah desired (him to command) and then said:I used to devote myself (observe i'tikaf) during these ten (nights). Then I started devoting myself in the last ten (nights). And he who desires to observe i'tikaf along with me should spend the night) at his place of i'tikaf. And I saw this night (Lailat-ul-Qadr) but I forgot it (the exact night) ; so seek it;In the last ten nights on odd numbers. I saw (the glimpses of that dream) that I was prostrating in water and mud. Abu Sa'id al-Khudri said: It rained on the twenty-first night and the water dripped (from the roof) of the mosque at the place where the Messenger of Allah (ﷺ) observed prayer. I looked at him and as he completed the dawn prayer, (I found) his face was wet with mud and water
ہمیں بکر نے ابن ہا د سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحماٰن سے انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہو تے ہیں جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جا تیں اور اکیسویں رات کی آمد ہو تی تو اپنے گھر لو ٹ جا تے اور وہ شخص بھی لو ٹ جا تا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر آپ ایک مہینے ، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ ( گھر ) لو ٹ جا یا کرتے تھے ۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، جو اللہ تعا لیٰ نے چا ہا اس کا حکم دیا ۔ پھر فر ما یا : "" میں ان ( درمیانے ) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا ۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں ۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔ میں اپنے آپ کو ( خواب میں ) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اکیسویں رات ہم پر بارش ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد ( کی چھت ٹپک پڑی میں میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے ۔ آپ کو دیکھا تو آپ کے چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا ۔)
276وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ " . وَقَالَ وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) devoted (himself to prayer) in the middle (ten nights) of Ramadan. The rest of the hadith is the same except for these words:" That he adhered to his place of i'tikaf and his forehead was besmeared with mud and water
عبد العزیز ، یعنی دراوری نے یزید ( بن ہاد ) سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضا ن میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے ( اپنے " اعتکا ف کی جگہ میں را ت گزارنے " کے بجا ئے ) ا " پنے اعتکاف کی جگہ میں ٹکارہے ، " کہا اور کہا : آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہو ئی تھی ۔
277وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ - قَالَ - فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " . فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ " وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَأَنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " . فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed i'tikaf (confined himself for devotion and prayer) in the first ten (days) of Ramadan; he then observed i'tikaf in the middle ten (days) in a Turkish tent with a mat hanging at its door. He (the Holy Prophet) took hold of that mat and placed it in the nook of the tent. He then put his head out and talked with people and they came near him, and he (the Holy Prophet) said:I observed i'tikaf in the first ten (nights and days) in order to seek that night (Lailat-ul-Qadr). I then observed i'tikaf in the middle ten days. Then (an angel) was sent to me and I was told that this (night) is among the last ten (nights). He who among you likes to observe i'tikaf should do so; and the people observed it along with him, and he (the Holy Prophet) said: That (Lailat-ul-Qadr) was shown to me on an odd (night) and I (saw in the dream) that I was prostrating in the morning in clay and water. So in the morning of the twenty-first night when he (the Holy Prophet) got up for dawn (prayer). there was a rainfall and the mosque dripped, and I saw clay and water. When he came out after completing the morning prayer (I saw) that his forehead and the tip of his nose had (traces) of clay and water, and that was the twenty-first night among the last ten (nights)
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
278حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَكَانَ لِي صَدِيقًا فَقُلْتُ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا - أَوْ أُنْسِيتُهَا - فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ قَالَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ .
Abu Salama reported:'We discussed amongst ourselves Lailat-ul-Qadr. I came to Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) who was a friend of mine and said to him: Would you not go with us to the garden of date trees? He went out with a cloak over him. I said to him: Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) making mention of Lailat-ul-Qadr? He said: Yes, (and added) we were observing i'tikaf with the Messenger of Allah (ﷺ) in the middle ten days of Ramadan, and came out on the morning of the twentieth and the Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: I was shown Lailat-ul-Qadr, but I forgot (the exact night) or I was caused to forget it, so seek it in the last ten odd (nights), and I was shown that I was prostrating in water and clay. So he who wanted to observe i'tikaf with the Messenger of Allah (ﷺ) should return (to the place of i'tikaf). He (Abu Sa'id al-Khudri) said: And we returned and did not find any patch of cloud in the sky. Then the cloud gathered and there was (so heavy) a downpour that the roof of the mosque which was made of the branches of date-palms began to drip. Then there was prayer and I saw the Messenger of Allah (ﷺ) prostrating in water and clay till I saw the traces of clay on his forehead
ہشا م نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے آپس میں لیلۃالقدر کے بارے میں بات چیت کی ، پھر میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے ، میں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟وہ نکلے اور ان ( کے کندھوں ) پر دھاری دار چادر تھی ، میں نے ان سے پوچھا : ( کیا ) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہو ئے سنا ، تھا ؟ انھوں نے کہا : ہاںہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضا ن کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ہم بیسویں ( رات ) کی صبح کو ( اعتکاف سے ) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : " مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے بھلا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے تم اس کو آخریعشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں ( اس رات ) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس ( اعتکاف میں ) چلا جا ئے ۔ کہا : ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کو ئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا کہا : ایک بدلی آئی ہم پر بارش ہو ئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہ پڑی ۔ وہ کھجور کی شا خوں سے بنی ہو ئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے کہا : یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا ۔
279وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ .
