1حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ " شَغَلَنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ " .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in a Khamisah* that had markings on it. Then he said: ‘These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me an Anbijaniyyah.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔
2حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ لِي إِزَارًا غَلِيظًا مِنَ الَّتِي تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الأَكْسِيَةِ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ وَأَقْسَمَتْ لِي لَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِيهِمَا .
It was narrated that Abu Burdah said:“I entered upon ‘Aishah and she brought out to me a thick waist wrap of the type made in Yemen, and one of these cloaks that are called Mulabbadah,* and she swore to me that the Messenger of Allah (ﷺ) had passed away in them.”
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ ( موٹا ارزاں کمبل ) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میں وفات پائی ۱؎۔
3حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى فِي شَمْلَةٍ قَدْ عَقَدَ عَلَيْهَا .
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed in a Shamlah tied with a knot
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں آپ نے گرہ لگا رکھی تھی۔
4حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) and over him was a Najrani upper wrap with a thick border.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔
5حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسُبُّ أَحَدًا وَلاَ يُطْوَى لَهُ ثَوْبٌ .
It was narrated that ‘Aishah said:“I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) insulting anyone, and no garment was ever folded up for him.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو برا بھلا کہا ہو یا آپ کا کپڑا تہ کیا جاتا رہا ہو۔
6حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِبُرْدَةٍ - قَالَ وَمَا الْبُرْدَةُ قَالَ الشَّمْلَةُ - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي لأَكْسُوَكَهَا . فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِيهَا وَإِنَّهَا لإِزَارُهُ فَجَاءَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ - رَجُلٌ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا . قَالَ " نَعَمْ " . فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ سَائِلاً . فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لأَلْبَسَهَا وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي . فَقَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ .
It was narrated from Sahl bin Sa’d Sa’idi that a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a woven sheet – he said:* “What type of woven sheet?” He said: “A Shamlah.” She said: “O Messenger of Allah, I have woven this with my own hands for you to wear.” The Messenger of Allah (ﷺ) took it, since he needed it. He came out to us wearing it as a lower wrap. So-and-so the son of so-and-so.” – a man whose name he told that day – said: “O Messenger of Allah, how beautiful this sheet is! Let me wear it.” He said: “Yes.” When he went inside he folded it up and sent it to him. The people said to him: “By Allah, you have not done well. The Prophet (ﷺ) wore it because he needed it, then you asked for it, and you knew that he would not refuse anyone who asked him for something.” He said: “By Allah, I did not ask for it so that I could wear it, rather I asked for it so that it could be my shroud.” Sahl said: “And it became his shroud the day he died.”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «بردہ» ( چادر ) لے کر آئی ( ابوحازم نے پوچھا«بردہ» کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: «بردہ» شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے ) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا ( اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے ) اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ چادر کتنی اچھی ہے، یہ آپ مجھے پہنا دیجئیے، فرمایا: ٹھیک ہے ، پھر جب آپ اندر گئے تو اسے ( اتار کر ) تہ کیا، اور اس کے پاس بھجوا دی، لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے اس لیے پہنائی تھی کہ آپ کو اس کی حاجت تھی، پھر بھی تم نے اسے آپ سے مانگ لیا، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ کسی سائل کو نامراد واپس نہیں کرتے تو اس شخص نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن ہو، سہل کہتے ہیں: جب وہ مرے تو یہی چادر ان کا کفن تھی ۱؎۔
7حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الصُّوفَ وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ وَلَبِسَ ثَوْبًا خَشِنًا خَشِنًا .
It was narrated that Anas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) wore wool and sandals, and he wore coarse, rough garments.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون کا ( سادہ اور موٹا ) لباس پہنا ہے، مرمت شدہ جوتا پہنا ہے اور انتہائی موٹا کپڑا زیب تن فرمایا ہے۔
8حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي . ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا " . قَالَهَا ثَلاَثًا .