This hadith has been reported on the authority of Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters (with a slight variation of these words):I saw the Messenger of Allah (ﷺ) after he had completed (the prayer) and there was a trace of clay on his forehead and tip (of the nose)
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی روایت کی ۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) پلٹے تو میں نے آپ کو اس ھال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنا رے پر مٹی کا نشان تھا ۔
280حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلاَنِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " . قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا . قَالَ أَجَلْ . نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ . قَالَ قُلْتُ مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهْىَ التَّاسِعَةُ فَإِذَا مَضَتْ ثَلاَثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ . وَقَالَ ابْنُ خَلاَّدٍ مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed i'tikaf in the middle ten days of Ramadan to seek Lailat-ul-Qadr before it was made manifest to him. When (these nights) were over, he commanded to strike the tent. Then it was made manifest to him that (Lailat-ul-Qadr) was in the last ten nights (of Ramadan), and commanded to pitch the tent (again). He then came to the people and said: O people, Lailat-ul-Qadr was made manifest to me and I came out to inform you about it that two persons came contending with each other and there was a devil along with them and I forgot it. So seek it in the last ten nights of Ramadan. Seek it on the ninth, on the seventh and on the fifth. I (one of the narrators) said: Abu Sa'id, you know more than us about numbers. He said: Yes, indeed we have better right than you. I said: What is this ninth, seventh, and fifth? He said: When twenty-one (nights are over) and the twenty-second begins, it is the ninth, and when twenty-three (nights) are over, that which follows (the last night) is the seventh, and when twenty-five nights are over, what follows it is fifth. Ibn Khallad said: Instead of the word Yahliqan (contending), he said Yakhtasiman, (they are disputing)
محمد بن مثنیٰ اورابو بکر بن خلاد نے کہا : ہمیں عبد الارلیٰ نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضا ن کے درمیا نے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس اس کو کھول دیا جا ئے ۔ آپ لیلۃالقدر کو تلاش کر ہے تھے ۔ جب یہ ( دس راتیں ) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھا ڑدیا گیا پھر ( وہ رات ) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے ۔ اس پر آپ نے ( خیمے لگا نے کا ) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا : "" اے لوگو! مجھ پر لیلۃالقدر واضھ کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتا نے کے لیے نکلا تو دو آدمی ( ایک دوسرے پر ) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہو ئے آئے ان کے ساتھ شیطان تھا ۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ تم اسے رمضا ن کے آخری عشرے میں تلا ش کرو ۔ تم نویں ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابو سعید !ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انھوں نے کہا : ہاں ہم اسے جاننے کے تم تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ کہا میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں ، اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟انھوں نے جواب دیا : جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد ( آخر سے گنتے ہو ئے ساتویں رات آتی ہے ) ساتویں ہے اس کے بعد جب پچسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے ) پانچویں ہے ۔
281وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، الْكِنْدِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، - وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ .
Abdullah b. Unais reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I was shown Lailat-ul-Qadr; then I was made to forget it, and saw that I was prostrating in water and clay in the morning of that (night). He (the narrator) said: There was a downpour on the twenty-third night and the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, and as he went back, there was a trace of water and clay on his forehead and on his nose. He (the narrator) said: 'Abdullah b. Unais used to say that it was the twenty-third (night)
بسر بن سعید نے حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی ۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ کہا : تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھا ئی پھر آپ نے ( رخ ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے ، کہا : اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے ( لیلۃالقدر ) تیئیسویں ہے ۔
282حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " الْتَمِسُوا - وَقَالَ وَكِيعٌ - تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
A'isha (Allah be pleased with her) and Ibn Numair reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Look for (and in the words of Waki, seek) Lailat-ul-Qadr in the last ten nights of Ramadan
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لیلۃالقدر کو رمضا ن کی آخری دس راتوں میں تلا ش کرو ۔
283وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ - رضى الله عنه - فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ . فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لاَ يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . ثُمَّ حَلَفَ لاَ يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلاَمَةِ أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لاَ شُعَاعَ لَهَا .
Zirr b. Habaish reported:I thu asked Ubayy b. Ka'b (Allah be pleased with him): Your brother (in faith) Ibn Mas'ud says: He who stands (for the night prayer) throughout the year would find Lailat-ul-Qadr, whereupon he said: May Allah have mercy upon him; (he said these words) with the intention that people might not rely only (on one night), whereas he knew that it (Lailat-ul-Qadr) is in the month of Ramadan and it is the twenty-seventh night. He then took oath (without making any exception, i. e. without saying In sha Allah) that it was the twenty-seventh night. I said to him: Abu Mundhir, on what ground do you say that? Thereupon he said: By the indication or by the sign which the Messenger of Allah (ﷺ) gave us, and that is that on that day (the sun) would rise without having any ray in it
سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔
284وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ، بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ أُبَىٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهَا - قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ عِلْمِي - هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .
Zirr b. Hubaish reported that Ubayy b. Ka'b (Allah be pleased with him) said about Lailat-ul-Qadr:By Allah, I know well about it. Shu'ba said: To the best of my knowledge it was the twenty-seventh night for which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to stand for prayer. Shu'ba doubted these words: That it was the night for which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to stand for prayer. And (he further) said: This was narrated to me by a friend of mine from him (the Holy Prophet)
شعبہ نے کہا : میں نے عبد ہ بن ابی لبابہ سے سنا ، وہ حضرت زر بن حبیشؒ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃالقدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کو جا نتا ہوں شعبہ نے ( روایت کے الفا ظ بیان کرتے ہو ئے ) کہا : میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس ( پر پوری رات ) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا ( اور ) وہ ستائیسویں رات ہے ۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا : یہ وہی را ت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ "" اور کہا : اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان ( عبد ہ ) کے حوالے سے حدیث بیان کی ۔
285وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - وَهُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:We were talking about Lailat-ul-Qadr in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: He who amongst you remembers (the night) when the moon arose and it was like a piece of plate (at the fag end of the month in a state of waning)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپ میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فر مایا : " تم میں سے کس کو یا د ہے جب چا ند طلوع ہوا اور وہ پیا لے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا ( وہی رات تھی)