It was narrated that Abu Umamah said:“Umar bin Khattab put on a new garment and said: Al-hamdu lillahil-ladhi kasani ma uwari bihi ‘awrati, wa atajammalu bihi fi hayati (Praise is to Allah Who has clothed me in something with which I conceal my nakedness and adorn myself in my life). Then he said: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever puts on a new garment and says: Al-hamdu lillahil- ladhi kasani ma uwari bihi ‘awrati, wa atajammalu bihi fi hayati (Praise be to Allah Who has clothed me in something with which I conceal my nakedness and adorn myself in my life), then takes the garment that has worn out, or that he had taken off and gives it in charity, he will be under the shelter, protection and care of Allah, whether he lives or dies.’ He said this three times.”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» یعنی: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي»یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہو گیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
9حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ فَقَالَ " ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ " . قَالَ لاَ بَلْ غَسِيلٌ . قَالَ " الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا " .
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) saw `Umar wearing a white shirt and he said:“Is this garment of yours washed or a new one?” He said: “Rather it has been washed.” He said: “Ilbas jadida, wa `ish hamida, wa mut shahida (May you wear new clothes, live a good life and die as martyr).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا» نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو ۔
10حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ فَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dress. Those two types of dress are Ishtimalus- Samma’* and Ihtiba’ in a single garment, with no part of it upon his private part
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، ایک «اشتمال صماء» ۱؎ سے، دوسرے ایک کپڑے میں «احتباء» ۲؎ سے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو
11حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَعَنِ الاِحْتِبَاءِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade two kinds of dress:Ishtimalus-Samma’ and Ihtiba’, exposing one’s private part to the sky
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔
12حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لِبْسَتَيْنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْتَ مُفْضٍ فَرْجَكَ إِلَى السَّمَاءِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade two kinds of dress: Ishtimalus-Samma’ and Ihtiba’ in one garment, when you are exposing your private part to the sky.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے، اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ تم اپنی شرمگاہ کو آسمان کی طرف کھولے رہو۔
13حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي يَا بُنَىَّ لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ .
It was narrated from Abu Burdah that his father said to him:“O my son, if only you could have seen us when we were with the Messenger of Allah (ﷺ), when rain fell on us; you would have thought that we smelled like sheep.”
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔
14حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ مِنْ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَصَلَّى بِنَا فِيهَا لَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ غَيْرُهَا .
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us one day, wearing a Roman cloak of wool with narrow sleeves. He led us in prayer wearing that, and nothing else.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا بنا ہوا تنگ آستین والا رومی جبہ پہنے ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسی میں ہمیں نماز پڑھائی، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور لباس نہ تھا۔
15حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ، حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ .
It was narrated from Salman Farisi that the Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution, then he turned his woolen cloak that he was wearing inside out and wiped his face with it
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر اون والے جبہ کو جو آپ پہنے ہوئے تھے الٹ دیا، اور اس سے اپنا چہرہ پونچھا۔
16حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسِمُ غَنَمًا فِي آذَانِهَا وَرَأَيْتُهُ مُتَّزِرًا بِكِسَاءٍ .
It was narrated that Anas bin Malik said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) marking sheep on their ears, and I saw him wearing a cloak around his wrist.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے کانوں میں داغتے دیکھا، اور میں نے آپ کو چادر کا تہبند پہنے دیکھا۔
17حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of your garments are the white ones, so wear them and shroud your dead in them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید کپڑے ہیں، لہٰذا انہیں کو پہنو اور اپنے مردوں کو انہیں میں کفناؤ ۔
18حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَسُوا ثِيَابَ الْبَيَاضِ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ " .
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Wear white garments, for they are purer and better.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں ۔
19حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ بِهِ فِي قُبُورِكُمْ وَمَسَاجِدِكُمُ الْبَيَاضُ " .
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of that in which you visit Allah in your graves and your mosque is white (garments).”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے ۔
20حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever lets his garment drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کپڑے فخر و غرور سے گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا ۔
21حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ بِالْبَلاَطِ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ وَأَشَارَ إِلَى أُذُنَيْهِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
It was narrated from ‘Atiyyah, that Abu Sa’eed said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever lets his lower wrap drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.” He ( ‘Atiyyah) said "I met Ibn 'Umar in Al-Balaat so I mentioned Abu Sa'eed's hadith from the Prophet (ﷺ). So he said and pointed to his ears 'My two ears heard it, and my heart preserved it
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
22حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّ سَبَلَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ له يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that a young man of Quriash passed by Abu Hurairah with his cloak dragging. He said:“O my nephew! I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying ‘Whoever let his garment drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
23حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَسْفَلِ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ " هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ . فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ .
It was narrated that Hudhaifah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of the lower part of my calf or his calf and said: ‘This is where the lower wrap should come to. If you insist, then lower, and if you insist, then lower, but the lower wrap has no right to (come to) the ankle.’”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
24حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَيْئًا فِي الإِزَارِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ " . يَقُولُ ثَلاَثًا " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
It was narrated from ‘Ala bin ‘Abdur-Rahman that his father said:“I said to Abu Sa’eed: ‘Did you hear anything from the Messenger of Allah (ﷺ) concerning the lower wrap?’ He said: ‘Yes. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The lower wrap of the believer should come to mid-calf, but there is no sin on him if it comes between that point and the ankle. But whatever is lower than the ankle is in the Fire.’ And he said three times: ‘Allah will not look at the one who lets his lower wrap drag out of vanity.’”
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے ۔
25حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ لاَ تُسْبِلْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " .
It was narrated from Mughirah bin Shu’bah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Sufyan bin Sahl, do not let your garment hang, for Allah does not like those who let their garments hang below the ankles.’”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفیان بن سہل! ( ٹخنہ کے نیچے ) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
26حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الْقَمِيصِ .
It was narrated that Umm Salamah said:There was no garment more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than the shirt.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ( قمیص ) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔
27حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَغْرَبَهُ .
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“Hanging down may apply to the waist wrap, shirt or turban. Whoever lets any of these drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسبال»: تہبند، کرتے ( قمیص ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۱؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے
28حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَلْبَسُ قَمِيصًا قَصِيرَ الْيَدَيْنِ وَالطُّولِ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to wear a shirt that was short in the sleeves and length.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے جس کی آستین چھوٹی اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔
29حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَبَايَعْتُهُ وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ . قَالَ عُرْوَةُ فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلاَ ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلاَ صَيْفٍ إِلاَّ مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا .
Mu’awiyah bin Qurrah narrated that his father said:“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and gave him my pledge, and the buttons of his shirt were undone.”
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں ( بٹن ) کھولے دیکھا ۱؎۔
30حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ .
It was narrated that Suwaid bin Qais said:“The Prophet (ﷺ) came to us and haggled with us over the price of trousers.”
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہم سے پاجامے کا مول بھاؤ ( سودا ) کیا۔
31حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا قَالَ " شِبْرًا " . قُلْتُ إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا . قَالَ ذِرَاعٌ لاَ تَزِيدُ عَلَيْهِ " .
It was narrated that Umm Salamah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about how long a woman’s hem should hang down. He said: ‘A hand span.’ I said: ‘But then (her legs and feet) will be uncovered.’ He said: ‘Then a forearm’s length, but no more than that.’”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں ۔
32حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ رُخِّصَ لَهُنَّ فِي الذَّيْلِ ذِرَاعًا فَكُنَّ يَأْتِيَنَّا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ بِالْقَصَبِ ذِرَاعًا .
It was narrated from Ibn ‘Umar:“The wives of the Prophet (ﷺ) were allowed to let their hems hang down, so they used to come to us and we would measure one forearms length for them with a reed.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے۔
33حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لِفَاطِمَةَ أَوْ لأُمِّ سَلَمَةَ " ذَيْلُكِ ذِرَاعٌ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said to Fatimah, or to Umm Salamah:“Let your hem down one forearm’s length.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو ۔
34حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ " شِبْرًا " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذًا تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ . قَالَ " فَذِرَاعٌ " .
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said, concerning how long a woman’s hem should hang down:“A hand span.” ‘Aishah said: “This may show her calves.” He said: “Then a forearm’s length.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔
35حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
It was narrated from Ja’far bin ‘Amr bin Huraith that his father said:“I saw the Prophet (ﷺ) delivering a sermon on the pulpit, wearing a black turban.”
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
36حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) entered Makkah wearing a black turban
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے دن ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
37حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) entered (Makkah), on the Day of the Conquest of Makkah, wearing a black turban
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
38حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ .
Ja’far bin ‘Amr bin Huraith narrated that his father said:“It is as if I can see the Messenger of Allah (ﷺ), wearing a black turban, with the ends hanging down his shoulders.”
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں
39حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wears silk in this world will not wear it in the Hereafter.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔
40حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالإِسْتَبْرَقِ .
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade brocade, silk, and embroidered brocade.”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) دیباج، حریر اور استبرق ( موٹا ریشمی کپڑا ) پہننے سے منع کیا ۱؎۔
41حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَقَالَ " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated that Hudhaifah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade wearing silk and gold. He said: ‘They are for them in this world and for us in the Hereafter.’”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔
42حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that ‘Umar bin Khattab saw a silken two piece suit (being offered for sale). He said:“O Messenger of Allah, why don’t you buy this two piece suit (to wear for meeting) the delegations, and on Fridays?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This is only worn by one who has no share in the Hereafter.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
43حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، . أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، نَبَّأَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) granted a concession to Zubair bin ‘Awwam and ‘Abdur-Rahman bin ‘Auf, allowing them to wear silk shirts, because of a rash they were suffering from
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔
44حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، إِلاَّ مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ الثَّانِيَةِ ثُمَّ الثَّالِثَةِ ثُمَّ الرَّابِعَةِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَانَا عَنْهُ .
It was narrated from ‘Umar that he used to forbid silk and brocade, except for what was like this:Then he gestured with his finger, then a second, and a third, and a fourth (i.e., the width of four fingers), and he said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid it.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے ( حریر و دیباج ) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ۱؎ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔
45حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ يَا جَارِيَةُ هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ وَالْجَيْبِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ .
It was narrated that Abu ‘Umar, the freed slave of Asma’, said:“I saw Ibn ‘Umar buying a turban that had some markings, then he called for a pair of scissors and cut that off. I entered upon Asma’ and mentioned that to her, and she said: ‘May ‘Abdullah perish, O girl! Give me the garment of the Messenger of Allah (ﷺ).’ A garment was brought that was hemmed with brocade on the sleeves, necklines and openings (at the front and back).”
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، ( ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا: ) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔
46حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي الأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ فَقَالَ " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
‘Ali bin Abu Talib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of some silk in his left hand and some gold in his right, then he raised his hands and said: ‘These two are forbidden for the males of my nation, and permitted to the females.’”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
47حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِي هُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ إِمَّا سَدَاؤُهَا وَإِمَّا لُحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا قَالَ " لاَ وَلَكِنِ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " .
It was narrated from ‘Ali that a two-piece suit hemmed with silk, either on the wrap or the weft,* was given to the Messenger of Allah (ﷺ), and he sent them to me (‘Ali). I came to him and said:“O Messenger of Allah, what should I do with these? Shall I wear them?” He said: “No, rather make them into head-cloths and give them to the Fatimahs.”
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی ( جوڑا ) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو ۱؎۔
48حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ وَفِي الأُخْرَى ذَهَبٌ فَقَالَ " إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us, and in one of his hands was a garment of silk and in the other was some gold. He said: ‘These are forbidden to the males of my nation and permitted to the females.’”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
49حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ .
It was narrated that Anas said:“I saw Zainab the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) wearing a shirt of Siyara’ silk
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔
50حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَجْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُتَرَجِّلاً فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ .
It was narrated that Bara’ said:“I never saw anyone more handsome then the Messenger of Allah (ﷺ), with his hair combed, wearing a red two-piece suit.”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا
51حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَالَ " صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ} رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ " . ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ .
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet (ﷺ) stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: “Allah and His Messenger have spoken the truth. ‘Your wealth and your children are only a trial.’ [64:15] I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔
52حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمُفَدَّمِ . قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُفَدَّمُ قَالَ الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Al-Mufaddam.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔
53حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ - عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Hunain said:“I heard ‘Ali say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me – and I do not say that he forbade you – from wearing clothes dyed with safflower.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔
54حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَالْتَفَتَ إِلَىَّ وَعَلَىَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ فَقَالَ " مَا هَذِهِ " . فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ " يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ " . فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " أَلاَ كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ " .
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:“We came with the Messenger of Allah (ﷺ) was Thaniyyat Adhakhir. He turned to me, and I was wearing a thin cloak dyed with safflower, and said: ‘What is this?’ And I realized that he disliked it. I came to my family when they were heating their oven and threw it (in the oven). Then I came to him the following day and he said: ‘O ‘Abdullah, what happened to the thin cloak?’ I told him (what I had done) and he said: ‘Why did you not give it to some of your family to wear, for there is nothing wrong with it for women.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ۔
55حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً يَتَبَرَّدُ بِهِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ .
It was narrated that Qais bin Sa’d said:“The Prophet (ﷺ) came to us and we gave him some water with which to cool down. He bathed, then I brought him a yellow blanket, and I saw the traces of Wars (the yellow dye) on the folds of his stomach.”
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، ( اس کو آپ نے پہنا ) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ۱؎۔
56حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ أَوْ مَخِيلَةٌ " .
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Eat and drink, give charity and wear clothes, as long as that does not involve any extravagance or vanity.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر ( فضول خرچی اور گھمنڈ ) کی ملاوٹ نہ ہو ۱؎۔
57حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ " .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will clothe him, on the Day of Resurrection, in a garment of humiliation.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔
58حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا " .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wears a garment of pride and vanity in this world, Allah will clothe him in a garment of humiliation on the Day of Resurrection, then set it ablaze.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔
59حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ مُحْرِزٍ النَّاجِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَهْمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى يَضَعَهُ مَتَى وَضَعَهُ " .
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will turn away from him until he takes it off.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے ( یعنی جہنم میں ) ۔
60حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Any skin that has been tanned has been purified.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے ۱؎۔
61حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ شَاةً، لِمَوْلاَةِ مَيْمُونَةَ مَرَّ بِهَا - يَعْنِي النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً فَقَالَ " هَلاَّ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ . قَالَ " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
It was narrated from Maimunah that he (meaning the Prophet (ﷺ)) passed by a dead sheep belonging to the freed slave woman of Maimunah, that had been given to her in charity. He said:“Why don’t they take its skin and ten it, and make us of it?” They said: “O Messenger of Allah, it is dead meat.”* He said: “It is only unlawful to eat it.”
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ۱؎۔
62حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَيْهَا فَقَالَ " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " .
It was narrated that Salman said:“One of the Mothers of the Believers had a sheep that died. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by it and said: ‘It would not have harmed its owners if they had made use of its hide.’”
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
63حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that use should be made of the skins of dead animals, if they were tanned.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔
64حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنْ لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Ukaym said:“There came to us a letter from the Prophet (ﷺ) (saying): ‘No not make use of the untanned skin and sinew of dead animals.’”
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔
65حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قِبَالاَنِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas said:“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs doubled around their straps.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔
66حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قِبَالاَنِ .
It was narrated that Anas said:“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔
67حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When anyone of you puts on his sandals, let him start with the right, and when he takes them off, let him start with the left.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے ۔
68حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ وَلاَ خُفٍّ وَاحِدٍ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said; “None of you should walk in one sandal or in one leather sock. Let him take them both off or walk in both of them.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ۱؎۔
69حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade putting on sandals whilst standing.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا
70حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Prophet (ﷺ) forbade putting on sandals whilst standing.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔
71حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خُفَّيْنِ سَاذَجَيْنِ أَسْوَدَيْنِ فَلَبِسَهُمَا .
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that an-Najashi sent a pair of pure black Khuff as a gift to the Prophet (ﷺ) of, which he wore
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔
72حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُخْبِرَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
It was narrated that Abu Hurairah attributed to the Prophet (ﷺ):“The Jews and the Christians do not dye (their hair), so differ from them.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو ( یعنی خضاب لگاؤ ) ۔
73حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best things with which you change gray hair are henna and Katam.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ۱؎۔
74حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ فَأَخْرَجَتْ إِلَىَّ شَعَرًا مِنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ .
It was narrated that ‘Uthman bin Mawhab said:“I entered upon Umm Salamah and she brought out for me a hair of the Messenger of Allah (ﷺ), which was dyed with henna and Katam.”
عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔
75حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " .
It was narrated from Jabir that he said:“Abu Quhaifah was brought to the Prophet (ﷺ) on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے ( یعنی خضاب لگا دے ) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ۱؎۔
76حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، صُهَيْبِ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ " .
It was narrated that Suhaib Al-Khair said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies.’”
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔
77حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ .
It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij asked Ibn ‘Umar:“I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) dyeing his beard yellow.”
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد ( پیلی ) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد ( پیلی ) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد ( پیلی ) کرتے دیکھا۔
78حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ " مَا أَحْسَنَ هَذَا " . ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ فَقَالَ " هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " . ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ " هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ " . قَالَ وَكَانَ طَاوُسٌ يُصَفِّرُ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) passed by a man who had dyed his hair with henna and said: ‘How handsome this is!’ Then he passed by another who had dyed his hair with henna and Katam, and said: ‘This one is more handsome than that one.’ Then he passed by another who had dyed his hair yellow and said: ‘This one is more handsome than all of them.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم ( وسمہ ) کا خضاب لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے
79حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءُ . يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ .
It was narrated that Abu Juhaifah said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and this part of his hair was white” – meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔
80حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلاَّ نَحْوَ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ شَعَرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ .
It was narrated that Humaid said:“Anas bin Malik was asked: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) dye his hair?’ He said: ‘He did not have any white hair apart from approximately seventeen or twenty hairs at the front of his beard.’”
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔
81حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَ عِشْرِينَ شَعَرَةً .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The white hair of the Prophet (ﷺ) numbered approximately twenty.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑھاپا تقریباً ً بیس بال کا تھا ۱؎۔
82حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ . تَعْنِي ضَفَائِرَ .
It was narrated that Mujahid said:“Umm Hani said: ‘When the Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah he had four braids.’”
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے روز ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔
83حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرِقُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ . قَالَ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The People of the Book used to let their hair hang down, and the idolaters used to part their hair. The Messenger of Allah (ﷺ) liked to be more like the People of the Book. So the Messenger of Allah (ﷺ) let his forelock hang down, then after that he parted it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے
84حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَفْرِقُ خَلْفَ يَافُوخِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ أَسْدِلُ نَاصِيَتَهُ .
It was narrated that ‘Aishah said:“I used to part the hair of the Messenger of Allah (ﷺ) behind his crown, and let his forelock hang down.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔
85حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَعَرًا رَجِلاً بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ
It was narrated that Anas said:“The hair of the Messenger of Allah (ﷺ) was wavy, and (hung down) between his ears and his shoulders.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال دونوں کانوں اور مونڈھوں کے درمیان سیدھے تھے ۱؎۔
86حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَعَرٌ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ.
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) had hair that came between his earlobes and his shoulders.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔
87حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَآنِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلِي شَعَرٌ طَوِيلٌ فَقَالَ " ذُبَابٌ ذُبَابٌ " . فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُهُ فَرَآنِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ " .
It was narrated that Wa’il bin Hujr said:“The Prophet (ﷺ) saw me when I had long hair. He said: ‘Bad news, bad news!’ So I went away and cut it short. Then the Prophet (ﷺ) saw me and said: ‘I did not mean you, but this is better.’”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ۱؎۔
88حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهُ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقَزَعِ . قَالَ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ وَيُتْرَكَ مَكَانٌ .
It was narrated from Nafi’ that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Qaza’.” He (Nafi’) said: “What is Qaza’?” He said: “It means shaving part of a child’s head and leaving another part.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: «قزع» کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے «قزع» کہتے ہیں۔
89حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقَزَعِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Qaza’.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔
90حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا " .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) ‘Muhammad Rasul Allah’ (Muhammad the Messenger of Allah). And he said: ‘No one should have his ring engraved like this ring of mine.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں «محمد رسول الله» نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ۱؎۔
91حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَاتَمًا فَقَالَ " إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلاَ يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) had a ring made for him, and he said: ‘I have had a ring made for me and had it engraved, and no one should make a ring with similar engraving.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ۱؎۔
92حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription:‘Muhammad Rasul Allah’ (Muhammad the Messenger of Allah).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں «محمد رسول الله» کا نقش تھا۔
93حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، مَوْلَى عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ .
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade wearing gold rings.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
94حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade gold rings.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ( پہننے ) سے منع فرمایا۔
95حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَلْقَةً فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعُودٍ وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا ابْنَةَ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ " تَحَلَّىْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ " .
It was narrated that ‘Aishah the Mother of the Believers said:“Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ). Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah (ﷺ) picked it up with a stick – as if he found it distasteful – or with one of his fingers, then he called for his daughter, Umamah bint Abul-‘As, and said: ‘Wear this, O my daughter.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
96حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to wear (his ring) with the stone nearest his palm
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔
97حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to ear the stone in towards his palm
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔
98حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ .
It was narrated from ‘Abdullah bin Ja’far that the Prophet (ﷺ) used to wear a ring on his right hand
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۱؎۔
99حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ .
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me to wear a ring on this and on this,” meaning the little finger and the thumb
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ۱؎۔
100حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ " .
It was narrated from Abu Talhah that the Prophet (ﷺ) said:“The angels do not enter a house in which there is a dog or an image.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ۱؎۔
101حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ " .
It was narrated from ‘Ali bin Abu Talib that the Prophet (ﷺ) said:“The angels do not enter a house in which there is a dog or an image.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ۱؎۔
102حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ " . قَالَ إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا وَإِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ .
It was narrated that ‘Aishah said:“Jibril (as) promised the Messenger of Allah (ﷺ) that he would come to him at a certain hour, but he was late. The Prophet (ﷺ) went out and there was Jibril standing at the door. He said: ‘What kept you from entering?’ He said: ‘There is a dog in the house, and we do not enter a house in which there is a dog or an image.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ فرمایا: گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں ۔
103حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ زَوْجَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تُصَوِّرَ فِي بَيْتِهَا نَخْلَةً فَمَنَعَهَا أَوْ نَهَاهَا .
It was narrated from Abu Umamah that a woman came to the Prophet (ﷺ) and told him that her husband was away on some military campaign. She asked him for permission to make an image of a palm tree in her house, and he did not let her, or he forbade her
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا۔
104حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي - تَعْنِي الدَّاخِلَ - بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَتَكَهُ فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا .
It was narrated that ‘Aishah said:“I covered a small room closet of mine, meaning, from the inside, with a curtain on which there were images. When the Prophet (ﷺ) came, he tore it down, so I made two pillows from it, and I saw the Prophet (ﷺ) reclining on one of them.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔
105حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ يَعْنِي الْحَمْرَاءَ .
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade rings of gold and Al-Mitharah,”* meaning the red ones
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے اور گدے استعمال کرنے سے منع فرمایا یعنی سرخ ریشمی گدے زین پوش
106حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ، صَاحِبَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ .
It was narrated that ‘Amir Al-Hajri said:“I heard Abu Raihanah, the Companion of the Prophet (ﷺ) say: ‘The Prophet (ﷺ) used to forbid riding on leopard skins.’”
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے۔
107حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ .
It was narrated that Mu’awiyah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid riding on leopard skins.”
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎۔